میکدے پر شاعری

شاعروں نے مے ومیکدے کے مضامین کو بہت تسلسل کے ساتھ باندھا ہے ۔ کلاسیکی شاعری کا یہ بہت مرغوب مضمون رہا ہے ۔ میکدے کا یہ شعری بیان اتنا دلچسپ اور اتنا رنگا رنگ ہے کہ آپ اسے پڑھ کر ہی خود کو میکدے کی ہاؤ ہو میں محسوس کرنے لگیں گے ۔ میکدے سے جڑے ہوئے اور بھی بہت سے پہلو ہیں ۔ زاہد ، ناصح ، توبہ ، مسجد ، ساقی جیسی لفظیات کے گرد پھیلے ہوئے اس موضوع پر مشتمل ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو پسند آئے گا ۔

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

عبد الحمید عدم

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

the tavern does not even give that much wine to me

that I was wont to waste in the goblet casually

the tavern does not even give that much wine to me

that I was wont to waste in the goblet casually

دواکر راہی

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

we came to the tavern all gay and frolicsome

now having drunk the wine, somber have become

we came to the tavern all gay and frolicsome

now having drunk the wine, somber have become

فراق گورکھپوری

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں

چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

neither are you in your senses nor am I in mine

let us now go to the tavern and talk while we have wine

neither are you in your senses nor am I in mine

let us now go to the tavern and talk while we have wine

بشیر بدر

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

Wherefrom the 'saintly' priest, and where the tavern's door

But as I entered he was leaving, this much I do know

Wherefrom the 'saintly' priest, and where the tavern's door

But as I entered he was leaving, this much I do know

مرزا غالب

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا

ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ

کوئی آفت ادھر نہیں آتی

عبد الحمید عدم

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس

میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

عبد الحمید عدم

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی

اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

اختر شیرانی

پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں یہاں

مے کدہ میں کوئی چھوٹا نہ بڑا جام اٹھا

بشیر بدر

مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر

مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا

ریاضؔ خیرآبادی

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم

کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

خمارؔ بارہ بنکوی

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے

ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

امیر مینائی

کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا

آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

اقبال صفی پوری

مسجد میں بلاتے ہیں ہمیں زاہد نا فہم

ہوتا کچھ اگر ہوش تو مے خانے نہ جاتے

امیر مینائی

مے خانے میں مزار ہمارا اگر بنا

دنیا یہی کہے گی کہ جنت میں گھر بنا

ریاضؔ خیرآبادی

سرک کر آ گئیں زلفیں جو ان مخمور آنکھوں تک

میں یہ سمجھا کہ مے خانے پہ بدلی چھائی جاتی ہے

نشور واحدی

ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے

لطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے

اصغر گونڈوی

یہ مے خانہ ہے بزم جم نہیں ہے

یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے

جگر مراد آبادی

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید

مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

when the tavern is no more, why bans should elsewhere be?

be it mosque, madrasaa or else maybe monastery

when the tavern is no more, why bans should elsewhere be?

be it mosque, madrasaa or else maybe monastery

مرزا غالب

مے کدے کی طرف چلا زاہد

صبح کا بھولا شام گھر آیا

the priest now proceeds towards the tavern's door

to the true path returns he who strayed before

the priest now proceeds towards the tavern's door

to the true path returns he who strayed before

کلیم عاجز

ہوش آنے کا تھا جو خوف مجھے

مے کدے سے نہ عمر بھر نکلا

جلیل مانک پوری

روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے

مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے

داغؔ دہلوی

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم

بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

نظیر اکبرآبادی

یہ کہہ دو حضرت ناصح سے گر سمجھانے آئے ہیں

کہ ہم دیر و حرم ہوتے ہوئے مے خانے آئے ہیں

tell this to the priest if he has come to preach

I first went to the mosque, then did the tavern reach

tell this to the priest if he has come to preach

I first went to the mosque, then did the tavern reach

نامعلوم

جان میری مے و ساغر میں پڑی رہتی ہے

میں نکل کر بھی نکلتا نہیں مے خانے سے

جلیل مانک پوری

رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے

جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے

اصغر گونڈوی

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو

تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

حفیظ جونپوری

مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخیٔ مے سے

تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

توبہ کھڑی ہے در پہ جو فریاد کے لئے

یہ مے کدہ بھی کیا کسی قاضی کا گھر ہوا

احمد حسین مائل

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

حبیب موسوی

چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے

راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا

اقبال صفی پوری

زندگی نام اسی موج مے ناب کا ہے

مے کدے سے جو اٹھے دار و رسن تک پہنچے

کمال احمد صدیقی

مے کدے میں نشہ کی عینک دکھاتی ہے مجھے

آسماں مست و زمیں مست و در و دیوار مست

حیدر علی آتش

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے

میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا

بیخود بدایونی

چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے

میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ

بقا اللہ بقاؔ

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

حبیب موسوی

مے خانے کی سمت نہ دیکھو

جانے کون نظر آ جائے

حفیظ میرٹھی

بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینا

بتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزری

جگن ناتھ آزاد

کوئی دن آگے بھی زاہد عجب زمانہ تھا

ہر اک محلہ کی مسجد شراب خانہ تھا

قائم چاندپوری

اے مصحفیؔ اب چکھیو مزا زہد کا تم نے

مے خانے میں جا جا کے بہت پی ہیں شرابیں

مصحفی غلام ہمدانی

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد

میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

حبیب موسوی

مے کدہ جل رہا ہے تیرے بغیر

دل میں چھالے ہیں آبگینے کے

لالہ مادھو رام جوہر

خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑے

وہ محتسب کی سواری فریب راہ رکی

حبیب موسوی

دخت رز اور تو کہاں ملتی

کھینچ لائے شراب خانے سے

شرف مجددی

شیخ اس کی چشم کے گوشے سے گوشے ہو کہیں

اس طرف مت جاؤ ناداں راہ مے خانے کی ہے

شیخ ظہور الدین حاتم