Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مشہور مصرعے پر اشعار

ایسے اشعار بھی کثیر

تعداد میں ہیں جن کا ایک ہی مصرعہ اتنا مشہور ہوا کہ زیادہ تر لوگ دوسرے مصرعے سے واقف ہی نہیں ہوتے ۔ ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ یہ مصرعہ سب کو یاد ہوگا لیکن مکمل شعر کم لوگ جانتے ہیں ۔ ہم نے ایسے مصرعوں کو مکمل شعر کی صورت میں جمع کیا ہے ۔ ہمیں امید ہے ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا ۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔

مرزا غالب

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر درد

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ اس کی کیفیتِ بے خودی محض اتفاق نہیں بلکہ کسی سبب کا نتیجہ ہے۔ “پردہ داری” سے مراد وہ راز، دکھ یا حقیقت ہے جسے زبان پر لانا ممکن نہیں، اس لیے اسے چھپایا جاتا ہے۔ یوں الجھن اور بے خودی خود اس چھپی ہوئی بات کی گواہی بن جاتی ہے۔ یہ شعر باطن کی تڑپ اور پوشیدہ درد کا اظہار ہے۔

مرزا غالب

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

میر طاہر علی رضوی

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

مہتاب رائے تاباں

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

Interpretation: Rekhta AI

میر تقی میر عشق کو ایک طویل اور کٹھن راہ کی طرح دکھاتے ہیں جہاں ابتدا ہی میں رونا کم ہمتی ہے۔ متکلم صبر اور حوصلے کی تلقین کرتا ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ آگے اور امتحان باقی ہیں۔ اس میں دلاسہ بھی ہے اور ہلکی سی چوٹ بھی کہ عشق کی قیمت وقت کے ساتھ کھلتی ہے۔

میر تقی میر

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

امیر مینائی

سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد

سید غلام محمد مست کلکتوی

عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر اپنی زندگی پر سخت خود ملامتی اور انجام کے خوف کا اعتراف ہے۔ “عشقِ بتاں” سے مراد وہ دلبستگیاں ہیں جو انسان کو ایمان سے ہٹا دیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساری عمر غلط سمت میں گزری تو موت کے وقت کی ظاہری نیکی کیا معنی رکھتی ہے۔ مرکزی کیفیت پچھتاوا اور اپنے آپ پر طنز ہے۔

مومن خاں مومن

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر رخصت کی نرمی اور جدائی کی بے یقینی بیان کرتا ہے۔ عاشق محبوب کے آستانے کو “بت کدہ” کہہ کر اپنی عقیدت بھی دکھاتا ہے اور اپنی بے بسی بھی۔ “اگر خدا لایا” میں امید بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کہ دوبارہ ملنا تقدیر اور مشیتِ الٰہی کے ہاتھ میں ہے۔

میر تقی میر

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

امیر مینائی

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

قمر بدایونی

شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

ؔمرزا عظیم بیگ عظیم

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

میر حسن

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب محبوب کے حسن کی یکتائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اگر تمہیں اپنے جیسا کوئی دیکھنا ہے تو اس کا واحد حل آئینہ ہے، کیونکہ تمہاری برابری صرف تمہارا عکس ہی کر سکتا ہے اور یہ منظر خود میں ایک تماشا ہے۔

مرزا غالب

چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

فدوی لاہوری

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

میاں داد خاں سیاح

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں حسرت اور طنز ساتھ چلتے ہیں: محبوب زندگی میں قدر نہیں کرتی، مگر مرنے کے بعد تعریفی جملہ کہہ دیتی ہے، وہ بھی رقیبوں کے سامنے۔ یہ تعریف تعزیت کی رسمی زبان میں ہے، مگر عاشق کے لیے چبھتی ہے کیونکہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مرکزی جذبہ یہ ہے کہ قدر شناسی بہت دیر سے اور بہت بے اثر ہو کر آتی ہے۔

داغؔ دہلوی

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

مرزارضا برق ؔ

آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی

پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو

مرزا جواں بخت جہاں دار

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

جلالؔ لکھنوی

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر جدائی کے لمحے کی حسرت اور ندامت بیان کرتا ہے۔ شاعر کو گمان نہ تھا کہ زندگی اتنی بے وفا ہے کہ کوئی پل بھر میں دنیا سے چلا جائے۔ محبوب/عزیز کی مہربانی بھی دیر سے پہنچی، اس لیے محبت تسلی دینے کے بجائے دکھ بڑھا دیتی ہے۔

داغؔ دہلوی

میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں مایوسی کے مقابلے میں شفقت بھرا مشورہ ہے کہ عمداً مر جانا کوئی سمجھ کی بات نہیں، کیونکہ اصل سرمایہ “جان” ہے۔ “جان ہے تو جہان ہے” میں جان کو بنیاد اور جہان کو اس کے نتیجے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ لہجہ پیار اور تسلی کا ہے: زندہ رہو گے تو امکانات، رشتے اور معنی سب پھر مل سکتے ہیں۔

میر تقی میر

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

حیدر علی آتش

اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا

سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

نواب علی اصغر

حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں داغؔ اپنی برتری اور وقار کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جہاں بیٹھ گئے وہاں گویا فیصلہ ہو گیا۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ محبوب کی محفل ایسی ہے کہ اس سے نئے لوگ بھی اُبھرتے رہیں گے۔ لہجے میں خوداعتمادی کے ساتھ ہلکی سی رقابت اور محفل کی زرخیزی کا اعتراف ہے۔

داغؔ دہلوی

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر نے عوامی رائے کے تقدس کو بیان کیا ہے۔ ذوقؔ کہتے ہیں کہ جس بات پر خلقِ خدا متفق ہو جائے، اس میں قدرت کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ یہ شعر مشہور مقولہ 'زبانِ خلق نقارۂ خدا' کی شعری تشریح ہے کہ لوگوں کی آواز کو خدا کی آواز ماننا چاہیے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر

اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

لالہ مادھو رام جوہر

شہر میں اپنے یہ لیلیٰ نے منادی کر دی

کوئی پتھر سے نہ مارے مرے دیوانے کو

تراب کاکوروی

بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

الطاف حسین حالی

لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا

حیدر علی آتش

بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

حیدر علی آتش

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار

خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

میر انیس

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

منشی خوش وقت علی خورشید
بولیے