حسن پر شاعری

ہم حسن کو دیکھ سکتے ہیں ،محسوس کرسکتے ہیں اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں لیکن اس کا بیان آسان نہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب حسن دیکھ کر پیدا ہونے والے آپ کے احساسات کی تصویر گری ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ شاعروں نے کتنے اچھوتے اور نئے نئے ڈھنگ سے حسن اور اس کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ۔ ہمارا یہ انتخاب آپ کو حسن کو ایک بڑے اور کشادہ کینوس پر دیکھنے کا اہل بھی بنائے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور حسن پرستوں میں عام کیجئے ۔

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں

دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو

تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

منور رانا

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں

شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

where in this world does ones beloved's beauty not reside

if the zeal for sight you have, the vision too provide

امیر مینائی

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

افتخار نسیم

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا

جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

بشیر بدر

اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا

کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

جگر مراد آبادی

عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے

حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے

love is needlessly defamed that for vision it is keen

beauty is impatient too for its splendour to be seen

love is needlessly defamed that for vision it is keen

beauty is impatient too for its splendour to be seen

اسرار الحق مجاز

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت

ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

حیدر علی آتش

نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے

محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے

عادل فاروقی

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

کیف بھوپالی

عجب تیری ہے اے محبوب صورت

نظر سے گر گئے سب خوب صورت

حیدر علی آتش

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

فراق گورکھپوری

نہ پاک ہوگا کبھی حسن و عشق کا جھگڑا

وہ قصہ ہے یہ کہ جس کا کوئی گواہ نہیں

حیدر علی آتش

الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں

کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

اکبر الہ آبادی

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن

زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

جگر مراد آبادی

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

عالمگیر خان کیف

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

علامہ اقبال

تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں

محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

ساحر لدھیانوی

اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن

دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

قتیل شفائی

بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام

مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

بشیر بدر

حسن اک دل ربا حکومت ہے

عشق اک قدرتی غلامی ہے

عبد الحمید عدم

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

فراق گورکھپوری

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

فرحت احساس

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے

تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے

کیف بھوپالی

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

عزیز لکھنوی

جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم

اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

احمد ندیم قاسمی

تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ

لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

احمد فراز

ہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤ

کہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو

بہادر شاہ ظفر

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

میر تقی میر

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

منیر نیازی

حسن کو شرمسار کرنا ہی

عشق کا انتقام ہوتا ہے

اسرار الحق مجاز

کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں

وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں

فرحت احساس

کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو

کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں

ساغرؔ اعظمی

حسن آفت نہیں تو پھر کیا ہے

تو قیامت نہیں تو پھر کیا ہے

جلیل مانک پوری

تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاں

یہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاں

لالہ مادھو رام جوہر

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

why didn't I turn to ashes seeing her face so glowing, bright

by envy now I am inflamed, at strength of my own sight

why didn't I turn to ashes seeing her face so glowing, bright

by envy now I am inflamed, at strength of my own sight

مرزا غالب

تمہارا حسن آرائش تمہاری سادگی زیور

تمہیں کوئی ضرورت ہی نہیں بننے سنورنے کی

اثر لکھنوی

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر

پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

جگر مراد آبادی

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

فراق گورکھپوری

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ

مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخی

سمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں

کالی داس گپتا رضا

گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے

رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

میر تقی میر

آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے

مل گیا حسن بے مثال ہمیں

بیخود دہلوی

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے

ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

جگر مراد آبادی

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جلیل مانک پوری

اب تو تیرے حسن کی ہر انجمن میں دھوم ہے

جس نے میرا حال دیکھا تیرا دیوانہ ہوا

جمیل یوسف

یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمال

انساں کرے اگر نہ تری چاہ کیا کرے

this loveliness, this mischief, this style this beauty too

what can a person do save fall in love with you

this loveliness, this mischief, this style this beauty too

what can a person do save fall in love with you

اکبر الہ آبادی

آپ کیا آئے کہ رخصت سب اندھیرے ہو گئے

اس قدر گھر میں کبھی بھی روشنی دیکھی نہ تھی

حکیم ناصر