ویلنٹائن ڈے پر اشعار

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

مرزا غالب

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

فراق گورکھپوری

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

امیر مینائی

جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر

ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

اکبر الہ آبادی

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے

آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

داغؔ دہلوی

وصل کا دن اور اتنا مختصر

دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

امیر مینائی

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے

موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

قتیل شفائی

یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

جون ایلیا

عاشقی سے ملے گا اے زاہد

بندگی سے خدا نہیں ملتا

داغؔ دہلوی

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بشیر بدر

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ

نظام رامپوری

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

داغؔ دہلوی

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

نامعلوم

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

داغؔ دہلوی

نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف

ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ

آرزو لکھنوی

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

نامعلوم

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو

نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

امیر مینائی

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

امیر مینائی

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

فرحت احساس

میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں

وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا دیتا

افضل الہ آبادی

یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزا

میں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں

داغؔ دہلوی

تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو

آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ

شکیل بدایونی

جو دل رکھتے ہیں سینے میں وہ کافر ہو نہیں سکتے

محبت دین ہوتی ہے وفا ایمان ہوتی ہے

آرزو لکھنوی

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں

اس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

میر تقی میر

اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں

کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں

افتخار نسیم

دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو

بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو

جگر مراد آبادی

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

شکیب جلالی

کون سی بات ہے تم میں ایسی

اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

محسن نقوی

پھول ہی پھول یاد آتے ہیں

آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں

ساجد پریمی

پھول کھلے ہیں لکھا ہوا ہے توڑو مت

اور مچل کر جی کہتا ہے چھوڑو مت

عمیق حنفی

دل کا کیا حال کہوں صبح کو جب اس بت نے

لے کے انگڑائی کہا ناز سے ہم جاتے ہیں

داغؔ دہلوی

ایک محبت کافی ہے

باقی عمر اضافی ہے

محبوب خزاں

چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی

ظہیرؔ دہلوی

عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو

سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق

میر تقی میر

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا

پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر صدیقی

حضرت دل آپ ہیں کس دھیان میں

مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

داغؔ دہلوی

دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے

اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

فرحت احساس

ہمیشہ ہاتھوں میں ہوتے ہیں پھول ان کے لئے

کسی کو بھیج کے منگوانے تھوڑی ہوتے ہیں

انور شعور

محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے

بڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے

آرزو لکھنوی

کئی طرح کے تحائف پسند ہیں اس کو

مگر جو کام یہاں پھول سے نکلتا ہے

رانا عامر لیاقت

سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے

محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا

جاوید انور

دو تند ہواؤں پر بنیاد ہے طوفاں کی

یا تم نہ حسیں ہوتے یا میں نہ جواں ہوتا

آرزو لکھنوی

کچھ کہتے کہتے اشاروں میں شرما کے کسی کا رہ جانا

وہ میرا سمجھ کر کچھ کا کچھ جو کہنا نہ تھا سب کہہ جانا

آرزو لکھنوی

معرکہ ہے آج حسن و عشق کا

دیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں

داغؔ دہلوی

ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

دنیا کے کسی گوشے سے اسے مل جائے جواب تو اچھا ہو

غلام محمد قاصر

سینہ میں آباد ہمیشہ رہتی ہے

پہلی محبت یاد ہمیشہ رہتی ہے

نامعلوم

نگہ نکلی نہ دل کی چور زلف عنبریں نکلی

ادھر لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی

داغؔ دہلوی