Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پارلیمنٹ پر اشعار

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔

علامہ اقبال

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹے

تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں

شہاب جعفری

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

بشیر بدر

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

احمد فراز

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔

مرزا غالب

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی سادگی اور خوش فہمی پر طنز کر رہا ہے کہ ہم ایسے شخص سے وفا کی توقع کر رہے ہیں جو وفا کے مفہوم سے ہی ناواقف ہے۔ یہ عاشق کی مجبوری اور محبوب کی لاپرواہی یا انجان پن کا خوبصورت اظہار ہے۔

مرزا غالب

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں آسان ظلم اور مشکل شفقت کا تقابل ہے۔ نشہ ہر اُس ترغیب یا اثر کی علامت ہے جو آدمی کو کمزور کرے، اور ساقی اختیار رکھنے والے شخص کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے گرانا عام بات ہے؛ کمال یہ ہے کہ جو گر رہے ہوں انہیں سہارا دے کر بچایا جائے۔

علامہ اقبال

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال اس شعر میں مذہب کے نام پر نفرت اور تفریق کی نفی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل شناخت مشترک وطن اور باہمی احترام ہے، نہ کہ آپس کی دشمنی۔ مرکزی جذبہ اتحاد، اخوت اور رواداری کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

بشیر بدر

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

وسیم بریلوی

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر وطن سے محبت اور فخر کا اعلان کرتا ہے اور ہندوستاں کو سب سے افضل کہتا ہے۔ بلبل اور گلستاں کا استعارہ بتاتا ہے کہ اہلِ وطن اس زمین کی رونق اور نغمگی ہیں، اور وطن اُن کی پرورش گاہ۔ جذبہ اپنائیت، شکرگزاری اور اجتماعی شناخت کا ہے۔

علامہ اقبال

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

حبیب جالب

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

ندا فاضلی

تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیں

کمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں

دشینت کمار

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

منظور ہاشمی

چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے

ملک زادہ منظور احمد

سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے

جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

کرشن بہاری نور

کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں

تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو

ندا فاضلی

تمہاری فائلوں میں گاؤں کا موسم گلابی ہے

مگر یہ آنکڑے جھوٹھے ہیں یہ دعویٰ کتابی ہے

عدم گونڈوی

دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ

اور میں اک سچ کو لے کر شام تک بیٹھا رہا

نامعلوم

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا

پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا

معراج فیض آبادی

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں

وہ اب چل چکے ہیں وہ اب آ رہے ہیں

جگر مراد آبادی
بولیے