زلف پر ۲۰ بہترین اشعار

شاعری میں زلف کا موضوع

بہت دراز رہا ہے ۔ کلاسیکی شاعری میں تو زلف کے موضوع کے تئیں شاعروں نے بے پناہ دلچسپی دکھائی ہے یہ زلف کہیں رات کی طوالت کا بیانیہ ہے تو کہیں اس کی تاریکی کا ۔اور اسے ایسی ایسی نادر تشبہیوں ، استعاروں اور علامتوں کے ذریعے سے برتا گیا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے ۔ شاعری کا یہ حصہ بھی شعرا کے بے پناہ تخیل کی عمدہ مثال ہے ۔

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح

زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

آرزو لکھنوی

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

میر تقی میر

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

محمد رفیع سودا

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی

جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

آرزو لکھنوی

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی

میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے

جون ایلیا

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں

تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

مرزا غالب

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

اسرار الحق مجاز

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں

پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

رضا عظیم آبادی

چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو

تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے

سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

عبد الحمید عدم

پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شام

جب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا

بشیر بدر

زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا

رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

اصغر گونڈوی

سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ

تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں

فرحت احساس

صبح دم زلفیں نہ یوں بکھرائیے

لوگ دھوکا کھا رہے ہیں شام کا

شرر بلیاوی

بال اپنے اس پری رو نے سنوارے رات بھر

سانپ لوٹے سیکڑوں دل پر ہمارے رات بھر

لالہ مادھو رام جوہر

ذرا ان کی شوخی تو دیکھنا لیے زلف خم شدہ ہاتھ میں

میرے پاس آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کے ڈرا دیا

نواب سلطان جہاں بیگم

کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی

کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

یگانہ چنگیزی

بکھری ہوئی ہو زلف بھی اس چشم مست پر

ہلکا سا ابر بھی سر مے خانہ چاہئے

نامعلوم

گیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں

چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں

تشریح

اس شعر میں ’’دونوں وقت ملتے ہیں‘‘ سے شاعر نے ندرت کا پہلو نکالا ہے۔ پورا شعر ایک حرکی پیکر ہے۔ گیسو کا ’ہوا سے رخ پر ہلنا‘ اور ’دونوں وقت کاملنا ‘ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ جب گیسو اوررخ کہا تو گویا بصری پیکر وجود میں آیا، اور جب دونوں وقت ملنا کہا تو اس سے جو جھٹپٹے کا منظر بن گیا اس سے بھی بصری پیکر بن گیا۔

شعر میں جو کیفیت والی بات ہے وہ گیسو کے ہوا سے رخ پر ڈھلنے اور ان دونوں عوامل کے نتیجے میں دو وقت ملنے سے پیدا کردی گئی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے چہرے پر ہوا سے گیسو ہلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جب ہوا سے محبوب کے رخِ تاباں پر زلفیں ہلتی ہیں تو شاعر کچھ لمحوں کے لئے روشنی اور کچھ کے لئے اندھیرے کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس منظر کو وہ جھٹپٹے سے تشبیہ دیتا ہے۔ مگر اس سے بڑھ کر نکتے والی بات ہے وہ ہے’’چلیے اب‘‘ ۔ یعنی عام آدمی شام کے وقت اپنے گھر چلا جاتا ہے اسی بنا پر شاعر کہتا ہے کہ چونکہ محبوب کے چہرے پر جھٹپٹے کا منظر دکھائی دیتا ہے اس لئے اب چلا جانا چاہیے۔

شفق سوپوری

تشریح

اس شعر میں ’’دونوں وقت ملتے ہیں‘‘ سے شاعر نے ندرت کا پہلو نکالا ہے۔ پورا شعر ایک حرکی پیکر ہے۔ گیسو کا ’ہوا سے رخ پر ہلنا‘ اور ’دونوں وقت کاملنا ‘ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ جب گیسو اوررخ کہا تو گویا بصری پیکر وجود میں آیا، اور جب دونوں وقت ملنا کہا تو اس سے جو جھٹپٹے کا منظر بن گیا اس سے بھی بصری پیکر بن گیا۔

شعر میں جو کیفیت والی بات ہے وہ گیسو کے ہوا سے رخ پر ڈھلنے اور ان دونوں عوامل کے نتیجے میں دو وقت ملنے سے پیدا کردی گئی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے چہرے پر ہوا سے گیسو ہلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جب ہوا سے محبوب کے رخِ تاباں پر زلفیں ہلتی ہیں تو شاعر کچھ لمحوں کے لئے روشنی اور کچھ کے لئے اندھیرے کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس منظر کو وہ جھٹپٹے سے تشبیہ دیتا ہے۔ مگر اس سے بڑھ کر نکتے والی بات ہے وہ ہے’’چلیے اب‘‘ ۔ یعنی عام آدمی شام کے وقت اپنے گھر چلا جاتا ہے اسی بنا پر شاعر کہتا ہے کہ چونکہ محبوب کے چہرے پر جھٹپٹے کا منظر دکھائی دیتا ہے اس لئے اب چلا جانا چاہیے۔

شفق سوپوری

مرزا شوقؔ  لکھنوی

گئی تھی کہہ کے میں لاتی ہوں زلف یار کی بو

پھری تو باد صبا کا دماغ بھی نہ ملا

جلالؔ لکھنوی
بولیے