Jigar Moradabadi's Photo'

جگر مراد آبادی

1890 - 1960 | مراد آباد, ہندوستان

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف

44.62K
Favorite

باعتبار

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے

سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا

کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن

زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں

ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا

عشق جب تک نہ کر چکے رسوا

آدمی کام کا نہیں ہوتا

till love does not cause him disgrace

in this world man has no place

till love does not cause him disgrace

in this world man has no place

آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں

جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے

ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے

جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

آتش عشق وہ جہنم ہے

جس میں فردوس کے نظارے ہیں

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر

جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

آدمی آدمی سے ملتا ہے

دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزا

ہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں

آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے

گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب

کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں

دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیں

کتنی ظالم ہے تیری انگڑائی

یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے

کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے

بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر

وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے

حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو

یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے

ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہے

مسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہے

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر

پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ

میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

where does lightening strike, priest, let us look

I will raise my glass you raise your holy book

where does lightening strike, priest, let us look

I will raise my glass you raise your holy book

دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو

بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو

کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جام

آج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیں

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی

مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

اسی کو کہتے ہیں جنت اسی کو دوزخ بھی

وہ زندگی جو حسینوں کے درمیاں گزرے

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے

ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ

موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری

کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی

ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال

انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا

درد و غم دل کی طبیعت بن گئے

اب یہاں آرام ہی آرام ہے

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

the heart is accustomed to sorrow and pain

in lasting comfort now I can remain

ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل

کسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا

کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مرے رہ رہ کر

اب خدا جانے تری یاد ہے یا دل میرا

آدمی کے پاس سب کچھ ہے مگر

ایک تنہا آدمیت ہی نہیں

ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانا ہے

رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانا ہے

ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاں

عشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریں

دل گیا رونق حیات گئی

غم گیا ساری کائنات گئی

  • موضوعات: دل
    اور 1 مزید

کوچۂ عشق میں نکل آیا

جس کو خانہ خراب ہونا تھا

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے

اور جگرؔ کو شراب نے مارا