دل شاعری

دل شاعری کے اس انتخاب کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔

آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری

دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا

عزیز لکھنوی
  • شیئر کیجیے

آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں

جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے

فانی بدایونی

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

when you come into my arms you should be aware

my restless heart is wont to leap, it may give you a scare

جلیلؔ مانک پوری

آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں

ساحر لدھیانوی

''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی

جلالؔ مانکپوری

آدمی آدمی سے ملتا ہے

دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

People meet each other, fairly frequently

But, meeting of hearts, seldom does one see

People meet each other, fairly frequently

But, meeting of hearts, seldom does one see

جگر مراد آبادی

آرزو تیری برقرار رہے

دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

حسرتؔ موہانی

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اختر شیرانی

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے

جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

جگر مراد آبادی
  • شیئر کیجیے

آنے والی ہے کیا بلا سر پر

آج پھر دل میں درد ہے کم کم

جوشؔ ملسیانی
  • شیئر کیجیے

اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ

بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا

حیات لکھنوی

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

بشیر بدر

اتنا میں انتظار کیا اس کی راہ میں

جو رفتہ رفتہ دل مرا بیمار ہو گیا

شیخ ظہور الدین حاتم
  • شیئر کیجیے

اچھی صورت نظر آتے ہی مچل جاتا ہے

کسی آفت میں نہ ڈالے دل ناشاد مجھے

جلیلؔ مانک پوری
  • شیئر کیجیے

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

ارشد علی خان قلق
  • شیئر کیجیے

اس بلائے جاں سے آتشؔ دیکھیے کیوں کر بنے

دل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست

حیدر علی آتش

اس نے پھر کر بھی نہ دیکھا میں اسے دیکھا کیا

دے دیا دل راہ چلتے کو یہ میں نے کیا کیا

لالہ مادھو رام جوہر
  • شیئر کیجیے

اس وقت دل مرا ترے پنجے کے بیچ تھا

جس وقت تو نے ہات لگایا تھا ہات کو

شیخ ظہور الدین حاتم
  • شیئر کیجیے

اظہار حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا

دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی
  • شیئر کیجیے

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

امیر مینائی
  • شیئر کیجیے

الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں

ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستان ہے

حیدر علی آتش

الٹی اک ہاتھ سے نقاب ان کی

ایک سے اپنے دل کو تھام لیا

جلیلؔ مانک پوری

ان شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی
  • شیئر کیجیے

انہونی کچھ ضرور ہوئی دل کے ساتھ آج

نادان تھا مگر یہ دوانا کبھی نہ تھا

بلقیس ظفیر الحسن
  • شیئر کیجیے

انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیں

میں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا

اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا

حفیظ جالندھری

اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا

کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے

اعجاز صدیقی

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

what else is there now for me to view

I have experienced being in love with you

what else is there now for me to view

I have experienced being in love with you

فیض احمد فیض

اک بات کہیں تم سے خفا تو نہیں ہو گے

پہلو میں ہمارے دل مضطر نہیں ملتا

آغا شاعر قزلباش
  • شیئر کیجیے

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت

یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

ایک دل ہے کہ اجڑ جائے تو بستا ہی نہیں

ایک بت خانہ ہے اجڑے تو حرم ہوتا ہے

کمال احمد صدیقی

ایک دل ہے کہ نہیں درد سے دم بھر خالی

ورنہ کیا کیا نظر آئے نہ بھرے گھر خالی

جلیلؔ مانک پوری
  • شیئر کیجیے

ایک سفر وہ ہے جس میں

پاؤں نہیں دل دکھتا ہے

آگاہ دہلوی
  • شیئر کیجیے

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی

دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی

زیب غوری

اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی

پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

آسی غازی پوری

بت خانہ توڑ ڈالئے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

you may excavate the temple, the mosque you may explode

do not break the heart of man, for this is God's abode

you may excavate the temple, the mosque you may explode

do not break the heart of man, for this is God's abode

حیدر علی آتش

بدلتی جا رہی ہے دل کی دنیا

نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں

شکیل بدایونی

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

حیدر علی آتش

بھرا ہے شیشۂ دل کو نئی محبت سے

خدا کا گھر تھا جہاں واں شراب خانہ ہوا

حیدر علی آتش

بھول شاید بہت بڑی کر لی

دل نے دنیا سے دوستی کر لی

بشیر بدر
  • شیئر کیجیے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے

وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے

آسی غازی پوری

بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجے معاف

یہ دل بیتاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا

بہادر شاہ ظفر
  • شیئر کیجیے

پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا

دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظر کچھ بھی نہیں

لالہ مادھو رام جوہر
  • شیئر کیجیے

پھرتے ہوئے کسی کی نظر دیکھتے رہے

دل خون ہو رہا تھا مگر دیکھتے رہے

اثر لکھنوی
  • شیئر کیجیے

پھول برسے کہیں شبنم کہیں گوہر برسے

اور اس دل کی طرف برسے تو پتھر برسے

بشیر بدر

پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش

مدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا

امیر مینائی
  • شیئر کیجیے

تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل

اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں

فراق گورکھپوری
  • شیئر کیجیے

تجھے کچھ عشق و الفت کے سوا بھی یاد ہے اے دل

سنائے جا رہا ہے ایک ہی افسانہ برسوں سے

عبد المجید سالک

Added to your favorites

Removed from your favorites