Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Majid Siddiqui's Photo'

ماجد صدیقی

1938 - 2015 | چکوال, پاکستان

ماجد صدیقی کے اشعار

کون اپنا ہے اک خدا وہ بھی

رہنے والا ہے آسمانوں کا

یہ سفر اپنا کہیں جانب محشر ہی نہ ہو

ہم لیے کس کا جنازہ ہیں یہ گھر سے نکلے

تہمت سی لیے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے

رسوا ہے بہت نام یہاں اہل ہنر کا

ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا

یہ بات اور ہے جاری تھا جو سفر نہ رہا

جذبوں کو زبان دے رہا ہوں

میں وقت کو دان دے رہا ہوں

سامنے اس یار کے بھی اور سر دربار بھی

ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا

Recitation

بولیے