Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار

20مقبول ترین اشعار کا

مجموعہ

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

فیض احمد فیض

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔

مرزا غالب

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔

مرزا غالب

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔

مرزا غالب

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

جگر مراد آبادی

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔

مرزا غالب

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔

علامہ اقبال

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔

مرزا غالب

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

نامعلوم

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

غالب کے ہاں محبوب کی آمد اتنی غیر متوقع ہے کہ اسے خدا کی قدرت کہا گیا ہے۔ عاشق کی نگاہ کبھی محبوب پر، کبھی اپنے گھر پر ٹھہرتی ہے، جیسے یقین کرنے کے لیے بار بار دیکھ رہا ہو۔ اس میں حیرت، شکر اور خوش نصیبی کا لطیف احساس مرکزی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

غالب کے ہاں محبوب کی آمد اتنی غیر متوقع ہے کہ اسے خدا کی قدرت کہا گیا ہے۔ عاشق کی نگاہ کبھی محبوب پر، کبھی اپنے گھر پر ٹھہرتی ہے، جیسے یقین کرنے کے لیے بار بار دیکھ رہا ہو۔ اس میں حیرت، شکر اور خوش نصیبی کا لطیف احساس مرکزی ہے۔

مرزا غالب

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

دواکر راہی

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

ندا فاضلی

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر رخصت کی نرمی اور جدائی کی بے یقینی بیان کرتا ہے۔ عاشق محبوب کے آستانے کو “بت کدہ” کہہ کر اپنی عقیدت بھی دکھاتا ہے اور اپنی بے بسی بھی۔ “اگر خدا لایا” میں امید بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کہ دوبارہ ملنا تقدیر اور مشیتِ الٰہی کے ہاتھ میں ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر رخصت کی نرمی اور جدائی کی بے یقینی بیان کرتا ہے۔ عاشق محبوب کے آستانے کو “بت کدہ” کہہ کر اپنی عقیدت بھی دکھاتا ہے اور اپنی بے بسی بھی۔ “اگر خدا لایا” میں امید بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کہ دوبارہ ملنا تقدیر اور مشیتِ الٰہی کے ہاتھ میں ہے۔

میر تقی میر

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بسمل عظیم آبادی
بولیے