عشق پر 20 منتخب اشعار
عشق شروع سے ہی اردو
شاعری کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ریختہ نے اس موضوع پر20 بہترین اشعار کا انتخاب کیا ہے۔انتخاب شعر کی مقبولیت اور معیار پر مبنی ہے۔ہمیں تسلیم ہے کہ اس انتخاب میں کئی بہترین اشعار شامل ہونے سے رہ گئے ہونگے ۔ کسی بہتر شعر کی تجویز کمنٹ سکشن کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ مناسب شعر کو 20 بہترین اشعار کی فہرست میں شامل کیا جا سکتاہے۔ ریختہ اس فہرست کی مزید بہتری میں آپ کے گراں قدرمشورے کا متمنی ہے۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
-
موضوعات: عشقاور 4 مزید
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
-
موضوعات: اقبال ڈےاور 3 مزید
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔
-
موضوعات: عشقاور 4 مزید
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر عشق کو ایک طویل اور کٹھن راہ کی طرح دکھاتے ہیں جہاں ابتدا ہی میں رونا کم ہمتی ہے۔ متکلم صبر اور حوصلے کی تلقین کرتا ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ آگے اور امتحان باقی ہیں۔ اس میں دلاسہ بھی ہے اور ہلکی سی چوٹ بھی کہ عشق کی قیمت وقت کے ساتھ کھلتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر عشق کو ایک طویل اور کٹھن راہ کی طرح دکھاتے ہیں جہاں ابتدا ہی میں رونا کم ہمتی ہے۔ متکلم صبر اور حوصلے کی تلقین کرتا ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ آگے اور امتحان باقی ہیں۔ اس میں دلاسہ بھی ہے اور ہلکی سی چوٹ بھی کہ عشق کی قیمت وقت کے ساتھ کھلتی ہے۔
-
موضوعات: فلمی اشعاراور 2 مزید
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر عشق کے سفر کی شدت سے خموشی تک کی تصویر ہے۔ “آگ” ابتدائی جوش، تپش اور خود کو جلا دینے والی لگن کا استعارہ ہے، جبکہ “خاک” اس جلنے کے بعد بچ جانے والی ویرانی اور فنا کو ظاہر کرتی ہے۔ لہجہ اداس مگر مان لینے والا ہے کہ عشق کی انتہا کبھی کبھی بقا نہیں، مٹ جانا ہوتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر عشق کے سفر کی شدت سے خموشی تک کی تصویر ہے۔ “آگ” ابتدائی جوش، تپش اور خود کو جلا دینے والی لگن کا استعارہ ہے، جبکہ “خاک” اس جلنے کے بعد بچ جانے والی ویرانی اور فنا کو ظاہر کرتی ہے۔ لہجہ اداس مگر مان لینے والا ہے کہ عشق کی انتہا کبھی کبھی بقا نہیں، مٹ جانا ہوتی ہے۔
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو بھاری پتھر کی صورت میں بوجھ بنایا گیا ہے۔ شاعر خود سے یا ہر کمزور عاشق سے مخاطب ہو کر اپنی بے بسی مانتا ہے کہ اتنی بڑی محبت کا بار اٹھانا آسان نہیں۔ یہاں درد اس احساس میں ہے کہ عشق کی شدت اور انسان کی طاقت میں بڑا فرق ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو بھاری پتھر کی صورت میں بوجھ بنایا گیا ہے۔ شاعر خود سے یا ہر کمزور عاشق سے مخاطب ہو کر اپنی بے بسی مانتا ہے کہ اتنی بڑی محبت کا بار اٹھانا آسان نہیں۔ یہاں درد اس احساس میں ہے کہ عشق کی شدت اور انسان کی طاقت میں بڑا فرق ہے۔
-
موضوعات: عشقاور 2 مزید
سخت کافر تھاجن نے پہلے میرؔ
مذہب عشق اختیار کیا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو ایک مذہب/راہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کی ضد اور انکار کو بھی پگھلا دیتا ہے۔ تضاد یہ ہے کہ جو سب سے زیادہ انکاری تھے، وہی پہلے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ عشق کی قوت رسمی عقیدوں اور سخت گیری سے بڑھ کر دل کو بدل دیتی ہے۔ لہجہ حیرت اور یقین کی آمیزش رکھتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق کو ایک مذہب/راہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کی ضد اور انکار کو بھی پگھلا دیتا ہے۔ تضاد یہ ہے کہ جو سب سے زیادہ انکاری تھے، وہی پہلے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ عشق کی قوت رسمی عقیدوں اور سخت گیری سے بڑھ کر دل کو بدل دیتی ہے۔ لہجہ حیرت اور یقین کی آمیزش رکھتا ہے۔