یاد پر شاعری

یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی

بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

منیر نیازی

آفت جاں ہوئی اس روئے کتابی کی یاد

راس آیا نہ مجھے حافظ قرآں ہونا

حیدر علی آتش

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

رسا چغتائی

آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئی

ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

جگر مراد آبادی

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر

جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

احمد فراز

آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ

سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

خالد شریف

آج کیا لوٹتے لمحات میسر آئے

یاد تم اپنی عنایات سے بڑھ کر آئے

راجیندر منچندا بانی

آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا

آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

اقبال اشہر

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

مخدومؔ محی الدین

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض

آتے آتے آئے گا ان کو خیال

جاتے جاتے بے خیالی جائے گی

جلیل مانک پوری

آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد

کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

داغؔ دہلوی

اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ

ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھا

اختر امام رضوی

اب جی میں ہے کہ ان کو بھلا کر ہی دیکھ لیں

وہ بار بار یاد جو آئیں تو کیا کریں

اختر شیرانی

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے

غالباً میں کسی کو بھول گیا

جون ایلیا

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

nowadays even her thoughts do not intrude

see how forlorn and lonely is my solitude

فراق گورکھپوری

اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں

کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

حلیم قریشی

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے

وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

احمد مشتاق

ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا

ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

ادا جعفری

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

انور شعور

اجملؔ سراج ہم اسے بھول ہوئے تو ہیں

کیا جانے کیا کریں گے اگر یاد آ گیا

اجمل سراج

اکیلا پا کے مجھ کو یاد ان کی آ تو جاتی ہے

مگر پھر لوٹ کر جاتی نہیں میں کیسے سو جاؤں

انور مرزاپوری

امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں

کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

امیر مینائی

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی

وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

عبد الاحد ساز

بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوں

گئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئے

احمد مشتاق

برسوں ہوئے نہ تم نے کیا بھول کر بھی یاد

وعدے کی طرح ہم بھی فراموش ہو گئے

جلیل مانک پوری

بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں

کوئی خیال کسی یاد کے حصار میں ہے

خالدہ عظمی

بھول گئی وہ شکل بھی آخر

کب تک یاد کوئی رہتا ہے

احمد مشتاق

بھلا بیٹھے ہو ہم کو آج لیکن یہ سمجھ لینا

بہت پچھتاؤ گے جس وقت ہم کل یاد آئیں گے

اختر شیرانی

بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں

تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

حفیظ جالندھری

بھلانا ہمارا مبارک مبارک

مگر شرط یہ ہے نہ یاد آئیے گا

جگر مراد آبادی

بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی

آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی

فضیل جعفری

بجلی چمکی تو ابر رویا

یاد آ گئی کیا ہنسی کسی کی

گویا فقیر محمد

چمک رہے تھے اندھیرے میں سوچ کے جگنو

میں اپنی یاد کے خیمے میں سو نہیں پایا

خالد ملک ساحل

چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ

مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میں

درد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے

جمال پانی پتی

دیکھیے اب نہ یاد آئیے آپ

آج کل آپ سے خفا ہوں میں

امۃ الرؤف نسرین

ڈھلے گی شام جہاں کچھ نظر نہ آئے گا

پھر اس کے بعد بہت یاد گھر کی آئے گی

راجیندر منچندا بانی

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

ناصر کاظمی

دل ہے کہ تری یاد سے خالی نہیں رہتا

شاید ہی کبھی میں نے تجھے یاد کیا ہو

زیب غوری

دل جو ٹوٹا ہے تو پھر یاد نہیں ہے کوئی

اس خرابے میں اب آباد نہیں ہے کوئی

سرفراز خالد

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا

جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

جوشؔ ملیح آبادی

دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا

وزیر علی صبا لکھنؤی

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

الطاف حسین حالی

دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا

جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے

ناصر کاظمی

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے

پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا

ناصر کاظمی

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

جگر مراد آبادی

دنیا میں ہیں کام بہت

مجھ کو اتنا یاد نہ آ

حفیظ ہوشیارپوری

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے

یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری

Added to your favorites

Removed from your favorites