سفر پر ۲۰ مقبول اشعار

سفر شاعری میں ایک عام سفربھی ہے اورحرکت کا استعارہ بھی ۔ منزل کو پالینے کیلئے سفرہی بنیادی شرط ہے ۔ شاعروں نے سفرکی مشکلوں اوران کے نتیجےمیں حاصل ہونے والی خوشیوں کا الگ الگ ڈھنگ سے اظہارکیا ہے ۔ یہ شاعری زندگی کےمشکل لمحوں میں حوصلے کا ذریعہ بھی ہے۔

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

منیر نیازی
  • شیئر کیجیے

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں

رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں

ندا فاضلی
  • شیئر کیجیے

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی

ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی

راہی معصوم رضا
  • شیئر کیجیے

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا

مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا

جاوید اختر
  • شیئر کیجیے

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

رئیس امروہوی
  • شیئر کیجیے

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

عابد ادیب
  • شیئر کیجیے

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

ندا فاضلی
  • شیئر کیجیے

سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں

نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

فارغ بخاری
  • شیئر کیجیے

سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے

عادل رضا منصوری
  • شیئر کیجیے

سفر کے ساتھ سفر کے نئے مسائل تھے

گھروں کا ذکر تو رستے میں چھوٹ جاتا تھا

وسیم بریلوی
  • شیئر کیجیے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

حیدر علی آتش
  • شیئر کیجیے

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا

ساقی فاروقی
  • شیئر کیجیے

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر

سفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا

intent on returning

a journey is a journey so do not wait for me

intent on returning

a journey is a journey so do not wait for me

ساحل سحری نینیتالی
  • شیئر کیجیے

نئے سفر کی لذتوں سے جسم و جاں کو سر کرو

سفر میں ہوں گی برکتیں سفر کرو سفر کرو

مہتاب حیدر نقوی
  • شیئر کیجیے

کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ

سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

افتخار عارف
  • شیئر کیجیے

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

احمد فراز
  • شیئر کیجیے

ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کو

کتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہے

شہریار
  • شیئر کیجیے

یہ بد نصیبی نہیں ہے تو اور پھر کیا ہے

سفر اکیلے کیا ہم سفر کے ہوتے ہوئے

حسیب سوز
  • شیئر کیجیے

Added to your favorites

Removed from your favorites