تمام
تعارف
غزل114
نظم433
شعر136
ای-کتاب1302
ٹاپ ٢٠ شاعری 21
تصویری شاعری 22
اقوال10
آڈیو 58
ویڈیو 463
قطعہ10
رباعی23
قصہ13
گیلری 10
بلاگ2
دیگر
علامہ اقبال کے اشعار
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں نرگس کو آنکھ کی علامت بنا کر بے نوری کو روحانی و فکری اندھا پن کہا گیا ہے۔ چمن سے مراد معاشرہ ہے جہاں سچی بصیرت رکھنے والا رہنما بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ شعر کا جذبہ ایک طرف محرومی اور حسرت ہے، دوسری طرف اس نادر بصیرت کے ظہور کی امید بھی۔
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال کے ہاں “شاہیں” بلند ہمت اور خوددار انسان کی علامت ہے۔ قصرِ سلطانی کا گنبد آسائش، چاپلوسی اور اقتدار کے سائے میں جینے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ پہاڑوں کی چٹانیں آزادی، سخت کوشی اور بلندی کی نشان دہی کرتی ہیں۔ شعر کا پیغام یہ ہے کہ آسان سہولتوں کے بدلے اپنی خودی نہ بیچی جائے۔ جذبہ یہ ہے کہ آدمی باوقار اور خودمختار زندگی اختیار کرے۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں ظاہر کی تیزی اور باطن کی سستی کا تضاد ہے۔ مسجد بن جانا دین داری کے ظاہری کام کی علامت ہے، مگر شاعر اعتراف کرتا ہے کہ اندر کا انسان نہیں بدلا۔ اصل دکھ یہ ہے کہ عبادت کی عمارت بنانا آسان، اپنے نفس کی اصلاح مشکل ہے۔ لہٰذا شعر خود احتسابی اور باطنی جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں زندگی کی حقیقت کو باہر نہیں بلکہ باطن میں تلاش کرنے کی تلقین ہے۔ “ڈوبنا” خودی کی گہرائی تک پہنچنے کا استعارہ ہے، جہاں معنی اور سمت ملتی ہے۔ دوسرے مصرع میں وابستگی کی نفی نہیں، بلکہ غلامانہ وابستگی سے انکار ہے: اپنا ہونا، خود پر قائم ہونا۔ جذبہ بیداری، خودمختاری اور مقصدیت کا ہے۔
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دنیاوی محفلوں کی چمک دمک سے بیزاری کا شکوہ خدا سے کرتا ہے۔ محفل و انجمن بیرونی رنگینی کی علامت ہیں، اور “دل کا بجھ جانا” اندر کی حرارت، شوق اور معنی کے ختم ہو جانے کا استعارہ ہے۔ جب اندر چراغ نہ رہے تو باہر کی رونق بھی بے لطف لگتی ہے۔ اس میں دل شکستگی کے ساتھ سچی طلب اور روحانی بیداری کی آرزو چھپی ہے۔
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر ویرانی کو مستقل انجام نہیں مانتا بلکہ عارضی کیفیت سمجھتا ہے۔ “کشتِ ویراں” رک جانے والی زندگی/قوم کی علامت ہے اور “نمی” تربیت، محنت، رہنمائی یا ولولے کا استعارہ۔ ساقی کو مخاطب کر کے شاعر اسی زندگی بخش محرک کی طلب کرتا ہے۔ اصل جذبہ امید، خود اعتمادی اور پوشیدہ صلاحیت پر یقین ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں “طائرِ لاہوتی” بلند انسانی روح اور خودی کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسا رزق جو انسان کی پروازِ فکر، ہمت اور آزادی کو کم کر دے، وہ زندگی سے بھی بدتر ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ عزتِ نفس اور بلند مقصد کے لیے تنگی قبول کر لو، مگر وہ آسائش نہ لو جو پر کاٹ دے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے مطابق جنت و جہنم کوئی دور کی چیزیں نہیں، انسان اپنے اعمال سے انہیں اپنی زندگی میں برپا کر لیتا ہے۔ انسان “خاکی” ہے، اس کی فطرت پہلے سے نہ نورانی خیر ہے نہ ناری شر؛ وہ امکانات کا مجموعہ ہے۔ اصل زور اختیار اور ذمہ داری پر ہے کہ انجام کردار سے بنتا ہے۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں سخت انداز میں خبردار کرتے ہیں کہ قوم جب اپنی حالت اور ذمہ داری کو نہیں سمجھتی تو وہ زوال کا شکار ہو کر مٹ جاتی ہے۔ “مٹ جانا” صرف جسمانی تباہی نہیں بلکہ شناخت، وقار اور اثر کے ختم ہونے کا استعارہ ہے۔ دوسری مصرع میں بات مزید شدید ہو جاتی ہے کہ پھر یاد اور تاریخ میں بھی جگہ نہیں رہتی۔ مرکزی جذبہ بیداری اور خود آگاہی کی فوری پکار ہے۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں عورت کو کائنات کی رونق اور زندگی کی باطنی حرارت کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ “تصویرِ کائنات” میں “رنگ” اس کے وجود کی وجہ سے ہے، یعنی عالم میں نکھار اور معنی پیدا ہوتے ہیں۔ “ساز” ایک استعارہ ہے جو عورت کے لطیف اثر اور تخلیقی قوت کو موسیقی کی طرح دکھاتا ہے۔ اسی سے زندگی میں سوزِ دروں، یعنی اندرونی جذبہ اور گرمیِ احساس جنم لیتے ہیں۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک خلوص سے نکلی ہوئی بات اپنی تاثیر خود لے کر آتی ہے۔ “بےپر اڑان” سے مراد یہ ہے کہ ظاہری سہارے—مرتبہ، لفاظی یا وسیلے—نہ ہوں تب بھی سچی بات بلند ہو کر دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس شعر کا جذبہ باطنی قوت اور سچائی پر اعتماد ہے۔
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں آسان ظلم اور مشکل شفقت کا تقابل ہے۔ نشہ ہر اُس ترغیب یا اثر کی علامت ہے جو آدمی کو کمزور کرے، اور ساقی اختیار رکھنے والے شخص کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے گرانا عام بات ہے؛ کمال یہ ہے کہ جو گر رہے ہوں انہیں سہارا دے کر بچایا جائے۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال اس شعر میں مذہب کے نام پر نفرت اور تفریق کی نفی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل شناخت مشترک وطن اور باہمی احترام ہے، نہ کہ آپس کی دشمنی۔ مرکزی جذبہ اتحاد، اخوت اور رواداری کی دعوت ہے۔
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبت کا اصل حکم نگاہ ہی سناتی ہے، الفاظ ثانوی ہیں۔ نگاہ کی شوخی دل میں کھنچاؤ، اعتماد اور رغبت جگاتی ہے اور اسی سے دل متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ چمک اور چھیڑ چھاڑ بھری کیفیت نہ ہو تو دلبری بے رنگ اور بے اثر ہو جاتی ہے۔
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال اس شعر میں نسبی اور سماجی شناخت پر فخر کو ہدف بناتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کہیں یہ لقب دین کی اصل روح کی جگہ تو نہیں لے گئے۔ پہلی مصرع میں بیرونی پہچانیں گنوائی گئی ہیں، دوسری میں ایمان و عمل کی سچائی کا کڑا سوال ہے۔ مرکزی استعارہ یہی ہے کہ نام اور نسل کافی نہیں، مسلمان ہونا کردار اور اطاعت سے ثابت ہوتا ہے۔ لہجہ تنبیہی اور خود احتسابی کا ہے۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں “عقاب” کو بلند ہمتی، آزادی اور خوداعتمادی کی علامت بناتے ہیں۔ جب نوجوانوں میں اندرونی بیداری پیدا ہوتی ہے تو اُن کی سوچ عام اور محدود مقاصد سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ پھر انہیں اپنی منزل بھی بلند نظر آتی ہے اور وہ اونچے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ شعر خودی کو جگا کر عظمت کی طرف بڑھنے کا پیغام ہے۔
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دل اور عقل کے بیچ توازن سکھاتا ہے۔ عقل کو پاسبان کہہ کر بتایا کہ وہ دل کو لغزشوں سے بچا سکتی ہے، مگر ہر وقت کی سخت نگرانی جذبے، محبت اور جرات کو دبا بھی دیتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی دل کی اپنی آواز پر بھروسہ کر کے اسے آزادی دینا ضروری ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عشق اور عقل کا تقابل ہے: عشق کا جوہر جرات مند عمل ہے اور عقل کا مزاج احتیاط و تردد۔ آتشِ نمرود سخت آزمائش کی علامت ہے جس میں قدم رکھنے کے لیے خود سپردگی چاہیے۔ عشق خطرے کی پروا کیے بغیر کود جاتا ہے، جبکہ عقل حدِ فاصل پر رکی رہ کر دیکھتی رہتی ہے۔ مرکزی جذبہ یہ ہے کہ زندگی میں فیصلہ کن قدم عشق ہی اٹھاتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر اس نظام پر ضرب ہے جہاں پیداوار تو بہت ہو مگر دہقاں محروم رہے۔ کھیت یہاں معاشی و سماجی ڈھانچے کی علامت ہے، اور خوشۂ گندم اس کی ظاہری کامیابی۔ “جلا دو” ایک استعاراتی اعلان ہے کہ ایسی ناانصافی کو قبول نہ کرو، ضرورت پڑے تو اس نفع بخش مگر ظالمانہ نظام کو ہی ختم کر دو۔ جذبہ احتجاج، غیرت اور انصاف طلبی کا ہے۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک غلامی صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی کیفیت بھی ہے، اس لیے محض طاقت یا منصوبہ بندی کافی نہیں۔ اصل استعارہ یہ ہے کہ زنجیریں بیرونی بندشیں ہیں اور ذوقِ یقین اندرونی بیداری۔ جب انسان کے اندر پختہ یقین اور جرات پیدا ہو جائے تو وہ خود اپنی قید کے اسباب توڑ دیتا ہے۔ آزادی کی کنجی باہر نہیں، باطن میں ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک فتح کا راستہ ہتھیار نہیں بلکہ باطنی صفات ہیں: مضبوط یقین، پیہم کوشش اور وسیع محبت۔ “جہادِ زندگانی” سے مراد زندگی کا دائمی امتحان اور کشمکش ہے جس میں انسان خود کو سنوارتا ہے۔ شاعر ان اوصاف کو “شمشیریں” کہہ کر بتاتا ہے کہ اصل قوت کردار میں ہوتی ہے۔ یہ شعر حوصلہ، عمل اور امید کی تلقین کرتا ہے۔
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال یہاں دین کی بنیادوں کی وحدت کو نمایاں کر کے مسلمانوں کے باہمی انتشار پر افسوس کرتے ہیں۔ حرم، اللہ اور قرآن ایک مشترک مرکز اور سمت کی علامت ہیں۔ مگر پیروکار گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، اسی لیے قوت اور عظمت کمزور پڑ جاتی ہے۔ شعر دراصل اتحادِ امت کی صدا اور خود احتسابی ہے۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر الٹی ہوئی عقیدت پر گرفت کرتا ہے کہ بے جان بتوں سے آس لگتی ہے مگر خدا سے مایوسی۔ امید اور ناامیدی کا یہ تضاد انسان کی اندرونی خرابی اور خود فریبی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے دوسرا مصرع سوال کی صورت میں فیصلہ سناتا ہے کہ یہی رویّہ کفر کی اصل پہچان ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال اس شعر میں غفلت میں ڈوبے فرد/قوم کو جھنجھوڑتے ہیں کہ وطن کی فکر اور بیداری نہ ہوئی تو بہت بڑا نقصان قریب ہے۔ “آسمانوں میں مشورے” سے مراد یہ ہے کہ حالات اور طاقتیں تمہارے خلاف سمت بنا چکی ہیں۔ جذبۂ مرکزی خوف اور تنبیہ ہے: سنبھلو، ورنہ زوال طے ہو جائے گا۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں اس جمہوری نظام پر تنقید کرتے ہیں جو انسان کو محض عدد بنا دیتا ہے۔ “گننا” اکثریت اور ووٹوں کی گنتی کا استعارہ ہے، جبکہ “تولنا” اہلیت، کردار اور حقیقی قدر کی پرکھ کو ظاہر کرتا ہے۔ شعر کی روح یہ ہے کہ صرف تعداد کی بنیاد پر فیصلہ انصاف سے دور لے جا سکتا ہے۔ یہ ایک تلخ مگر بیدار کرنے والا احساس ہے کہ نظام برابری کا دعویٰ کرے مگر معیار نظرانداز کر دے۔
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں ظاہر کی عبادت اور باطن کی کیفیت کا تضاد بیان ہوا ہے۔ زمین سے آنے والی صدا دراصل ضمیر کی پکار ہے جو بتاتی ہے کہ دل ابھی غیر کی محبت میں گرفتار ہے۔ اقبال کے نزدیک اخلاص کے بغیر سجدہ محض رسم رہ جاتا ہے، ایسی نماز سے حقیقی قرب اور تبدیلی نہیں ملتی۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں اقبال دنیاوی دولت کے مقابلے میں روحانی دولت کو برتر ٹھہراتے ہیں۔ “دردِ دل” سے مراد وہ باطنی احساس اور انسانی ہمدردی ہے جو خدمت اور عاجزی سے پیدا ہوتی ہے۔ فقیروں کی خدمت اس گوہر تک پہنچنے کا راستہ ہے، جبکہ بادشاہوں کے خزانے محض ظاہری مال ہیں جو یہ کیفیت نہیں خرید سکتے۔
نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال کے نزدیک رہنما وہ ہے جس کے پاس بلند مقصد، نرم و مؤثر گفتگو اور اندرونی سوز ہو۔ ان صفات کو “رختِ سفر” کہہ کر بتایا گیا ہے کہ قیادت محض اختیار نہیں، مسلسل جدوجہد اور ذمہ داری کا سفر ہے۔ قافلے کی تمثیل اجتماعی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ایک فرد کے اخلاقی اوصاف سب کی سمت طے کرتے ہیں۔ اس شعر کی روح خودی، خلوص اور عمل کی دعوت ہے۔
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ خدا کے آزاد بندے دنیا و آخرت کی ظاہری حدبندیوں میں قید نہیں ہوتے۔ دنیا میں ہر جاندار پر موت کی پابندی ہے، اور آخرت میں زندگی کی پابندی۔ مگر روحانی آزادی کا مقام ایسا ہے کہ آدمی ان مجبوریوں کو بھی ایک بڑے معنوی افق میں دیکھتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں شاعر زمانے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں حیا باقی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہ مخاطب کے لیے دعا کرتا ہے کہ اس کی جوانی بے داغ رہے اور برائی کے اثر سے بچی رہے۔ “آنکھ” معاشرتی شعور اور “داغ” کردار کی آلودگی کی علامت ہیں۔ جذبہ فکر مندی اور خیر خواہی کا ہے۔
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ علم اپنے اندر سرور رکھتا ہے، لیکن شاعر اسے مکمل نجات یا کامل مسرت نہیں مانتا۔ “جنت” اور “حور” کا استعارہ بتاتا ہے کہ محض عقلی خوشی میں دل کی پوری پیاس نہیں بجھتی۔ اصل کیفیت یہ ہے کہ علم مفید ہے، مگر محبت/روحانیت/حسن کی گرمی کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔
-
موضوع : علم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں اپنے وجود کی پہچان کی گہری جستجو بیان ہوئی ہے۔ سفر کا استعارہ بتاتا ہے کہ زندگی کی راہ میں آدمی خود کو ڈھونڈتا رہتا ہے۔ لیکن نتیجہ یہ ہے کہ جسے ڈھونڈ رہے ہیں وہ باہر نہیں، اندر ہی ہے: تلاش کرنے والا بھی وہی ہے اور پانے کی جگہ بھی وہی۔ اس میں تنہائی، فکر اور خود شناسی کی شدت جھلکتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی گفتگو کے انداز کو سادہ اور کم رنگ مانتا ہے، مگر اسے یقین ہے کہ بات کی سچائی اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔ یہاں “دل میں اتر جانا” قبولیت اور اندر تک پہنچنے کا استعارہ ہے۔ جذبہ انکساری کا بھی ہے اور امید کا بھی کہ پیغام بناوٹ سے نہیں، معنی سے دل میں جگہ بناتا ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر آسمان کو تقدیر اور طاقتور حالات کی علامت بنا کر مخاطب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم باطل، ظلم اور جھوٹ کے دباؤ میں آنے والے نہیں، کیونکہ بار بار کی آزمائشیں ہمیں توڑنے کے بجائے مضبوط کر چکی ہیں۔ یہاں جذبۂ بغاوت اور استقامت نمایاں ہے۔ پیغام یہ ہے کہ حق کے ساتھ ڈٹے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال خدا کی قدرت اور عدل کو مانتے ہوئے بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ پھر مزدور کی زندگی اتنی تلخ کیوں ہے۔ یہاں “تلخ اوقات” مسلسل محنت، محرومی اور ناانصافی کی علامت ہیں۔ شعر کا جذباتی مرکز دعا اور احتجاج کا ملاپ ہے: ایمان برقرار ہے مگر سماجی ظلم پر دل بے چین ہے۔
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر بہشت کی آسودگی سے دور کیے جانے پر سوال اٹھاتا ہے اور اسے انسانی زندگی کی جدوجہد و ذمہ داریوں کا استعارہ بناتا ہے۔ سفر یہاں مقصدِ حیات اور مشن کی علامت ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ محبوب/اصل وطن کو تسلی دیتا ہے کہ دنیا کا کام دراز ہے مگر واپسی ضرور ہوگی۔ کیفیت میں ہجر کی تڑپ بھی ہے اور فرض نبھانے کا عزم بھی۔
-
موضوع : انتظار
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں مشاہدے کی گہرائی اور اظہار کی بے بسی نمایاں ہے۔ آنکھ یہاں براہِ راست ادراک کی علامت ہے اور لب زبان و بیان کی حد کی۔ شاعر ایسی تبدیلی کا احساس کرتا ہے جو معمول کی سمجھ سے باہر ہے، اسی لیے وہ محوِ حیرت ہے کہ دنیا ایک حال سے نکل کر بالکل دوسری صورت اختیار کر لے گی۔
سو سو امیدیں بندھتی ہے اک اک نگاہ پر
مجھ کو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی دل کی نزاکت بیان کرتا ہے کہ معمولی سی نگاہ بھی بے شمار توقعات جگا دیتی ہے۔ محبت بھری نظر یہاں وعدے کے سے اثر کی علامت بن جاتی ہے۔ اسی ڈر سے وہ التجا کرتا ہے کہ یوں پیار سے نہ دیکھو، کہیں یہ امیدیں بعد میں دکھ نہ بن جائیں۔
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں انسانِ خاکی کو “ٹوٹا ہوا تارا” کہا گیا ہے جو بظاہر کمزور اور گرا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے عروج سے آسمانی ستارے بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ “مہِ کامل” کمال، تکمیل اور پوری روشنی کی علامت ہے۔ شعر کا مرکزی جذبہ یہ ہے کہ انسان اپنی محنت اور خودی سے اتنا بلند ہو سکتا ہے کہ قائم شدہ مراتب اور حدیں بھی لرز اٹھیں۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال اس شعر میں سماج کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ پر سخت گرفت کرتے ہیں۔ فرقہ اور ذات محض شناختیں نہیں رہتیں بلکہ انسان کو انسان سے جدا کرنے کی دیواریں بن جاتی ہیں۔ شاعر سوالیہ انداز میں بتاتا ہے کہ ایسی تقسیمیں ترقی نہیں، زوال کی علامت ہیں۔
عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے ہاں حجاب اس رکاوٹ کا استعارہ ہے جو عاشق اور معشوق/حقیقت کے بیچ آ جاتی ہے۔ جب عشق بھی دب جائے اور حسن بھی چھپ جائے تو ملاقات ممکن نہیں رہتی۔ شاعر کی التجا ہے کہ یا تو حقیقت خود جلوہ گر ہو، یا اندر کے پردے ہٹا کر مجھے خود اپنے آپ پر آشکار کر دے۔ اس میں اضطراب، طلب اور خودشناسی کی پیاس نمایاں ہے۔
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں رام کو ہندوستان کی مشترکہ متاع اور فخر کی علامت بنایا گیا ہے۔ “وجود” سے مراد ان کی دیرپا معنوی موجودگی ہے، جو تہذیب و اخلاق میں رچی بسی ہے۔ “اہلِ نظر” کی تعبیر بتاتی ہے کہ گہری نظر رکھنے والے لوگ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر انہیں امامِ ہند یعنی روحانی رہنما مانتے ہیں۔ مرکزی جذبہ عقیدت اور یکجہتی ہے۔
-
موضوع : مذہبی یکجہتی
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر وطن سے محبت اور فخر کا اعلان کرتا ہے اور ہندوستاں کو سب سے افضل کہتا ہے۔ بلبل اور گلستاں کا استعارہ بتاتا ہے کہ اہلِ وطن اس زمین کی رونق اور نغمگی ہیں، اور وطن اُن کی پرورش گاہ۔ جذبہ اپنائیت، شکرگزاری اور اجتماعی شناخت کا ہے۔
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال یہاں جوانی کی اصل مردانگی کو “حق گوئی” اور “بیباکی” سے جوڑتے ہیں۔ “شیر” وقار، غیرت اور اخلاقی جرأت کی علامت ہے، جبکہ “روباہی” مصلحت پرست چالاکی اور بزدلی کا استعارہ۔ شعر کا جذبہ یہ ہے کہ اہلِ حق کو ڈر اور فریب نہیں سجتے، ان کی شان سچ اور دلیری ہے۔
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر اپنی کم مایہ کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ اس کے پاس پیش کرنے کو بس چند قطرے ہیں، جو جذبۂ انفعال سے ٹپکے۔ مگر شانِ کریمی—یعنی خدا کی بے پایاں سخاوت—انہیں موتیوں کی طرح قیمتی سمجھ کر قبول کر لیتی ہے۔ مرکزی احساس شکر، عاجزی اور قبولیتِ الٰہی کی امید ہے۔