Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dagh Dehlvi's Photo'

داغؔ دہلوی

1831 - 1905 | دلی, انڈیا

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

داغؔ دہلوی کے اشعار

229.2K
Favorite

باعتبار

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے دلوں کے فرق کو “شیشہ” اور “پتھر” کے استعارے سے واضح کیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دونوں کے مزاج اور احساس کی کیفیت ایک جیسی نہیں، اس لیے برابری ممکن نہیں۔ ایک دل نازک اور جلد دکھنے والا ہے، دوسرا سخت اور بےحس۔ اس میں شکوہ، رنج اور محبت کی عدم مطابقت کا درد جھلکتا ہے۔

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ

جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر ظرافت کے ساتھ ایک تضاد باندھتا ہے: عشق میں بظاہر بہت سے مزے دار مشغلے ہیں، مگر سب سے بڑی مہارت “کچھ نہ کرنا” ہے۔ اس سے مراد بے قراری میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بجائے خاموش سپردگی، انتظار اور خود پر قابو ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق کی گہرائی اکثر بے ساختہ ٹھہراؤ میں جھلکتی ہے۔

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر شکوہ کرتا ہے کہ جو آدمی خلوص کے ساتھ قریب آئے، اسی کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ “خاک میں ملانا” ذلت، پامالی اور تباہی کا استعارہ ہے۔ دوسری مصرعے میں بتایا گیا ہے کہ جان چاہنے والا ویسے ہی نایاب ہوتا ہے، اس لیے اس کی ناقدری اور زیادہ دردناک ہے۔ جذبۂ مرکزی افسوس اور احتجاج ہے۔

نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ کہہ رہے ہیں کہ اردو میں کمال حاصل کرنا آسان بات نہیں، اسے ہنسی کھیل میں نہیں لیا جا سکتا۔ “آتے آتے” میں دیر، ریاضت اور مسلسل مشق کا اشارہ ہے۔ لہجہ تنبیہ بھی ہے اور اپنے فن کی قدر دانی بھی کہ اصل فصاحت وقت کے ساتھ پکتی ہے۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں زبانِ اردو پر فخر اور اپنی پہچان کا اعلان ہے۔ شاعر اپنے آپ کو اردو کا حقیقی شناسا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس زبان کا چرچا ہر طرف ہے۔ “دھوم” سے مراد وہ قبولِ عام اور مقبولیت ہے جو اردو کی شیرینی اور بیان کی قوت سے پیدا ہوئی۔ لہجہ اعتماد بھرا اور جشنِ زبان کا ہے۔

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کی توجہ محبوب سے ہٹ کر ہجوم کی نگاہوں پر ہے۔ سب کی نظریں محبوب کی طرف ہیں، مگر شاعر اُن نظروں میں چھپی چاہت، رشک اور مقابلے کی کیفیت پڑھتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ محبوب کے گرد کشش بھی ہے اور رقابت بھی۔ جذبے کی تہہ میں چوکسی اور ہلکی سی غیرت نمایاں ہے۔

ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گے

تمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر شوخ و دل لگی سے بھرپور ہے: عاشق بےپردہ دیدار کی آرزو کرتا ہے اور حیا کو رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔ وہ محبوبہ سے کہتا ہے کہ اگر شرم ہے تو چہرہ نہیں، اپنی نگاہ چھپا لو۔ یوں شرم و خواہش کے بیچ ایک لطیف، چنچل کشمکش پیدا ہوتی ہے۔

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں خدا سے راحت نہیں بلکہ دل کی کیفیت مانگتے ہیں۔ دل اور مزاج استعارہ ہیں اس باطنی قوت کے، جو حالات کی سختی کو بھی مثبت انداز میں سہہ لے۔ شعر کا جذبہ یہ ہے کہ اصل نعمت خوشی کے مواقع نہیں، بلکہ وہ ظرف ہے جو رنج میں بھی مسکراہٹ قائم رکھے۔ یہ قناعت اور استقامت کی دعا ہے۔

آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے

آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر آئینے کے سامنے حسن و آرائش کرنے والوں کی بات کو اپنے حق میں ایک طنزیہ دعوے میں بدل دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ میری شان اور دلکشی ایسی ہے کہ جو لوگ مجھے گرانا یا مروا دینا چاہتے ہیں، وہی حسد اور جھنجھلاہٹ میں اندر سے ٹوٹ جائیں گے۔ “بے موت مرنا” یہاں حسرت و حسد سے جلنے کا استعارہ ہے۔ لہجہ فخر آمیز اور چبھتا ہوا ہے۔

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے محبوب کے ناز اور حیا کو پردے کی صورت میں دکھایا ہے۔ چلمن سے لگ کر بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ محبوب نزدیک بھی ہے اور دور بھی—اتنا کہ نظر بھر کو جھلک ملے مگر وصال نہ ہو۔ عاشق اسی ادھوری جھلک میں تڑپتا رہتا ہے، اور یہی کشمکش اس شعر کی جان ہے۔

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔

شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔

EXPLANATION #1

یہ وصال کی رات ہے، ان چراغوں کو بجھا دو۔

خوشی کی محفل میں تڑپتے اور جلتے لوگوں کی کیا جگہ ہے؟

شاعر وصال کی رات میں چراغ بجھانے کو کہتا ہے کہ اس ساعتِ قرب میں روشنی نہیں، خلوت درکار ہے۔ یہاں “جلنے والے” اُن عاشقوں کا استعارہ ہیں جو ہجر کی آگ میں جلتے ہیں۔ خوشی کی بزم میں اُن کا سوز ناگوار ٹھہرتا ہے، اس لیے شعر میں لطیف طنز اور محرومی کا احساس ابھرتا ہے۔

شفق سوپوری

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے محبوب کے ٹالنے کو صاف انکار کے طور پر دکھایا ہے۔ ‘آج نہیں’ بظاہر نرمی ہے مگر روز کی تکرار اسے دائمی ‘نہیں’ بنا دیتی ہے۔ عاشق کو لگتا ہے کہ اس انکار کا کوئی علاج نہیں، بس بے بسی اور حسرت باقی رہ جاتی ہے۔

عاشقی سے ملے گا اے زاہد

بندگی سے خدا نہیں ملتا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں زاہد کی خشک پرہیزگاری پر طنز کرتے ہیں اور عشق کی سچائی کو اصل راستہ بتاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ محض رسم و رواج والی بندگی، بغیر دل کی تپش کے، انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتی۔ خدا کی قربت کے لیے اندر کی لگن اور محبت ضروری ہے۔

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ محبوب کے وعدے پر اعتبار کرنا ہی غضب تھا۔ رات بھر کا انتظار اتنا طویل اور کربناک محسوس ہوتا ہے کہ اسے “قیامت” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں قیامت ٹوٹے ہوئے وعدے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور دل کی تباہی کی علامت ہے۔

خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں حسرت اور طنز ساتھ چلتے ہیں: محبوب زندگی میں قدر نہیں کرتی، مگر مرنے کے بعد تعریفی جملہ کہہ دیتی ہے، وہ بھی رقیبوں کے سامنے۔ یہ تعریف تعزیت کی رسمی زبان میں ہے، مگر عاشق کے لیے چبھتی ہے کیونکہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مرکزی جذبہ یہ ہے کہ قدر شناسی بہت دیر سے اور بہت بے اثر ہو کر آتی ہے۔

لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے

الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر بارش اور بجلی کے موسم کو قربت کا بہانہ بناتا ہے: محبوب بجلی کے ڈر سے گلے لگتا ہے اور عاشق کو وصال میسر آتا ہے۔ اسی خوشی میں وہ دعا کرتا ہے کہ گھٹا چند دن اور برستی رہے تاکہ یہ قربت قائم رہے۔ گھٹا اور بجلی یہاں خوف اور خواہش کے استعارے بن جاتے ہیں۔

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر جدائی کے لمحے کی حسرت اور ندامت بیان کرتا ہے۔ شاعر کو گمان نہ تھا کہ زندگی اتنی بے وفا ہے کہ کوئی پل بھر میں دنیا سے چلا جائے۔ محبوب/عزیز کی مہربانی بھی دیر سے پہنچی، اس لیے محبت تسلی دینے کے بجائے دکھ بڑھا دیتی ہے۔

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں جنت کی مروجہ لذتوں—حوروں اور دائمی آسائش—کو بے معنی قرار دیتے ہیں۔ مصرعِ ثانی استفہامِ انکاری ہے: جب دل کی اصل طلب (محبوب/حقیقی سکون) نہ ملے تو جنت بھی کچھ نہیں۔ یہ شعر عشق کی شدت اور ظاہری نعمتوں سے بےنیازی کو نمایاں کرتا ہے۔

کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہو

دو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں رشتے کی اچانک ٹوٹتی ہوئی قربت کا شکوہ کرتے ہیں۔ محبوب کے مزاج کی تیزی سے بدلتی رنگت بیوفائی اور بےثباتی کی علامت بن جاتی ہے۔ آخری مصرع میں طنز بھی ہے اور اندیشہ بھی کہ جب حال یہ ہے تو آگے خیر کی امید کیسے رہے۔ مرکزی جذبہ صدمہ، دکھ اور بےیقینی ہے۔

آپ کا اعتبار کون کرے

روز کا انتظار کون کرے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی بار بار کی بےوفائی یا ٹال مٹول سے تنگ آ کر سوال اٹھاتا ہے کہ اب اعتبار کیسے رہے۔ دوسرا مصرع روزانہ کے انتظار کو ایک تھکادینے والی رسم بنا دیتا ہے۔ یہاں انتظار، امید کی علامت ہے اور اعتبار، رشتے کی بنیاد—دونوں کمزور پڑ چکے ہیں۔ لہجہ شکوے اور مایوسی سے بھرا ہوا ہے۔

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

Interpretation: Rekhta AI

محبوب اپنے حسن کے مقابل شمع رکھ کر عاشق کی کشش کو آزمانا چاہتا ہے۔ شمع ایک دوسری روشنی ہے اور پروانہ عاشق کی علامت، جو آگ اور حسن دونوں کی طرف بےاختیار کھنچتا ہے۔ اس شوخی میں ناز اور ہلکی سی غیرت بھی ہے کہ دل کس طرف جھکتا ہے۔ شعر میں کشش، امتحان اور سپردگی کا لطیف احساس ابھرتا ہے۔

ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حال

ہو بھی آرام تو کہہ دوں مجھے آرام نہیں

Interpretation: Rekhta AI

محبوب کی نرمی اور توجہ سے دل کو لمحہ بھر کو تسلی مل بھی جائے تو عاشق اسے ماننے پر آمادہ نہیں۔ بےقراری یہاں عشق کی سچائی اور شدت کی علامت بن جاتی ہے، اس لیے وہ آرام کو بھی انکار کی صورت میں بیان کرتا ہے۔ یہ شکوہ بھی ہے اور محبت کو زندہ رکھنے کی ضد بھی۔

بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ

وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی محشر کو ایک آخری عدالت بنا کر عاشق کی فریاد کو مزاحیہ لذت کے ساتھ دکھاتے ہیں۔ لطف اس الٹے پن میں ہے کہ جہاں شکوہ کرنا حق بنتا ہے، وہاں بھی محبوب منتوں سے زبان بند کرانا چاہتا ہے۔ “خدا کے لیے” میں تقدیس بھی ہے اور دباؤ بھی، جو محبوب کی نرمی کو چھیڑ چھاڑ کی صورت دے دیتا ہے۔ یوں شکوہ، محبت اور طنز ایک ساتھ جھلکتے ہیں۔

دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات

ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے یہاں طنزیہ انداز میں دکھایا ہے کہ محبوب سے ملاپ کی گھڑی میں اذان ایک رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عاشق مؤذن کی عبادت کو برا نہیں کہہ رہا، بس اس کے بے وقت ہونے پر جل رہا ہے۔ جذبۂ عشق کی شدت میں مذہبی آواز بھی بدنصیبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ شعر خواہش اور مذہبی معمول کے ٹکراؤ کو نمایاں کرتا ہے۔

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر شکوہ کرتا ہے کہ محبوب کا خفا ہو کر رخصت ہونا ایسا صدمہ ہے جیسے جان نکل گئی ہو۔ یہاں دکھ جدائی کا بھی ہے اور اس کے انداز کا بھی، کہ ملاقات میں بھی تلخی اور بے رخی رہی۔ اسی لیے وہ کہتا ہے کہ ایسی آمد جس کا انجام رنج ہو، نہ آنے سے بہتر نہیں۔ یہ شعر محبت میں انا اور ناراضی کے زخم کو نمایاں کرتا ہے۔

بات تک کرنی نہ آتی تھی تمہیں

یہ ہمارے سامنے کی بات ہے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں طنزیہ ملامت کرتے ہیں کہ مخاطَب پہلے گفتگو تک نہیں کر پاتا تھا، اور اب جیسے بڑے دعوے کر رہا ہے۔ شاعر دلیل کے طور پر “ہمارے سامنے” کہہ کر بات کو بدیہی اور ناقابلِ انکار بناتا ہے۔ احساسِ شعر میں جھنجھلاہٹ، حقارت اور حقیقت کی سخت گرفت ہے۔

دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی ناشکری اور بےقدری کا شکوہ کرتا ہے کہ دل جیسی قیمتی چیز مفت لے کر بھی اسے ناکارہ کہا گیا۔ پھر الٹی شکایتوں سے یہ دکھ واضح ہوتا ہے کہ دینے والا ہی قصوروار ٹھہرا۔ اس طنز میں محبت کی تذلیل اور احسان کی ناقدری کا گہرا کرب ہے۔

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد

ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر زاہد کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مے کی سرشاری اور لذت وہی جان سکتا ہے جس نے خود اسے آزمایا ہو۔ یہاں مے محض شراب نہیں بلکہ زندگی کے ذائقے، سرمستی اور آزاد احساس کی علامت ہے۔ طنزیہ انداز میں زاہد کی بے تجربگی کو بدقسمتی کہا گیا ہے، کہ بغیر چکھے حکم لگانا کھوکھلا ہے۔

حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں داغؔ اپنی برتری اور وقار کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جہاں بیٹھ گئے وہاں گویا فیصلہ ہو گیا۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ محبوب کی محفل ایسی ہے کہ اس سے نئے لوگ بھی اُبھرتے رہیں گے۔ لہجے میں خوداعتمادی کے ساتھ ہلکی سی رقابت اور محفل کی زرخیزی کا اعتراف ہے۔

ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل

دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں کہا گیا ہے کہ صرف بار بار مانگنے سے بات نہیں بنتی۔ دعا کی تاثیر تعداد میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہے؛ وہی دعا سچی ہے جو بناوٹ کے بغیر دل سے اٹھے۔ یہاں دل کو معیارِ صداقت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ عبادت اور طلب میں سچّا جذبہ ضروری ہے۔

چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق

تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند

Interpretation: Rekhta AI

شاعر تنہائی میں شبِ فراق کے دوران ایک بےجان تصویر سے مخاطب ہے، مگر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سن بھی رہی ہو۔ شبِ فراق کو خاموش سامع بنا کر اور تصویرِ یار کو ہمراز ٹھہرا کر وہ اپنی تڑپ ظاہر کرتا ہے۔ یہ محبوب کی غیرموجودگی میں یاد اور وہم کے سہارے جینے کی کیفیت ہے۔

جن کو اپنی خبر نہیں اب تک

وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ خود اپنی خبر نہیں رکھتے، ان سے اپنی باطنی بات سمجھنے کی امید فضول ہے۔ “دل کا راز” گہرے جذبات اور اندر کی تکلیف کی علامت ہے۔ لہجہ شکوہ آمیز اور اداس ہے، جیسے سمجھ نہ آنے کی وجہ سے فاصلہ بڑھ گیا ہو۔

یہ تو نہیں کہ تم سا جہاں میں حسیں نہیں

اس دل کو کیا کروں یہ بہلتا کہیں نہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر مانتا ہے کہ حسن اور بھی جگہ موجود ہے، لیکن دل کی تسکین صرف اسی محبوب سے جڑی ہے۔ یہ تضاد بتاتا ہے کہ مسئلہ حسن کی کمی نہیں، دل کی وابستگی ہے۔ مرکزی کیفیت بےقراری اور تڑپ ہے: محبوب کے بغیر دل کو کہیں ٹھہراؤ نہیں ملتا۔

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا

مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔

یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزا

میں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اقرارِ محبت کو ‘خطا’ بنا کر شوخی سے اس کی سزا پوچھتا ہے۔ اس انداز میں ڈر بھی ہے کہ محبوب ناراض نہ ہو، اور حیا بھی کہ بات کھل کر نہ کہی جائے۔ ‘مرتا ہوں’ مبالغۂ عشق ہے جو شدتِ جذبہ اور بے بسی دونوں کو ایک ساتھ ظاہر کرتا ہے۔

ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی

دوست کی دوست مان لیتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں ضد کو ناپسندیدہ عادت کہا گیا ہے اور دوستی کو ظرف و نرمی کی علامت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ ہر بحث میں جیتنے کی ضد رشتوں کو سخت کر دیتی ہے، مگر دوست کے سامنے آدمی انا چھوڑ کر مان جاتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ تعلق کو درست رکھنے کے لیے جھک جانا بھی محبت ہے۔

ساقیا تشنگی کی تاب نہیں

زہر دے دے اگر شراب نہیں

Interpretation: Rekhta AI

یہاں تشنگی محض پیاس نہیں بلکہ شدتِ خواہش اور اندر کی جلن کی علامت ہے۔ شراب تسکین، سرمستی یا محبوب کی عنایت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جب وہ میسر نہیں تو شاعر کہتا ہے کہ ایسی بےقراری سے بہتر ہے کہ زہر مل جائے۔ شعر میں بےبسی اور انتہا درجے کی کیفیت نمایاں ہے۔

یوں بھی ہزاروں لاکھوں میں تم انتخاب ہو

پورا کرو سوال تو پھر لا جواب ہو

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں محبوب کی نایابی اور برتری بیان کرتے ہیں: بھیڑ میں بھی وہی چنا ہوا ہے۔ پھر عاشق نازک سا مطالبہ رکھتا ہے کہ اگر محبوب اس کی درخواست پوری کر دے تو وہ بالکل لاجواب، یعنی بے مثال ٹھہرے گا۔ تعریف میں شوق اور ہلکی سی شوخی شامل ہے۔ اصل جذبہ چاہت ہے جو تعریف کے انداز میں اظہار پاتی ہے۔

عرض احوال کو گلا سمجھے

کیا کہا میں نے آپ کیا سمجھے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کی بات شکایت نہیں، صرف دل کی کیفیت کا بیان ہے مگر مخاطَب اسے گِلہ بنا کر سن لیتا ہے۔ اس شعر میں مقصد اور فہم کے بیچ کی دوری دکھائی گئی ہے کہ سچی بات بھی الٹا مطلب لے لی جاتی ہے۔ مرکزی جذبہ غلط فہمی کا رنج اور بےبسی ہے کہ بات پہنچتی ہی نہیں۔

کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری

لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میری

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبت کو ایسی طاقت دکھایا گیا ہے جو عاشق کی زبان بند کر دیتی ہے۔ دل کی شکایت بار بار لبوں تک پہنچتی ہے، مگر کہی نہیں جاتی—یا تو محبوب کے ڈر سے یا خودداری کے باعث۔ لب تک آ کر ٹھہر جانا اندرونی کشمکش اور دبی ہوئی تکلیف کی علامت ہے۔ جذبہ موجود ہے، اظہار ممکن نہیں۔

دی مؤذن نے شب وصل اذاں پچھلے پہر

ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کی جھنجھلاہٹ اور طنزیہ شکوہ ہے کہ وصل کے نازک لمحے میں عبادت کی صدا حائل ہوگئی۔ اذان یہاں محض دینی اعلان نہیں بلکہ وصل کے تسلسل کو توڑ دینے والی مداخلت کی علامت بن جاتی ہے۔ شاعر تقدس کی نفی نہیں کرتا، بس وقت کی بےرحمی پر فریاد کرتا ہے۔ جذبۂ بنیادی: حسرت، بے بسی اور چبھتا ہوا طنز۔

آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی

میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں وصل کی فوری التجا کرتے ہیں اور وقت کی بےوفائی یاد دلاتے ہیں کہ گزرا ہوا لمحہ لوٹتا نہیں۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اپنی ذات کو بھی وقت کے بہاؤ کے تابع بتاتا ہے کہ وہ بھی بدل جائے گا۔ یوں دیر کرنا رشتے اور احساس دونوں کو بدل دینے کا اندیشہ بن جاتا ہے۔ بنیادی تاثر حسرت سے بچنے اور موجود کو تھام لینے کا ہے۔

ابھی کمسن ہو رہنے دو کہیں کھو دو گے دل میرا

تمہارے ہی لیے رکھا ہے لے لینا جواں ہو کر

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کو پیار سے روک رہا ہے کہ کمسنی میں دل جیسے نازک امانت کی قدر اور حفاظت مشکل ہوتی ہے۔ “دل کھو دینا” بے پروائی اور ناپختگی کا استعارہ ہے۔ جذبے میں اپنائیت بھی ہے اور احتیاط بھی کہ محبت کا حق تب ادا ہو جب سمجھ اور ذمہ داری آ جائے۔ یوں دل کو محفوظ رکھے ہوئے وعدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو

دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

Interpretation: Rekhta AI

شاعر ملامت کے جواب میں اپنی محبت کا دفاع کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ محبت میں قصور کہاں ہے۔ دوسرے مصرعے میں “اپنا سا” سے مراد وہ قربت اور اپنائیت ہے جو کسی ایک ہی شخص سے جڑی ہوتی ہے۔ وہ چیلنج کرتا ہے کہ اگر متبادل ممکن ہے تو پھر ویسا دوسرا دکھا دیا جائے۔ اس میں شکوہ بھی ہے اور بےبسی بھری ضد بھی۔

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں

جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں زندگی کی حقیقت بتاتے ہیں کہ خوشی کے ساتھ غم کا آنا بھی لازمی ہے۔ “فلک” سے مراد تقدیر ہے جو نعمت دے تو آزمائش بھی دیتی ہے۔ “نقارے” اور “ماتم” کا تقابل یہ دکھاتا ہے کہ جشن کے بیچ بھی دکھ کی آہٹ موجود رہتی ہے۔ لہجہ نصیحت آمیز اور حقیقت پسندانہ ہے۔

ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر

آرزو کی آرزو ہونے لگی

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں مایوسی کی انتہا بیان ہوئی ہے جہاں امید کے ساتھ ساتھ چاہت کی کیفیت بھی ماند پڑ گئی ہے۔ “آرزو کی آرزو” ایک معنی خیز تضاد ہے: دل کسی مقصد کی نہیں، اپنی کھوئی ہوئی خواہش کی طلب میں ہے۔ جذبوں کی خشکی اور بے بسی اس کا مرکزی درد ہے۔

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں زمانے کی مجموعی بےوفائی پر شکوہ ہے۔ “اڑ گئی” کا استعارہ وفا کو کسی نازک پرندے کی طرح دکھاتا ہے جو پکڑ میں نہیں آتا۔ شاعر کی کیفیت ایسی تلخ مایوسی ہے کہ وہ موجودہ کمی کو بھی ماضی کی نفی بنا دیتا ہے۔ مرکزی جذبہ بدگمانی اور شکستہ دلی ہے۔

کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا

تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر قاصد سے کہتا ہے کہ اگر لوگ نام و نشان پوچھیں تو ظاہری پتے کے بجائے یہ تعارف دینا کہ میرا ٹھکانہ عاشقوں کے دل ہیں۔ یہاں “رہنا” جسمانی رہائش نہیں، محبوبیت اور یاد میں زندہ رہنے کا استعارہ ہے۔ تخلّص “داغؔ” کے ذریعے وہ اپنی پہچان کو عشق کی دنیا میں دائمی شہرت بنا دیتا ہے۔

یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں عشق کو آگ کے استعارے سے بیان کرتے ہیں: دل لگی کی لذت اسی میں ہے کہ دونوں طرف برابر تپش رہے۔ یہ آگ جذبے، چھیڑ چھاڑ اور خواہش کی علامت ہے جو بار بار بھڑکتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ دونوں عاشق یکساں بے قرار رہتے ہیں، اور یہی بے قراری اس رشتے کا مزہ بھی ہے اور دکھ بھی۔

Recitation

بولیے