دل پر شاعری

دل شاعری کے اس انتخاب کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اندھیری رات کو میں روز عشق سمجھا تھا


چراغ تو نے جلایا تو دل بجھا میرا

آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری


دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا

آرزو تیری برقرار رہے


دل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا


کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ


بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا


بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

انہونی کچھ ضرور ہوئی دل کے ساتھ آج


نادان تھا مگر یہ دوانا کبھی نہ تھا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے


آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا


جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجے معاف


یہ دل بیتاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا

بھرا ہے شیشۂ دل کو نئی محبت سے


خدا کا گھر تھا جہاں واں شراب خانہ ہوا

دیکھو دنیا ہے دل ہے


اپنی اپنی منزل ہے

دل کی بستی پرانی دلی ہے


جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

دل کو جاناں سے حسنؔ سمجھا بجھا کے لائے تھے


دل ہمیں سمجھا بجھا کر سوئے جاناں لے چلا

اک بات کہیں تم سے خفا تو نہیں ہو گے


پہلو میں ہمارے دل مضطر نہیں ملتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت


یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ان شوخ حسینوں پہ جو مائل نہیں ہوتا


کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

اتنا میں انتظار کیا اس کی راہ میں


جو رفتہ رفتہ دل مرا بیمار ہو گیا

نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے


کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا


اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا

پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش


مدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا

تم زمانے کی راہ سے آئے


ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

الٹی اک ہاتھ سے نقاب ان کی


ایک سے اپنے دل کو تھام لیا

اس نے پھر کر بھی نہ دیکھا میں اسے دیکھا کیا


دے دیا دل راہ چلتے کو یہ میں نے کیا کیا

موضوع