Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار

20مقبول ترین اشعار کا

مجموعہ

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

فیض احمد فیض

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

ہمیں جنت کی اصلیت کے بارے میں سب کچھ پتا ہے، مگر...

اے غالبؔ، دل کو بہلانے اور خوش رکھنے کے لیے جنت کا یہ تصور برا نہیں ہے۔

ہمیں جنت کی اصلیت کے بارے میں سب کچھ پتا ہے، مگر...

اے غالبؔ، دل کو بہلانے اور خوش رکھنے کے لیے جنت کا یہ تصور برا نہیں ہے۔

مرزا غالب

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطانپوری

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اپنی خودی کو اتنا بلند کر لو کہ تقدیر طے ہونے سے پہلے بھی تم مضبوط کھڑے رہو۔

ایسا مقام ہو کہ خدا خود بندے سے پوچھے: بتاؤ تمہاری رضا کیا ہے؟

اپنی خودی کو اتنا بلند کر لو کہ تقدیر طے ہونے سے پہلے بھی تم مضبوط کھڑے رہو۔

ایسا مقام ہو کہ خدا خود بندے سے پوچھے: بتاؤ تمہاری رضا کیا ہے؟

علامہ اقبال

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

عشق نے غالب کو کسی کام کا نہیں چھوڑا، بالکل ناکارہ بنا دیا ہے۔

ورنہ اس سے پہلے ہم بھی ایک باصلاحیت اور کارآمد انسان تھے۔

عشق نے غالب کو کسی کام کا نہیں چھوڑا، بالکل ناکارہ بنا دیا ہے۔

ورنہ اس سے پہلے ہم بھی ایک باصلاحیت اور کارآمد انسان تھے۔

مرزا غالب

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ان کو دیکھتے ہی میرے چہرے پر ایک دم رونق آ جاتی ہے۔

وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ مریض کی حالت واقعی اچھی ہو گئی ہے۔

ان کو دیکھتے ہی میرے چہرے پر ایک دم رونق آ جاتی ہے۔

وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ مریض کی حالت واقعی اچھی ہو گئی ہے۔

مرزا غالب

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

جگر مراد آبادی

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

ہم خون کے محض رگوں میں گردش کرتے رہنے کو اہمیت نہیں دیتے۔

اگر خون آنکھوں سے (آنسو بن کر) نہیں ٹپکا تو پھر وہ خون کہلانے کے لائق نہیں۔

ہم خون کے محض رگوں میں گردش کرتے رہنے کو اہمیت نہیں دیتے۔

اگر خون آنکھوں سے (آنسو بن کر) نہیں ٹپکا تو پھر وہ خون کہلانے کے لائق نہیں۔

مرزا غالب

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ستاروں کے پار بھی اور دنیائیں اور منزلیں موجود ہیں۔

عشق کی آزمائشیں ابھی ختم نہیں ہوئیں، آگے بھی مزید امتحان ہیں۔

ستاروں کے پار بھی اور دنیائیں اور منزلیں موجود ہیں۔

عشق کی آزمائشیں ابھی ختم نہیں ہوئیں، آگے بھی مزید امتحان ہیں۔

علامہ اقبال

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

میری خواہشیں بے شمار ہیں، اور ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔

میرے بہت سے ارمان پورے بھی ہوئے، مگر پھر بھی دل کو کم ہی لگے۔

میری خواہشیں بے شمار ہیں، اور ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔

میرے بہت سے ارمان پورے بھی ہوئے، مگر پھر بھی دل کو کم ہی لگے۔

مرزا غالب

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

نامعلوم

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

وہ ہمارے گھر آگئے ہیں، یہ خدا کی قدرت ہی لگتی ہے۔

کبھی ہم اُن کی طرف دیکھتے ہیں، کبھی اپنے گھر کو حیرت سے دیکھتے ہیں۔

وہ ہمارے گھر آگئے ہیں، یہ خدا کی قدرت ہی لگتی ہے۔

کبھی ہم اُن کی طرف دیکھتے ہیں، کبھی اپنے گھر کو حیرت سے دیکھتے ہیں۔

مرزا غالب

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

جگر مراد آبادی

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

دواکر راہی

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

ندا فاضلی

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ

پھر ملیں گے اگر خدا لایا

میرؔ کہتے ہیں: اب میں بت کدے سے رخصت ہو رہا ہوں۔

اگر خدا نے چاہا اور موقع بنایا تو پھر ملاقات ہو جائے گی۔

میرؔ کہتے ہیں: اب میں بت کدے سے رخصت ہو رہا ہوں۔

اگر خدا نے چاہا اور موقع بنایا تو پھر ملاقات ہو جائے گی۔

میر تقی میر

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

بسمل عظیم آبادی
بولیے