ADVERTISEMENT

مشہور مصرعے پر شعر

ایسے اشعار بھی کثیر

تعداد میں ہیں جن کا ایک ہی مصرعہ اتنا مشہور ہوا کہ زیادہ تر لوگ دوسرے مصرعے سے واقف ہی نہیں ہوتے ۔ ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ یہ مصرعہ سب کو یاد ہوگا لیکن مکمل شعر کم لوگ جانتے ہیں ۔ ہم نے ایسے مصرعوں کو مکمل شعر کی صورت میں جمع کیا ہے ۔ ہمیں امید ہے ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا ۔

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

مرزا غالب

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

میر تقی میر

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر درد
ADVERTISEMENT

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

میر طاہر علی رضوی

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

مرزا غالب

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

مرزا غالب
ADVERTISEMENT

سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد

سید غلام محمد مست کلکتوی

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

مہتاب رائے تاباں

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

میر تقی میر

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

میر حسن
ADVERTISEMENT

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

میاں داد خاں سیاح

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

داغؔ دہلوی

چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

فدوی لاہوری
ADVERTISEMENT

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

امیر مینائی

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

مومن خاں مومن

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

جلیل مانک پوری

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

مرزارضا برق ؔ
ADVERTISEMENT

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

قمر بدایونی

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

داغؔ دہلوی

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

میر تقی میر

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

امیر مینائی
ADVERTISEMENT

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

حیدر علی آتش

شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

ؔمرزا عظیم بیگ عظیم

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

شیخ ابراہیم ذوقؔ

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

شیخ ابراہیم ذوقؔ
ADVERTISEMENT

نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر

اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

لالہ مادھو رام جوہر

بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

الطاف حسین حالی

حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے

داغؔ دہلوی

شہر میں اپنے یہ لیلیٰ نے منادی کر دی

کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو

تراب کاکوروی
ADVERTISEMENT

آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

مرزا جواں بخت جہاں دار

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا

حیدر علی آتش

اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا

سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

نواب علی اصغر

بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

حیدر علی آتش

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار

خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

میر انیس

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

منشی خوش وقت علی خورشید