aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ishtiyaq"
عارف اشتیاق
born.1979
شاعر
اشتیاق احمد
مصنف
ناوک لکھنوی
اشتیاق دانش
born.1960
اشتیاق حسین قریشی
1903 - 1981
محمّد اشتیاق عالم
born.1987
مدثر اشتیاق
اشتیاق قریشی
سید اشتیاق علی غریب
فرحت اشتیاق
ولی اللہ سرہندی اشتیاق
اشتیاق احمد ظلی
سید اشتیاق عالم ضیا شاہبازی
اشتیاق احمد عاجز
born.1996
الف انصاری
born.1946
باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاقتجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے
سراب ہوں میں تری پیاس کیا بجھاؤں گیاس اشتیاق سے تشنہ زباں قریب نہ لا
میں ہوں کہ اشتیاق میں سر تا قدم نظروہ ہیں کہ اک نظر کی اجازت نہیں مجھے
نظیرؔ آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجےپھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے
تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو،
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔
इश्तियाक़اِشْتِیاق
عربی
شوق، آرزو، تمنا، عشق، محبت، خواہش
'इश्क़ियाعِشقِیَہ
عشق اور معاملات عشق سے تعلق رکھںے والا، عاشقانہ
इश्तिहाاِشْتِہا
کھانے کی خواہش، بھوک، گرسنگی
इश्तिकाاِشْتِکا
उलाहना देना, गिला करना।
بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ
دیگر
خدیجہ مستور کی ناول نگاری پر ایک نظر
ڈاکٹر اشتیاق عالم اعظمی
علماء میدان سیاست میں
تاریخ
وہ جو قرض ركهتے تهے
تمثیلی/ علامتی افسانے
سبز حروف کے شجر
نعت
کلیات عصری
شکار
اشتیاق علی علوی
شکاریات
دیار مغرب میں مہجری اردو ادب
تحقیق و تنقید
مولانا حسرت موہانی کا سلسلۂ سخن
اشتیاق اظہر
تحقیق
سفرنامہ کا فن اور شمالی ہند کے سفر نامے
محمد اشتیاق احمد شاکر
سفر نامہ
سید الاحرار
سوانح حیات
جنگل
سلطنت دھلی کا نظم حکومت
اندھیر نگری
افسانہ
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی
معین الدین عقیل
کیا تلخ کامیوں نے لب زخم سی دیئےوہ شور اشتیاق نمکداں نہیں رہا
ہاں کس کو سیر ارض و سما کا ہے اشتیاقدھونی پھر اس گلی میں رمائے ہوئے ہیں ہم
بس اشتیاق تکلم میں بارہا ہم لوگجواب دل میں زباں پر سوال رکھتے تھے
خط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواںافراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔجوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے
منزل کا اشتیاق ہے غم کردہ راہ ہوںاے شمع میں اسیر فریب نگاہ ہوں
اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کیمجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا
انہیں کو عرض وفا کا تھا اشتیاق بہتانہیں کو عرض وفا نا گوار گزری ہے
دیوانگی سے اپنی ہے اب ساری بات خبطافراط اشتیاق سے وہ مت نہیں رہی
نظروں میں اشتیاق نظر ہی نہیں رہاکس سے نظر ملاؤں تجھے دیکھنے کے بعد
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books