Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ترغیبی پر اشعار

ترغیبی شاعری زندگی کی

مشکل گھڑیوں میں ایک سہارے کےطور پرسامنےآتی ہے اوراسے پڑھ کرایک حوصلہ ملتا ہے ۔ یہ مشکل گھڑیاں عشق میں ہجرکی بھی ہوسکتی ہیں اورعام زندگی سے متعلق بھی ۔ یہ شاعری زندگی کے ان تمام مراحل سے گزرنے اورایک روشنی دریافت کرلینے کی قوت پیدا کرتی ہے۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

فیض احمد فیض

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض احمد فیض

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

ساحر لدھیانوی

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

بشیر بدر

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔

علامہ اقبال

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

Interpretation: Rekhta AI

اقبال کے ہاں “شاہیں” بلند ہمت اور خوددار انسان کی علامت ہے۔ قصرِ سلطانی کا گنبد آسائش، چاپلوسی اور اقتدار کے سائے میں جینے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ پہاڑوں کی چٹانیں آزادی، سخت کوشی اور بلندی کی نشان دہی کرتی ہیں۔ شعر کا پیغام یہ ہے کہ آسان سہولتوں کے بدلے اپنی خودی نہ بیچی جائے۔ جذبہ یہ ہے کہ آدمی باوقار اور خودمختار زندگی اختیار کرے۔

علامہ اقبال

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔

علامہ اقبال

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب نے رنج کو ایک کیفیتِ دل بنایا ہے کہ بار بار کا دکھ انسان کو پکا کر دیتا ہے۔ جب مصیبتیں مسلسل ملیں تو دل ان سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان کی شدت کم محسوس ہوتی ہے۔ اس شعر کا مرکز وہ حوصلہ ہے جو تکلیف سے گزر کر جنم لیتا ہے۔

مرزا غالب

جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا

کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا

EXPLANATION #1

اس شعر میں کئی تلازمات ایسے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وسیم بریلوی شعر میں معنی کے ساتھ کیفیت پیدا کرنے کے فن سے واقف ہیں۔ ’جہاں‘ کی مناسبت سے ’وہیں‘، اور ان دونوں کی رعایت سے ’مکاں‘، ’چراغ‘ کی مناسبت سے ’روشنی‘ اور اس سے بڑھ کر کسی، یہ سب ایسے تلازمات ہیں جن سے شعر میں معنی آفرینی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔

شعر کے معنیٔ قریب تو یہ ہوسکتے ہیں کہ چراغ اپنی روشنی سے کسی ایک مکاں کو روشن نہیں کرتا ہے، بلکہ جہاں جلتا ہے وہاں کی فضا کو منور کرتا ہے۔ اس شعر میں ایک لفظ ’مکاں‘مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ مکاں سے یہاں مراد محض کوئی خاص گھر نہیں بلکہ اسپیس ہے۔

اب آئیے شعر کے معنیٔ بعید پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دراصل شعر میں ’چراغ‘، ’روشنی‘ اور ’مکاں‘ کو استعاراتی حیثیت حاصل ہے۔ چراغ استعارہ ہے نیک اور بھلے آدمی کا، اس کی مناسبت سے روشنی استعارہ ہےنیکی اور بھلائی کا۔ اس طرح شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ نیک آدمی کسی خاص جگہ نیکی اور بھلائی پھیلانے کے لئے پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کا کوئی خاص مکان نہیں ہوتا اور یہ اسپیس کے تصور سے بہت آگے کے لوگ ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آدمی بھلا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بھلائی ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔

شفق سوپوری

وسیم بریلوی

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر ویرانی کو مستقل انجام نہیں مانتا بلکہ عارضی کیفیت سمجھتا ہے۔ “کشتِ ویراں” رک جانے والی زندگی/قوم کی علامت ہے اور “نمی” تربیت، محنت، رہنمائی یا ولولے کا استعارہ۔ ساقی کو مخاطب کر کے شاعر اسی زندگی بخش محرک کی طلب کرتا ہے۔ اصل جذبہ امید، خود اعتمادی اور پوشیدہ صلاحیت پر یقین ہے۔

علامہ اقبال

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں

وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

ساحر لدھیانوی

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

احمد فراز

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن

پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

ندا فاضلی

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال کے نزدیک غلامی صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی کیفیت بھی ہے، اس لیے محض طاقت یا منصوبہ بندی کافی نہیں۔ اصل استعارہ یہ ہے کہ زنجیریں بیرونی بندشیں ہیں اور ذوقِ یقین اندرونی بیداری۔ جب انسان کے اندر پختہ یقین اور جرات پیدا ہو جائے تو وہ خود اپنی قید کے اسباب توڑ دیتا ہے۔ آزادی کی کنجی باہر نہیں، باطن میں ہے۔

علامہ اقبال

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو

چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

ندا فاضلی

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

ندا فاضلی

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال کے نزدیک فتح کا راستہ ہتھیار نہیں بلکہ باطنی صفات ہیں: مضبوط یقین، پیہم کوشش اور وسیع محبت۔ “جہادِ زندگانی” سے مراد زندگی کا دائمی امتحان اور کشمکش ہے جس میں انسان خود کو سنوارتا ہے۔ شاعر ان اوصاف کو “شمشیریں” کہہ کر بتاتا ہے کہ اصل قوت کردار میں ہوتی ہے۔ یہ شعر حوصلہ، عمل اور امید کی تلقین کرتا ہے۔

علامہ اقبال

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں

ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

امیر مینائی

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

EXPLANATION #1

یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہوناوغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔ شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لئے اس پرچم کو بلند کرو۔

شفق سوپوری

اسرار الحق مجاز

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

Interpretation: Rekhta AI

شعر کا مرکزی خیال محاسبۂ نفس ہے: اپنی کیفیت سے بے خبری انسان کو دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے والا بنا دیتی ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی کوتاہیوں کو دیکھتا ہے تو اس میں انکساری آتی ہے اور عیب جوئی کا زہر کم ہو جاتا ہے۔ یوں نگاہ نرم ہو جاتی ہے اور دوسروں کے لیے دل میں گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر

کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتا

ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو

دشینت کمار

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

راحت اندوری

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

ندا فاضلی

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

Interpretation: Rekhta AI

اقبال کے نزدیک رہنما وہ ہے جس کے پاس بلند مقصد، نرم و مؤثر گفتگو اور اندرونی سوز ہو۔ ان صفات کو “رختِ سفر” کہہ کر بتایا گیا ہے کہ قیادت محض اختیار نہیں، مسلسل جدوجہد اور ذمہ داری کا سفر ہے۔ قافلے کی تمثیل اجتماعی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ایک فرد کے اخلاقی اوصاف سب کی سمت طے کرتے ہیں۔ اس شعر کی روح خودی، خلوص اور عمل کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

ندا فاضلی

اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے

کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عرفان صدیقی

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

محشر بدایونی

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

بشیر بدر

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

اصغر گونڈوی

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

امیر قزلباش

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بسمل عظیم آبادی

شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

ؔمرزا عظیم بیگ عظیم

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

جگر مراد آبادی

ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن

طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے

آل احمد سرور

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو

چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

مخدومؔ محی الدین

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

مجروح سلطانپوری

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

جگر مراد آبادی

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

Interpretation: Rekhta AI

میر تقی میر اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی میں غم اور خوشی دونوں حالتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آدمی کوئی ایسا کام کر جائے جو دیرپا اثر چھوڑے۔ “یاں سے چلو” میں رخصتِ حیات کا اشارہ ہے۔ شعر کا جذبہ ایک سنجیدہ نصیحت ہے: عارضی کیفیتوں سے آگے بڑھ کر یادگار عمل اختیار کرو۔

میر تقی میر

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

اکبر الہ آبادی

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے

جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے

شکیل اعظمی

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

Interpretation: Rekhta AI

اقبال یہاں جوانی کی اصل مردانگی کو “حق گوئی” اور “بیباکی” سے جوڑتے ہیں۔ “شیر” وقار، غیرت اور اخلاقی جرأت کی علامت ہے، جبکہ “روباہی” مصلحت پرست چالاکی اور بزدلی کا استعارہ۔ شعر کا جذبہ یہ ہے کہ اہلِ حق کو ڈر اور فریب نہیں سجتے، ان کی شان سچ اور دلیری ہے۔

علامہ اقبال

لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

امیر قزلباش

دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم

تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

بشیر بدر

رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ

کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے

عرفان صدیقی

ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو

ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے

اعجاز رحمانی

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

ابو المجاہد زاہد
بولیے