دوست دوستی پر 20 مشہور شعر
شاعری ،یا یہ کہاجائے
کہ اچھا تخلیقی ادب ہم کو ہمارے عام تجربات اور تصورات سے الگ ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے وہ ہمیں ان منطقوں سے آگاہ کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے الگ ہوتے ہیں ۔ کیا آپ دوست اور دوستی کے بارے ان باتوں سے واقف ہیں جن کو یہ شاعری موضوع بناتی ہے ؟ دوست ، اس کی فطرت اس کے جذبات اور ارادوں کا یہ شعری بیانہ آپ کیلئے حیرانی کا باعث ہوگا ۔ اسے پڑھئے اور اپنے آس پاس پھیلے ہوئے دوستوں کو نئے سرے سے دیکھنا شروع کیجئے ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
-
موضوعات: پارلیمنٹاور 1 مزید
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالب ایسے دوستوں پر شکوہ کرتے ہیں جو دکھ میں سہارا دینے کے بجائے وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ “ناصح” کا رویہ خیرخواہی کم اور حکم سنانے جیسا زیادہ لگتا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ دوستی میں یا تو کوئی چارہ کرے یا کم از کم غم بانٹے۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہمدردی کے بغیر نصیحت دوستی کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالب ایسے دوستوں پر شکوہ کرتے ہیں جو دکھ میں سہارا دینے کے بجائے وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ “ناصح” کا رویہ خیرخواہی کم اور حکم سنانے جیسا زیادہ لگتا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ دوستی میں یا تو کوئی چارہ کرے یا کم از کم غم بانٹے۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہمدردی کے بغیر نصیحت دوستی کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
-
موضوعات: دوستاور 1 مزید
اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
-
موضوعات: عشقاور 2 مزید
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
-
موضوعات: بے قراریاور 3 مزید
اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب محبوب سے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ تمہاری دوستی اور توجہ ہی انسان کو برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ جس شخص پر تم مہربان ہو جاؤ، اسے کسی اور دشمن یا گردشِ دوران سے ڈرنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ تمہارا عشق خود سب سے بڑا فتنہ اور آزمائش ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب محبوب سے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ تمہاری دوستی اور توجہ ہی انسان کو برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔ جس شخص پر تم مہربان ہو جاؤ، اسے کسی اور دشمن یا گردشِ دوران سے ڈرنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ تمہارا عشق خود سب سے بڑا فتنہ اور آزمائش ہے۔
-
موضوعات: دشمناور 1 مزید
ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی
دوست کی دوست مان لیتے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں ضد کو ناپسندیدہ عادت کہا گیا ہے اور دوستی کو ظرف و نرمی کی علامت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر بحث میں جیتنے کی ضد رشتوں کو سخت کر دیتی ہے، مگر دوست کے سامنے آدمی انا چھوڑ کر مان جاتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ تعلق کو درست رکھنے کے لیے جھک جانا بھی محبت ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں ضد کو ناپسندیدہ عادت کہا گیا ہے اور دوستی کو ظرف و نرمی کی علامت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر بحث میں جیتنے کی ضد رشتوں کو سخت کر دیتی ہے، مگر دوست کے سامنے آدمی انا چھوڑ کر مان جاتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ تعلق کو درست رکھنے کے لیے جھک جانا بھی محبت ہے۔