ADVERTISEMENT

منزل پر اشعار

منزل کی تلاش وجستجو

اور منزل کو پا لینے کی خواہش ایک بنیادی انسانی خواہش ہے ۔ اسی کی تکمیل میں انسان ایک مسلسل اور کڑے سفر میں سرگرداں ہے لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ مل جانے والی منزل بھی آخری منزل نہیں ہوتی ۔ ایک منزل کے بعد نئی منزل تک پہنچنے کی آرزو اور ایک نئے سفر کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ منزل اور سفر کے حوالے سے اور بہت ساری حیران کر دینے والی صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

احمد فراز

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

علامہ اقبال
ADVERTISEMENT

جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے

آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

بشیر بدر

کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے

قصری کانپوری

صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

عبد الحمید عدم

فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل

ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

فیض احمد فیض
ADVERTISEMENT

وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں

سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

افتخار عارف

اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا

عمر بھر جس کا راستا دیکھا

ناصر کاظمی

سب کو پہنچا کے ان کی منزل پر

آپ رستے میں رہ گیا ہوں میں

عبد الحمید عدم

مجھے آ گیا یقیں سا کہ یہی ہے میری منزل

سر راہ جب کسی نے مجھے دفعتاً پکارا

شکیل بدایونی
ADVERTISEMENT

منزل ملی مراد ملی مدعا ملا

سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا

سیماب اکبرآبادی

کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ

زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو

فضیل جعفری

میری تقدیر میں منزل نہیں ہے

غبار کارواں ہے اور میں ہوں

نامعلوم

حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے

جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

مصحفی غلام ہمدانی
ADVERTISEMENT

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

بہزاد لکھنوی

نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل

سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے

فرحت ندیم ہمایوں

ایک منزل ہے مگر راہ کئی ہیں اظہرؔ

سوچنا یہ ہے کہ جاؤ گے کدھر سے پہلے

اظہر لکھنوی

محبت آپ ہی منزل ہے اپنی

نہ جانے حسن کیوں اترا رہا ہے

مظہر امام
ADVERTISEMENT

منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے

اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں

سیداحتشام حسین

راہ بر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں

چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا

آرزو لکھنوی

منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں

وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری

چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم

یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ

انور سدید
ADVERTISEMENT

مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی

میں کہ جب گرد سفر سے نکلا

اختر امام رضوی

کس منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہم

اے رہروان خاک بسر پوچھتے چلو

ساحر لدھیانوی