ADVERTISEMENT

ہجر پر شعر

اگر آپ ہجر کی حالت

میں ہیں تو یہ شاعری آپ کےلئے خاص ہے ۔ اس شاعری کو پڑھتے ہوئے ہجر کی پیڑا ایک مزے دار تجربے میں بدلنے لگے گی ۔ یہ شاعری پڑھئے ، ہجر اور ہجر ذدہ دلوں کا تماشا دیکھئے ۔

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

گلزار

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

جان بہت شرمندہ ہیں

افتخار عارف

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا

انجم رہبر

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت

مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

اکبر الہ آبادی
ADVERTISEMENT

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے

شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے

فیض احمد فیض

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض
ADVERTISEMENT

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے

گلزار

آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں

جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

جگر مراد آبادی

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

احمد فراز

بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلوم

جو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئی

فراق گورکھپوری
ADVERTISEMENT

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجر ناظم علی خان

ہم کہاں اور تم کہاں جاناں

ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں

جون ایلیا

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات

اب یہی روزگار ہے اپنا

میر تقی میر

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے

اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

حفیظ جالندھری
ADVERTISEMENT

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر

جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

احمد فراز

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

جگر مراد آبادی

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں

ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

فراق گورکھپوری
ADVERTISEMENT

مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوں

میں تیرے بغیر جی رہا ہوں

احمد ندیم قاسمی

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا

کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

امیر مینائی

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن

بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

نامعلوم

وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ

جاگنا رات بھر مصیبت ہے

اکبر الہ آبادی
ADVERTISEMENT

خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں

وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے

احمد ندیم قاسمی

دو گھڑی اس سے رہو دور تو یوں لگتا ہے

جس طرح سایۂ دیوار سے دیوار جدا

احمد فراز

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا

ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

پروین شاکر

فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی

یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے

احمد فراز
ADVERTISEMENT

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے

جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

معین شاداب

تم نہیں پاس کوئی پاس نہیں

اب مجھے زندگی کی آس نہیں

جگر بریلوی

قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول

کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

جلیل مانک پوری

تاروں کا گو شمار میں آنا محال ہے

لیکن کسی کو نیند نہ آئے تو کیا کرے

افسر میرٹھی
ADVERTISEMENT

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

ناصر کاظمی

میں سمجھتا ہوں کہ ہے جنت و دوزخ کیا چیز

ایک ہے وصل ترا ایک ہے فرقت تیری

جلیل مانک پوری

تمہارے ہجر میں آنکھیں ہماری مدت سے

نہیں یہ جانتیں دنیا میں خواب ہے کیا چیز

نظیر اکبرآبادی

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو

ابن انشا

خود چلے آؤ یا بلا بھیجو

رات اکیلے بسر نہیں ہوتی

عزیز لکھنوی

لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو

نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے

انور شعور

بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگر

کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے

احمد فراز

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی

ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

جلال الدین اکبر

معلوم تھیں مجھے تری مجبوریاں مگر

تیرے بغیر نیند نہ آئی تمام رات

نامعلوم

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر

نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

امیر خسرو

منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا

کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

منیر نیازی

تجھ بن ساری عمر گزاری

لوگ کہیں گے تو میرا تھا

ناصر کاظمی

ہجر و وصال چراغ ہیں دونوں تنہائی کے طاقوں میں

اکثر دونوں گل رہتے ہیں اور جلا کرتا ہوں میں

فرحت احساس

شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

امیر خسرو

مری نظر میں وہی موہنی سی مورت ہے

یہ رات ہجر کی ہے پھر بھی خوبصورت ہے

خلیل الرحمن اعظمی

اک ٹیس جگر میں اٹھتی ہے اک درد سا دل میں ہوتا ہے

ہم رات کو رویا کرتے ہیں جب سارا عالم سوتا ہے

ضیا عظیم آبادی

آج نہ جانے راز یہ کیا ہے

ہجر کی رات اور اتنی روشن

جگر مراد آبادی

جو غزل آج ترے ہجر میں لکھی ہے وہ کل

کیا خبر اہل محبت کا ترانہ بن جائے

احمد فراز