استقبال کے لیے ۲۰ بہترین اشعار

ہمیں اپنی روز مرہ کی

زندگی میں کسی نہ کسی عزیز اور دل کے قریب شخص کا استقبال کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن ایسے موقعے پر وہ مناسب لفظ اور جملے نہیں سوجھتے جو اس کی آمد پر اس کے استقبال میں کہے جاسکیں۔ اگر آپ بھی کبھی اس پریشانی اور الجھن سے گزرے ہیں یا گزر رہے ہیں تو استقبال کے موضوع پر کی جانے والی شاعری کا ہمارا یہ انتخاب آپ کے لیے مدد گار ثابت ہوگا۔

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

مرزا غالب

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔

فیض احمد فیض

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں

زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

وسیم بریلوی

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثاراختر

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

عندلیب شادانی

اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا

رنگ دیکھو غریب خانے کا

جوش ملیح آبادی

ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا

وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا

نامعلوم

جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو

رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو

نامعلوم

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت

کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

صبا اکبرآبادی

شکریہ تیرا ترے آنے سے رونق تو بڑھی

ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی

نامعلوم

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود

آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

احمد فراز

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے

بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

سید یوسف علی خاں ناظم

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج

سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں

اطہر نفیس

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم

تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم

واصف دہلوی

خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر

بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے

نامعلوم

یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا

اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن

قمر صدیقی

سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گے

اللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہو

لالہ مادھو رام جوہر

رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے

رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

سرفراز خالد

تم جو آئے ہو تو شکل در و دیوار ہے اور

کتنی رنگین مری شام ہوئی جاتی ہے

نہال سیوہاروی