Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Bashir Badr's Photo'

بشیر بدر

1935 | بھوپال, انڈیا

معروف جدید شاعر، سادہ و سلیس زبان میں شعر کہنے کے لئے مشہور ہیں، جدید غزل کو معتبَر بنانے والوں میں شامل

معروف جدید شاعر، سادہ و سلیس زبان میں شعر کہنے کے لئے مشہور ہیں، جدید غزل کو معتبَر بنانے والوں میں شامل

بشیر بدر کے اشعار

441.7K
Favorite

باعتبار

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے

جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا

جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے

آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں

مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا

مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے

بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا

یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری

لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

تم محبت کو کھیل کہتے ہو

ہم نے برباد زندگی کر لی

مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے

میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں

دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا

اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

میں چپ رہا تو اور غلط فہمیاں بڑھیں

وہ بھی سنا ہے اس نے جو میں نے کہا نہیں

حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا

جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا

یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا

میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں

پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

وہ چہرہ کتابی رہا سامنے

بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں

تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے

بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

کبھی میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں الجھا

مجھے معلوم ہے قسمت کا لکھا بھی بدلتا ہے

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

انہیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے

مجھے روک روک پوچھا ترا ہم سفر کہاں ہے

دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم

تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے

خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے

نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں

آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے

تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں

اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

بھول شاید بہت بڑی کر لی

دل نے دنیا سے دوستی کر لی

چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا

بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی

محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے

کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے

تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر

عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے

تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے

Recitation

بولیے