وفا پر شاعری

وفا پر شاعری بھی زیادہ تر بے وفائی کی ہی صورتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ وفادارعاشق کے علاوہ اور ہے کون ۔ اور یہ وفادار کردار ہر طرف سے بے وفائی کا نشانہ بنتا ہے ۔ یہ شاعری ہم کو وفاداری کی ترغیب بھی دیتی ہے اور بے وفائی کے دکھ جھیلنے والوں کے زخمی احساسات سے واقف بھی کراتی ہے ۔

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

آپ چھیڑیں نہ وفا کا قصہ

بات میں بات نکل آتی ہے

درد اسعدی

آزما لو کہ دل کو چین آئے

یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں

باقر مہدی

اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ

بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا

حیات لکھنوی

اب تو کر ڈالیے وفا اس کو

وہ جو وعدہ ادھار رہتا ہے

ابن مفتی

انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی

مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی

بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

افتخار عارف

بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا

کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

ابراہیم اشکؔ

بے وفا تم با وفا میں دیکھیے ہوتا ہے کیا

غیظ میں آنے کو تم ہو مجھ کو پیار آنے کو ہے

آغا حجو شرف

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

I sacrifice my heart upon your infidelity

were you faithful it would be a calamity

I sacrifice my heart upon your infidelity

were you faithful it would be a calamity

میر تقی میر

بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں

بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

اکبر الہ آبادی

برا مت مان اتنا حوصلہ اچھا نہیں لگتا

یہ اٹھتے بیٹھتے ذکر وفا اچھا نہیں لگتا

آشفتہ چنگیزی

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا کم بہت ہی کم

شاید اسی لیے ہے گلا کم بہت ہی کم

محبوب خزاں

دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل

وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

ہوش ترمذی

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

seek ye pearls of faithfulness in those lost and drowned

it well could be these treasures in wastelands do abound

seek ye pearls of faithfulness in those lost and drowned

it well could be these treasures in wastelands do abound

احمد فراز

دوستی بندگی وفا و خلوص

ہم یہ شمع جلانا بھول گئے

انجم لدھیانوی

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

جگر مراد آبادی

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

I do nor fear injury from my enemies

what frightens me is my friend's fidelities

I do nor fear injury from my enemies

what frightens me is my friend's fidelities

حفیظ بنارسی

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا

جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

بشیر بدر

فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نے

جب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھے

احمد ندیم قاسمی

غلط روی کو تری میں غلط سمجھتا ہوں

یہ بے وفائی بھی شامل مری وفا میں ہے

عاصم واسطی

ہم نے بے انتہا وفا کر کے

بے وفاؤں سے انتقام لیا

آل رضا رضا

ان وفاداری کے وعدوں کو الٰہی کیا ہوا

وہ وفائیں کرنے والے بے وفا کیوں ہو گئے

اختر شیرانی

عشق ہے بے گداز کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں

میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا

عبد المجید سالک

عشق میں یار گر وفا نہ کرے

کیا کرے کوئی اور کیا نہ کرے

ہیبت قلی خاں حسرت

عشق پابند وفا ہے نہ کہ پابند رسوم

سر جھکانے کو نہیں کہتے ہیں سجدہ کرنا

love is known by faithfulness and not by rituals bound

just bowing of one's head is not

love is known by faithfulness and not by rituals bound

just bowing of one's head is not

آسی الدنی

جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا

بارہا آزما کے دیکھ لیا

داغؔ دہلوی

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی

جو سزا دیجے ہے بجا مجھ کو

تجھ سے کرنی نہ تھی وفا مجھ کو

whatever punishment you mete, will be surely meet,

i should not have loved you so, my freedom is forfeit

whatever punishment you mete, will be surely meet,

i should not have loved you so, my freedom is forfeit

اثر لکھنوی

جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی

سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا

فیض احمد فیض

جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی

ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے

عبد المجید سالک

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں

اختر شیرانی

کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گا

مجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گا

حسرتؔ موہانی

کم سنی میں تو حسیں عہد وفا کرتے ہیں

بھول جاتے ہیں مگر سب جو شباب آتا ہے

انوراز

کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد

یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

after I am gone, your torture who will bear

you'll miss my devotion, when I am not there

after I am gone, your torture who will bear

you'll miss my devotion, when I am not there

امیر مینائی

خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا

خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ

عزیز حامد مدنی

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا

مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

داغؔ دہلوی

کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ

مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

قتیل شفائی

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

قتیل شفائی

مری وفا ہے مرے منہ پہ ہاتھ رکھے ہوئے

تو سوچتا ہے کہ کچھ بھی نہیں سمجھتا میں

احمد کامران

میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

عزیز حامد مدنی

محبت عداوت وفا بے رخی

کرائے کے گھر تھے بدلتے رہے

بشیر بدر

مجھے معلوم ہے اہل وفا پر کیا گزرتی ہے

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

احمد مشتاق

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا

مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

حفیظ جالندھری

نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا

بے وفا آپ ہی کہلائیے گا

وزیر علی صبا لکھنؤی

نہ مدارات ہماری نہ عدو سے نفرت

نہ وفا ہی تمہیں آئی نہ جفا ہی آئی

بیخود بدایونی

رہ عشق و وفا بھی کوچہ و بازار ہو جیسے

کبھی جو ہو نہیں پاتا وہ سودا یاد آتا ہے

ابو محمد سحر

تیرے خوش پوش فقیروں سے وہ ملتے تو سہی

جو یہ کہتے ہیں وفا پیرہن چاک میں ہے

سید عابد علی عابد

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

خلیل الرحمن اعظمی

Added to your favorites

Removed from your favorites