Majrooh Sultanpuri's Photo'

مجروح سلطانپوری

1919 - 2000 | ممبئی, ہندوستان

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

9.38K
Favorite

باعتبار

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی

کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے

تمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کی

ایسے ہنس ہنس کے نہ دیکھا کرو سب کی جانب

لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا

ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ

تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں

الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پر

اگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گے

بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ

کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے

اب سوچتے ہیں لائیں گے تجھ سا کہاں سے ہم

اٹھنے کو اٹھ تو آئے ترے آستاں سے ہم

رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح

بیٹھے ہیں انہیں کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرح

روک سکتا ہمیں زندان بلا کیا مجروحؔ

ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئے

نکل کے ہم تری محفل سے راہ بھول گئے

زباں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروحؔ

ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے

مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے

مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

دل کی تمنا تھی مستی میں منزل سے بھی دور نکلتے

اپنا بھی کوئی ساتھی ہوتا ہم بھی بہکتے چلتے چلتے

فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ

شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقی

تجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سے

مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام

ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

مجروحؔ قافلے کی مرے داستاں یہ ہے

رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

ہم ہیں کعبہ ہم ہیں بت خانہ ہمیں ہیں کائنات

ہو سکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجیے

وہ آ رہے ہیں سنبھل سنبھل کر نظارہ بے خود فضا جواں ہے

جھکی جھکی ہیں نشیلی آنکھیں رکا رکا دور آسماں ہے

تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروح

چل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

چاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ

سیر ساحل کر چکے اے موج ساحل سر نہ مار

تجھ سے کیا بہلیں گے طوفانوں کے بہلائے ہوئے

جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے

جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے

دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے

قتل گہہ تھی جسے ہم محفل یاراں سمجھے

اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل

اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے

بڑھائی مے جو محبت سے آج ساقی نے

یہ کانپے ہاتھ کہ ساغر بھی ہم اٹھا نہ سکے

کچھ بتا تو ہی نشیمن کا پتا

میں تو اے باد صبا بھول گیا

سنتے ہیں کہ کانٹے سے گل تک ہیں راہ میں لاکھوں ویرانے

کہتا ہے مگر یہ عزم جنوں صحرا سے گلستاں دور نہیں

تشنگی ہی تشنگی ہے کس کو کہیے مے کدہ

لب ہی لب ہم نے تو دیکھے کس کو پیمانہ کہیں

میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و در

میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ

اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے

شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں

گلوں سے بھی نہ ہوا جو مرا پتا دیتے

صبا اڑاتی پھری خاک آشیانے کی

میں کہ ایک محنت کش میں کہ تیرگی دشمن

صبح نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے

بے تیشہ نظر نہ چلو راہ رفتگاں

ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملے

جس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہم

کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سے

مرے قدموں کی گلکاری بیاباں سے چمن تک ہے

ہٹ کے روئے یار سے تزئین عالم کر گئیں

وہ نگاہیں جن کو اب تک رائیگاں سمجھا تھا میں