Midhat-ul-Akhtar's Photo'

مدحت الاختر

1945 - | اورنگ آباد, ہندوستان

آنکھیں ہیں مگر خواب سے محروم ہیں مدحتؔ

تصویر کا رشتہ نہیں رنگوں سے ذرا بھی

تم مل گئے تو کوئی گلہ اب نہیں رہا

میں اپنی زندگی سے خفا اب نہیں رہا

تو سمجھتا ہے مجھے حرف مکرر لیکن

میں صحیفہ ہوں ترے دل پہ اترنے والا

تیری اوقات ہی کیا مدحت الاختر سن لے

شہر کے شہر زمینوں کے تلے دب گئے ہیں

جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا

جسم اس کی گود میں ہو روح تیرے رو بہ رو

فاحشہ کے گرم بستر پر ریاکاری کروں

  • شیئر کیجیے

خوابوں کی تجارت میں یہی ایک کمی ہے

چلتی ہے دکاں خوب کمائی نہیں دیتی

لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی

دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

مرے وجود میں شامل رہے ہیں کتنے وجود

تو پھر یہ کیسے کہوں جو کیا کیا میں نے

میں نے ساحل سے اسے ڈوبتے دیکھا تھا فقط

مجھے غرقاب کرے گا یہی منظر اس کا

کوچ کرنے کی گھڑی ہے مگر اے ہم سفرو

ہم ادھر جا نہیں سکتے جدھر سب گئے ہیں

ہم کو اسی دیار کی مٹی ہوئی عزیز

نقشے میں جس کا نام پتہ اب نہیں رہا

Added to your favorites

Removed form your favorites