سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
20مقبول ترین اشعار کا
مجموعہ
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔
-
موضوعات: جنتاور 4 مزید
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
-
موضوعات: ترغیبیاور 6 مزید
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
-
موضوعات: پارلیمنٹاور 3 مزید
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
-
موضوعات: اقبال ڈےاور 4 مزید
عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔
-
موضوعات: عشقاور 4 مزید
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب کی ایک جھلک عاشق کے چہرے پر وقتی چمک اور تازگی لے آتی ہے، مگر اندر کا درد جوں کا توں رہتا ہے۔ لوگ اس ظاہر ہونے والی رونق کو صحت کی علامت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ شعر میں محبت کی بیماری، باطنی کرب اور ظاہر و باطن کے فرق کی لطیف تصویر ہے۔
-
موضوع: ضرب المثل
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
-
موضوعات: عشقاور 4 مزید
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
-
موضوعات: اقبال ڈےاور 3 مزید
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
-
موضوعات: آرزواور 6 مزید
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
-
موضوعات: پارلیمنٹاور 6 مزید
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
غالب کے ہاں محبوب کی آمد اتنی غیر متوقع ہے کہ اسے خدا کی قدرت کہا گیا ہے۔ عاشق کی نگاہ کبھی محبوب پر، کبھی اپنے گھر پر ٹھہرتی ہے، جیسے یقین کرنے کے لیے بار بار دیکھ رہا ہو۔ اس میں حیرت، شکر اور خوش نصیبی کا لطیف احساس مرکزی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
غالب کے ہاں محبوب کی آمد اتنی غیر متوقع ہے کہ اسے خدا کی قدرت کہا گیا ہے۔ عاشق کی نگاہ کبھی محبوب پر، کبھی اپنے گھر پر ٹھہرتی ہے، جیسے یقین کرنے کے لیے بار بار دیکھ رہا ہو۔ اس میں حیرت، شکر اور خوش نصیبی کا لطیف احساس مرکزی ہے۔
-
موضوعات: استقبالاور 2 مزید
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
-
موضوعات: ایٹی ٹیوڈاور 4 مزید
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
-
موضوعات: فلمی اشعاراور 1 مزید
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر رخصت کی نرمی اور جدائی کی بے یقینی بیان کرتا ہے۔ عاشق محبوب کے آستانے کو “بت کدہ” کہہ کر اپنی عقیدت بھی دکھاتا ہے اور اپنی بے بسی بھی۔ “اگر خدا لایا” میں امید بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کہ دوبارہ ملنا تقدیر اور مشیتِ الٰہی کے ہاتھ میں ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر رخصت کی نرمی اور جدائی کی بے یقینی بیان کرتا ہے۔ عاشق محبوب کے آستانے کو “بت کدہ” کہہ کر اپنی عقیدت بھی دکھاتا ہے اور اپنی بے بسی بھی۔ “اگر خدا لایا” میں امید بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ اعتراف کہ دوبارہ ملنا تقدیر اور مشیتِ الٰہی کے ہاتھ میں ہے۔
-
موضوعات: الوداعاور 3 مزید
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
-
موضوعات: ترغیبیاور 4 مزید