Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہزار داستان عشق پر اشعار

منتخب اشعار از ہزار

داستان عشق - سنجیو صراف کا مرتبہ مترجمہ خوبصورت اردو اشعار کا مجموعہ سلیس انگریزی ترجمے کے ساتھ

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔

مرزا غالب

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

غلام محمد قاصر

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

فراق گورکھپوری

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

فیض احمد فیض

تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا

دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

احمد فراز

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر نے دل کو ایک شہر کی طرح برتا ہے جس پر بار بار غم اور صدمے حملہ آور ہوئے۔ اتنی تکرارِ زخم کے بعد ویرانی کا ذکر بے معنی لگتا ہے، گویا بربادی معمول بن گئی ہو۔ “سو مرتبہ” مبالغہ ہے جو دکھ کی طویل، مسلسل شدت اور بے بسی کو نمایاں کرتا ہے۔

میر تقی میر

اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

جگر مراد آبادی

عشق معشوق عشق عاشق ہے

یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

Interpretation: Rekhta AI

میر کے یہاں عشق ایک خودمختار قوت ہے جو عاشق اور معشوق دونوں صورتیں خود ہی اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے دکھ اور تڑپ کا سبب کوئی باہر کی ذات نہیں، خود عشق کی سرشت ہے۔ یہ ایک نازک تضاد ہے کہ عشق اپنے ہی ہاتھوں اپنا ہی مبتلا بنتا ہے۔

میر تقی میر

کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر

کیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم

نظیر اکبرآبادی

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے

نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کو “بت” کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ عقیدت اور عشق کی شدت ایسی تھی کہ لوگوں کی نگاہ میں محبوب کو خدائی مرتبہ مل گیا۔ یہاں پرستش عشق کی انتہا کی علامت ہے اور “سبھوں کی نظر” معاشرتی تاثر اور شہرت کی طرف اشارہ ہے۔ جذبہ حیرت اور کسک کا ہے کہ محبت نے محبوب کو انسان سے بڑھا دیا۔

میر تقی میر

عشق میں موت کا نام ہے زندگی

جس کو جینا ہو مرنا گوارا کرے

کلیم عاجز

تڑپتی دیکھتا ہوں جب کوئی شے

اٹھا لیتا ہوں اپنا دل سمجھ کر

منشی امیر اللہ تسلیم

سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے

پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عشق کو قید و بند کی طرح دکھایا گیا ہے جس سے شاعر بارہا آزادی پانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن اصل رکاوٹ باہر نہیں، اندر ہے: دل خود فراغ اور سکون کا مخالف ہے۔ یہی باطنی کشمکش بار بار انسان کو اسی بے قراری کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ جذبۂ بنیادی بے بسی اور بے چینی ہے۔

مرزا غالب

نا کامئ عشق یا کامیابی

دونوں کا حاصل خانہ خرابی

حفیظ جالندھری

باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے

آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے

امیر مینائی

کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

شاہ نصیر

بس محبت بس محبت بس محبت جان من

باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے

فرحت احساس

ہو گیا زرد پڑی جس پہ حسینوں کی نظر

یہ عجب گل ہیں کہ تاثیر خزاں رکھتے ہیں

امام بخش ناسخ

تا فلک لے گئی بیتابیٔ دل تب بولے

حضرت عشق کہ پہلا ہے یہ زینا اپنا

جرأت قلندر بخش

خواہ دل سے مجھے نہ چاہے وہ

ظاہری وضع تو نباہے وہ

انور شعور
بولیے