شارق جمال کے اشعار
مجھ کو اب کیسے پا سکے گا کوئی
وقت تھا اور گزر گیا ہوں میں
جانے یہ تو ہے ترا غم ہے کہ دل کی وحشت
جانب کوہ ندا کوئی بلاتا ہے مجھے
ابد کے دوش پہ سوئے ازل چلے ہیں کہ ہم
نیا ہی نقش کوئی دہر کا بناتے ہیں
-
موضوع : موت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ترے بدن میں ہیں کتنی قیامتیں پنہاں
بڑے شدید عذابوں میں قید رہتا ہوں
-
موضوع : وصال
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کچھ اس طرح سے فاش ہوا وہ کہ آئنہ
ہر عکس راز حسن و ادا تک پہنچ گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ