جنت پر شاعری

مذہب اسلام کے مطابق جنت اورجہنم دوٹھکانے ہیں جومرنے کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ روایتوں میں ہے کہ انسانی ذہن آسائشوں اورنعمتوں کاجوتصور کرسکتا ہے جنت میں وہ سب اس سے کہیں زیادہ بڑھ کرہیں ۔ جنت کےاس تصور کوشاعروں نے ایک دوسری ہی سطح پراخذ کیاہے ۔ عشق اورمحبوب کے تصورکی مرکزیت کی بنا پرجنت کو کوچۂ یار کے استعارے کے طور پر بھی برتا گیا ہے اور بعض جگہوں پرواعظ سے جوجنت کی طرف بلانے والا ہے جھگڑے بھی ہوئے ہیں ۔ یہ جھگڑے جنت کی حقیقت کو لیکربھی ہیں ، کوچۂ یاراور جنت کے مقابلے میں بھی ۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

مرزا غالب

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

where virgins aged a million years reside

hopes for such a heaven why abide

where virgins aged a million years reside

hopes for such a heaven why abide

داغؔ دہلوی

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو

کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

علامہ اقبال

جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے

سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا

احمد ندیم قاسمی

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ

کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

فانی بدایونی

گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد

یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے

جگر مراد آبادی

میں سمجھتا ہوں کہ ہے جنت و دوزخ کیا چیز

ایک ہے وصل ترا ایک ہے فرقت تیری

جلیل مانک پوری

کہتے ہیں جس کو جنت وہ اک جھلک ہے تیری

سب واعظوں کی باقی رنگیں بیانیاں ہیں

الطاف حسین حالی