aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rach-rach"
صفیہ راگ علوی
مصنف
Ramakant Rath
دفتر چراغ راہ، کراچی
ناشر
پورن چندر رتھ
مدیر
مکتبہ نئی راہ، ممبئی
انتشارات در راہ حق قم
مکتبہ چراغ راہ، لاہور
مکتبہ چراغ راہ، کراچی
نئی راہ پبلشنگ ہاؤس، حیدرآباد
مکتبہ نشان راہ، نئی دہلی
راش بہاری دت
مشعل راہ پبلیکیشنز، بجنور یوپی
مکتبہ راہ اسلام، دیوبند، یو۔ پی۔
ادارہ بزم خضر راہ، نئی دہلی
کرے گی اپنے ہاتھوں آج اپنا خون مشاطہبہت رچ رچ کے تلووں میں ترے مہندی لگاتی ہے
نیرنگیٔ قدرت کا وہی دید کرے ہےپانی کی طرح ہو جو ہر اک رنگ میں رچ رچ
جن کی ہلکی گہری تلخی خون میں رچ رچ جاتی ہےجزو حیات بنانے پڑے ہیں وہ اشعار میرؔ ہمیں
زندگی کی ظلمتیں اپنے لہو میں رچ گئیںتب کہیں جا کر ہمیں آنکھوں کی بینائی ملی
پہلے تو اک جھوٹے غم میں مٹ جانے کا ناٹک رچپھر دنیا کو جا جا کر بتلا تو کتنے دکھ میں ہے
پنجابی کی ایک بھرپور ادبی روایت ہے جسے ہم سب پسند کرتے ہیں۔ پنجابی کے سب سے مشہور شاعروں کی چند نظموں کا اردو ترجمہ یہاں دیا جا رہا ہے ۔ امید ہے کہ آپ کو پسند آئے گا۔
سفر شاعری میں ایک عام سفربھی ہے اورحرکت کا استعارہ بھی ۔ منزل کو پالینے کیلئے سفرہی بنیادی شرط ہے ۔ شاعروں نے سفرکی مشکلوں اوران کے نتیجےمیں حاصل ہونے والی خوشیوں کا الگ الگ ڈھنگ سے اظہارکیا ہے ۔ یہ شاعری زندگی کےمشکل لمحوں میں حوصلے کا ذریعہ بھی ہے۔
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
राहراح
عربی
شراب
राहراہ
فارسی
سل، چکّی وغیرہ کو کھونٹنے کا عمل.
रहرَہ
رستہ، گزرگاہ
रहرَح
عربھی کے فقرے (رحمۃ اللہ علیہ - اس پر خدا کی رحمت ہو) کا اختصار.
راگ راگ مٹی
عذرا پروین
شاعری
راگ رنگ
طالب دہلوی
Rag Virag
وطن کے راگ
حامد اللہ افسر
نئی راہ
ظل عباس عباسی
روهاڻي راه
چراغ راہ
نعیم صدیقی
شمع راہ
صفوۃ اللہ بیگ صوفی
نشان راہ
ادارہ ادب اسلامی ہند، آندھراپردیش
راگ کی آگ
رک جهولڻ تي
فردوس کی راہ
نسیم آرا
مجموعہ گلشن راگ جدید
لالہ جنگلی مل
راکھ
احتشام اختر
ناصر ملک
دھوپ میں ساتھ کھڑے ہونے والوں کی خوشبودل کے اندر رچ جاتی ہے
جب حق دل و دماغ میں بھرپور رچ گیامیرے قدم جہاں پڑے کہرام مچ گیا
دم بہ دم بجھتی ہی جاتی ہے نشاط دل کی جوترچ گیا ہے روح میں اک درد سا اب کیا کہوں
کوئی طویل عمر بھی یوں ہی جیا نسیمؔکوئی ذرا سی عمر میں اتہاس رچ گیا
پہلی نظر میں ہی مری نس نس میں رچ گیاکیا جانے اس کا کون سا انداز جچ گیا
ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکنمیں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن
آنسو کو دامن میں لے لوپھول کی خوشبو جائے رچ بس
انہیں کیا خبر مجھ میں رچ سے گئے ہوبچھڑ کر بھی مجھ سے ہو آہوں میں میری
ٹھان لی اس نے جب کچھ کر دکھلانے کیایک غزل تب رچ ڈالی پروانے کی
ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکنمیں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books