Mushafi Ghulam Hamdani's Photo'

مصحفی غلام ہمدانی

1751 - 1824 | امروہا, ہندوستان

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے بڑے شاعروں میں شامل، میرتقی میر کے ہم عصر

آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں

یا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں

آساں نہیں دریائے محبت سے گزرنا

یاں نوح کی کشتی کو بھی طوفان کا ڈر ہے

آستیں اس نے جو کہنی تک چڑھائی وقت صبح

آ رہی سارے بدن کی بے حجابی ہاتھ میں

  • شیئر کیجیے

ابھی آغاز محبت ہے کچھ اس کا انجام

تجھ کو معلوم ہے اے دیدۂ نم کیا ہوگا

  • شیئر کیجیے

اے کاش کوئی شمع کے لے جا کے مجھے پاس

یہ بات کہے اس سے کہ پروانہ ہے یہ بھی

  • شیئر کیجیے

اے مصحفیؔ تو ان سے محبت نہ کیجیو

ظالم غضب ہی ہوتی ہیں یہ دلی والیاں

  • شیئر کیجیے

اللہ رے تیرے سلسلۂ زلف کی کشش

جاتا ہے جی ادھر ہی کھنچا کائنات کا

  • شیئر کیجیے

بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے

کیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا

ایک نالے پہ ہے معاش اپنی

ہم غریبوں کی ہے یہی معراج

  • شیئر کیجیے

ہووے گی صبح روشن اک دم میں وصل کی شب

بند قبا کو اپنے ظالم نہ باز کرنا

اک دن تو لپٹ جائے تصور ہی سے تیرے

یہ بھی دل نامرد کو جرأت نہیں ملتی

  • شیئر کیجیے

اس رنگ سے اپنے گھر نہ جانا

دامن ترا خوں میں تر بہت ہے

اس واسطے فرقت میں جیتا مجھے رکھا ہے

یعنی میں تری صورت جب یاد کروں روؤں

کمر یار کے مذکور کو جانے دے میاں

تو قدم اس میں نہ رکھ راہ یہ باریک ہے دل

کوچۂ زلف میں پھرتا ہوں بھٹکتا کب کا

شب تاریک ہے اور ملتی نہیں راہ کہیں

  • شیئر کیجیے

معلوم نہیں مجھ کو کہ جاوے گا کدھر کو

یوں سینہ ترا چاک گریباں سے نکل کر

مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

اس کے جانے سے مرا دل ہے مرے سینے میں

دم کا مہمان چراغ سحری کی صورت

اس نے گالی مجھے دی ہو کے عتاب آلودہ

اور میں سادہ اسے لطف زبانی سمجھا

  • شیئر کیجیے

یہ کہہ کے بیٹھ رہوں ہوں جو اپنے گھر میں ذرا

تو دل کہے ہے یہ گھبرا کے ''میں تو جاتا ہوں''

Added to your favorites

Removed from your favorites