٢٠ مشہور دل شاعری

دل شاعری کے اس انتخاب

کو پڑھتے ہوئے آپ اپنے دل کی حالتوں ، کیفیتوں اور صورتوں سے گزریں گے اورحیران ہوں گے کہ کس طرح کسی دوسرے ،تیسرے آدمی کا یہ بیان دراصل آپ کے اپنے دل کی حالت کا بیان ہے ۔ اس بیان میں دل کی آرزوئیں ہیں ، امنگیں ہیں ، حوصلے ہیں ، دل کی گہرائیوں میں جم جانے والی اداسیاں ہیں ، محرومیاں ہیں ، دل کی تباہ حالی ہے ، وصل کی آس ہے ، ہجر کا دکھ ہے ۔

تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا

وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا

داغؔ دہلوی

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

جلیل مانک پوری

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

احمد فراز

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا

مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جگر مراد آبادی

دل دے تو اس مزاج کا پروردگار دے

جو رنج کی گھڑی بھی خوشی سے گزار دے

داغؔ دہلوی

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

میر تقی میر

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

نامعلوم

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

مرزا غالب

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

علامہ اقبال

بت خانہ توڑ ڈالیے مسجد کو ڈھائیے

دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے

حیدر علی آتش

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

میر تقی میر

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

تشریح

اس شعر کا پہلا مصرع عام طور پر یوں مشہور ہےع

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے

لیکن صحیح اور بہتر وہی ہے جو درج متن ہے۔ مصحفی کا ایک شعر اس سے تقریباً ہوبہو لڑ گیا ہے؎

شام سے ہی بجھا سا رہتا ہے

دل ہے گویا چراغ مفلس کا

میر کا شعر مصحفی سے کہیں بہتر ہے، کیوں کہ پہلے مصرع میں کہا کہ میں شام سے کچھ افسردہ رہتا ہوں۔ یہ افسردگی پورے مزاج، پوری شخصیت کی ہے۔ دوسرے مصرع میں بظاہر غیر متعلق بات کہی کہ میرا دل مفلس کا چراغ ہو گیا ہے۔ لیکن دراصل پہلے مصرعے میں دعویٰ اور دوسرے مصرعے میں دلیل ہے۔ جب دل مفلس کے چراغ کی طرح ہے تو ظاہر ہے اس میں روشنی کم ہوگی، یعنی حرارت کم ہوگی، یعنی اس میں امنگیں اور امیدیں کم ہوں گی۔ اور جب دل میں امنگیں اور امیدیں کم ہوں گی تو ظاہر ہے کہ پوری شخصیت افسردہ ہوگی۔ مصحفی کے شعر میں صرف ایک مشاہدہ ہے، کہ دل بجھا سا رہتا ہے۔ میر کے یہاں دو مشاہدے ہیں اور دونوں میں دعویٰ اور دلیل کا ربط بھی ہے۔ پھر یہ نکتہ بھی ہے کہ دل میں اگر روشنی کم ہے تو اس میں سوز بھی کم ہوگا۔ (چراغ جتنا روشن ہوگا اس میں سوزش بھی اتنی ہی ہوگی) تو اگر دل میں روشنی کم ہے تو اس میں سوز بھی کم ہوگا۔ (چراغ جتنا روشن ہوگا اس میں سوزش بھی اتنی ہی ہوگی۔) تو اگر دل میں سوز محبت کم ہونے کی وجہ سے طبیعت افسردہ رہتی ہے، یا دل بے نور ہے، یعنی اس میں معشوق کا جلوہ نہیں، یا اس میں نور معرفت نہیں۔ شام کی تخصیص اس وجہ سے کی کہ دن کو تو طرح طرح کی مصروفیتوں میں دل بہلا رہتا ہے۔ شام آتے ہی بے کاری اور تنہائی آ گھیرتی ہے۔ دل چوں کہ بالکل بے نور نہیں، بلکہ مفلس کے چراغ کی طرح سے دھندلی لو رکھتا ہے، اس لئے خود کو ’’کچھ بجھا سا‘‘ کہا، بالکل افسردہ نہیں کہا۔ دل میں ولولہ یا جلوۂ معشوق یا نور معرفت کم ہونے کے لئے اس کو دھندلے چراغ سے تشبیہ دینا، اور پھر چراغ کو براہ راست دھندلا نہ کہنا، بلکہ کنایاتی انداز میں مفلس کا چراغ کہنا، اعجاز سخن گوئی ہے۔ ’’چراغ مفلس‘‘ کا پیکر نسبتاً کمزور طریقے سے میر نے دیوان اوّل میں ہی ایک بار اور باندھا ہے؎

کہہ سانجھ کے موئے کو اے میر روئیں کب تک

جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو

شہر یار نے اس مضمون کا ایک پہلو بڑی خوبی سے ادا کیا ہے؎

یہ تب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

قائم چاند پوری نے بھی میر کے چراغ سے اپنا چراغ روشن کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ’’تہی دست کا چراغ‘‘ کہہ کر ایک نیا پیکر بنایا ہے۔ اور ایک نئی بات بھی پیدا کردی ہے کہ ہاتھ خالی بھی ہے اور اس میں چراغ بھی ہے۔ قائم کا شعر ہے؎

نت ہی قائم بجھا سا رہتا ہوں

کس تہی دست کا چراغ ہوں میں

شمس الرحمن فاروقی

تشریح

اس شعر کا پہلا مصرع عام طور پر یوں مشہور ہےع

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے

لیکن صحیح اور بہتر وہی ہے جو درج متن ہے۔ مصحفی کا ایک شعر اس سے تقریباً ہوبہو لڑ گیا ہے؎

شام سے ہی بجھا سا رہتا ہے

دل ہے گویا چراغ مفلس کا

میر کا شعر مصحفی سے کہیں بہتر ہے، کیوں کہ پہلے مصرع میں کہا کہ میں شام سے کچھ افسردہ رہتا ہوں۔ یہ افسردگی پورے مزاج، پوری شخصیت کی ہے۔ دوسرے مصرع میں بظاہر غیر متعلق بات کہی کہ میرا دل مفلس کا چراغ ہو گیا ہے۔ لیکن دراصل پہلے مصرعے میں دعویٰ اور دوسرے مصرعے میں دلیل ہے۔ جب دل مفلس کے چراغ کی طرح ہے تو ظاہر ہے اس میں روشنی کم ہوگی، یعنی حرارت کم ہوگی، یعنی اس میں امنگیں اور امیدیں کم ہوں گی۔ اور جب دل میں امنگیں اور امیدیں کم ہوں گی تو ظاہر ہے کہ پوری شخصیت افسردہ ہوگی۔ مصحفی کے شعر میں صرف ایک مشاہدہ ہے، کہ دل بجھا سا رہتا ہے۔ میر کے یہاں دو مشاہدے ہیں اور دونوں میں دعویٰ اور دلیل کا ربط بھی ہے۔ پھر یہ نکتہ بھی ہے کہ دل میں اگر روشنی کم ہے تو اس میں سوز بھی کم ہوگا۔ (چراغ جتنا روشن ہوگا اس میں سوزش بھی اتنی ہی ہوگی) تو اگر دل میں روشنی کم ہے تو اس میں سوز بھی کم ہوگا۔ (چراغ جتنا روشن ہوگا اس میں سوزش بھی اتنی ہی ہوگی۔) تو اگر دل میں سوز محبت کم ہونے کی وجہ سے طبیعت افسردہ رہتی ہے، یا دل بے نور ہے، یعنی اس میں معشوق کا جلوہ نہیں، یا اس میں نور معرفت نہیں۔ شام کی تخصیص اس وجہ سے کی کہ دن کو تو طرح طرح کی مصروفیتوں میں دل بہلا رہتا ہے۔ شام آتے ہی بے کاری اور تنہائی آ گھیرتی ہے۔ دل چوں کہ بالکل بے نور نہیں، بلکہ مفلس کے چراغ کی طرح سے دھندلی لو رکھتا ہے، اس لئے خود کو ’’کچھ بجھا سا‘‘ کہا، بالکل افسردہ نہیں کہا۔ دل میں ولولہ یا جلوۂ معشوق یا نور معرفت کم ہونے کے لئے اس کو دھندلے چراغ سے تشبیہ دینا، اور پھر چراغ کو براہ راست دھندلا نہ کہنا، بلکہ کنایاتی انداز میں مفلس کا چراغ کہنا، اعجاز سخن گوئی ہے۔ ’’چراغ مفلس‘‘ کا پیکر نسبتاً کمزور طریقے سے میر نے دیوان اوّل میں ہی ایک بار اور باندھا ہے؎

کہہ سانجھ کے موئے کو اے میر روئیں کب تک

جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو

شہر یار نے اس مضمون کا ایک پہلو بڑی خوبی سے ادا کیا ہے؎

یہ تب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

قائم چاند پوری نے بھی میر کے چراغ سے اپنا چراغ روشن کیا ہے۔ لیکن انہوں نے ’’تہی دست کا چراغ‘‘ کہہ کر ایک نیا پیکر بنایا ہے۔ اور ایک نئی بات بھی پیدا کردی ہے کہ ہاتھ خالی بھی ہے اور اس میں چراغ بھی ہے۔ قائم کا شعر ہے؎

نت ہی قائم بجھا سا رہتا ہوں

کس تہی دست کا چراغ ہوں میں

شمس الرحمن فاروقی

میر تقی میر

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

مبارک عظیم آبادی

غم وہ مے خانہ کمی جس میں نہیں

دل وہ پیمانہ ہے بھرتا ہی نہیں

نامعلوم

سینے میں اک کھٹک سی ہے اور بس

ہم نہیں جانتے کہ کیا ہے دل

عیش دہلوی

دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل

ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

آسی غازی پوری
بولیے