درد پر شاعری

کلاسیکی شاعری میں درد دل کا درد ہے جو عشق میں حاصل ہوتا ہے اور یہی عاشق کا سرمائے بھی ہے ۔ عمر بھر درد دل کی حفاظت ہی اس کا مقدر ہوتا ہے وہ اسے آہوں اور آنسووں سے سینچتا رہتا ہے۔ درد کا یہ پراثر بیانیہ شاعری میں دور تک پھیلا ہوا ہے۔ جدید شاعری میں درد کے اور بہت سے محرکات ابھر کرسامنے آئے ہیں۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور درد کی ان صورتوں کو اپنے ذاتی حوالوں سے شناخت کیجئے۔

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

Love your sad conclusion makes me weep

Wonder why your mention makes me weep

Love your sad conclusion makes me weep

Wonder why your mention makes me weep

شکیل بدایونی

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

شکیل بدایونی

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

فیض احمد فیض

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے

زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب

میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

may my friends too receive this wealth of pain

I cannot envisage my solitary gain

may my friends too receive this wealth of pain

I cannot envisage my solitary gain

حفیظ جالندھری

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں

کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

my being did, from love's domain, the joy of life procure

obtained such cure for life's travails, which itself had no cure

my being did, from love's domain, the joy of life procure

obtained such cure for life's travails, which itself had no cure

مرزا غالب

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا

جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

آج تو دل کے درد پر ہنس کر

درد کا دل دکھا دیا میں نے

زبیر علی تابش

درد دل کتنا پسند آیا اسے

میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

آسی غازی پوری

زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے

درد دل کا لباس ہوتا ہے

گلزار

عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا

ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے

سو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے

احمد فراز

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

منظر لکھنوی

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ

مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا

Whenever talk of happiness I hear

My failure and frustration makes me weep

Whenever talk of happiness I hear

My failure and frustration makes me weep

شکیل بدایونی

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

My companion, my intimate, be not a friend and yet betray

The pain of love is fatal now, for my life please do not pray

My companion, my intimate, be not a friend and yet betray

The pain of love is fatal now, for my life please do not pray

شکیل بدایونی

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے

اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

حفیظ جالندھری

کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے

ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

علیم اختر

منت چارہ ساز کون کرے

درد جب جاں نواز ہو جائے

فیض احمد فیض

جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے

تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا

ناصر کاظمی

مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا

جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

اقبال صفی پوری

دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے

یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں

عندلیب شادانی

اگر درد محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا

نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا

چکبست برج نرائن

وہی کارواں، وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے

مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں

شکیل بدایونی

حال تم سن لو مرا دیکھ لو صورت میری

درد وہ چیز نہیں ہے کہ دکھائے کوئی

جلیل مانک پوری

اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام

تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا

مصحفی غلام ہمدانی

عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی

درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی

جلالؔ لکھنوی

درد و غم دل کی طبیعت بن گئے

اب یہاں آرام ہی آرام ہے

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

جگر مراد آبادی
  • موضوعات: دل
    اور 1 مزید

وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا

درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے

صدا انبالوی

یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں

اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے

بشیر بدر

بھیگی مٹی کی مہک پیاس بڑھا دیتی ہے

درد برسات کی بوندوں میں بسا کرتا ہے

مرغوب علی

کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے

تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے

فرحت عباس شاہ

مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر

یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

Leave me to my present state, I do not trust your medicine

Your mercy minor though may be,might increase my pain today

Leave me to my present state, I do not trust your medicine

Your mercy minor though may be,might increase my pain today

شکیل بدایونی

دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانئے کیا یاد آیا

وزیر علی صبا لکھنؤی

تیز ہے آج درد دل ساقی

تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے

فیض احمد فیض

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

موت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا

آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی

غلام بھیک نیرنگ

زخم کتنے تری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو

سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے

نظیر باقری

پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش

مدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا

امیر مینائی

ہچکیاں رات درد تنہائی

آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو

ناصر جونپوری

آنے والی ہے کیا بلا سر پر

آج پھر دل میں درد ہے کم کم

جوشؔ ملسیانی

غم میں کچھ غم کا مشغلا کیجے

درد کی درد سے دوا کیجے

منظر لکھنوی

کرتا میں دردمند طبیبوں سے کیا رجوع

جس نے دیا تھا درد بڑا وہ حکیم تھا

for my pain how could I seek, from doctors remedy

the one who caused this ache, a healer great was he

for my pain how could I seek, from doctors remedy

the one who caused this ache, a healer great was he

امیر مینائی

درد ہو دکھ ہو تو دوا کیجے

پھٹ پڑے آسماں تو کیا کیجے

جگر بریلوی

درد دل کیا بیاں کروں رشکیؔ

اس کو کب اعتبار آتا ہے

محمد علی خاں رشکی

ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لا دوا

ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

it should not be that this ache intensifies past remedy

it should not happen even you do not have a cure for me

it should not be that this ache intensifies past remedy

it should not happen even you do not have a cure for me

صوفی تبسم

کس سے جا کر مانگیے درد محبت کی دوا

چارہ گر اب خود ہی بے چارے نظر آنے لگے

شکیل بدایونی

اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے

اے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

احمد فراز

Added to your favorites

Removed from your favorites