دل شاعری

دل شاعری کے اس انتخاب کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

داغؔ دہلوی

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

جلیل مانک پوری

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض احمد فیض

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جگر مراد آبادی

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

what else is there now for me to view

I have experienced being in love with you

what else is there now for me to view

I have experienced being in love with you

فیض احمد فیض

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

a heart O lord if you bestow, one such it should be

that smilingly I may spend my time of misery

a heart O lord if you bestow, one such it should be

that smilingly I may spend my time of misery

داغؔ دہلوی

بت خانہ توڑ ڈالیے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

حیدر علی آتش

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

جون ایلیا

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

why even mention of the heart's deserted state

this city's been looted a hundred times to date

میر تقی میر

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

احمد فراز

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

بشیر بدر

دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے

آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

افتخار عارف

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے

کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

جلیل عالیؔ

زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

جون ایلیا

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

جلیل مانک پوری

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے

پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

فیض احمد فیض

دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے

چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے

the lamp's extinguised but someone's heart

the lamp's extinguised but someone's heart

نشور واحدی

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

امیر مینائی

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

بشیر بدر

آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں

ساحر لدھیانوی

سینے میں اک کھٹک سی ہے اور بس

ہم نہیں جانتے کہ کیا ہے دل

عیش دہلوی

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے

اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

جون ایلیا

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل دغدار میں

tell all my desires to go find another place

in this scarred heart alas there isn't enough space

tell all my desires to go find another place

in this scarred heart alas there isn't enough space

بہادر شاہ ظفر

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی

سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

دوستوں کی مہربانی چاہئے

my heartbreak's not complete, it pends

I need some favours from my friends

my heartbreak's not complete, it pends

I need some favours from my friends

عبد الحمید عدم

دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل

ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

آسی غازی پوری

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

علامہ اقبال

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے

جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

جگر مراد آبادی

دل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے

کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں

گلزار

بھول شاید بہت بڑی کر لی

دل نے دنیا سے دوستی کر لی

بشیر بدر

جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی

دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی

شکیل بدایونی

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

علامہ اقبال

دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے

بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

مہتاب عالم

انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیں

میں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی

درد دل کتنا پسند آیا اسے

میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

آسی غازی پوری

میں ہوں دل ہے تنہائی ہے

تم بھی ہوتے اچھا ہوتا

my loneliness my heart and me

would be nice

my loneliness my heart and me

would be nice

فراق گورکھپوری

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

فراق گورکھپوری

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

this hearts blisters are inflamed by its own desire

by its own lamp,alas, this house is set afire

this hearts blisters are inflamed by its own desire

by its own lamp,alas, this house is set afire

مہتاب رائے تاباں

دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی

خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی

ندا فاضلی

زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے

درد دل کا لباس ہوتا ہے

گلزار

دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں

لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

قتیل شفائی

آدمی آدمی سے ملتا ہے

دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

People meet each other, fairly frequently

But, meeting of hearts, seldom does one see

People meet each other, fairly frequently

But, meeting of hearts, seldom does one see

جگر مراد آبادی

دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم

کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی

I ventured forth with all my thoughts properly arranged

In her presence when I spoke, the meaning had all changed

I ventured forth with all my thoughts properly arranged

In her presence when I spoke, the meaning had all changed

فیض احمد فیض

یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے

سو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے

احمد فراز

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

منظر لکھنوی

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری

دل کی بستی پرانی دلی ہے

جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

بشیر بدر

Added to your favorites

Removed from your favorites