بے_چینی پر شاعری

بے چینی محبوب کے ہجر میں حاصل ہونے والی ایک کیفیت ہے ۔ عاشق وصال کی امید میں ہی جیتا ہے ۔ یہ طویل انتظار اسے ناامید تو نہیں کرتا لیکن ایک گہری بے چینی سے بھر دیتا ہے ۔ اس کیفیت سے ہم سب گزرے ہیں اور گزرتے ہیں اس لئے یہ شاعری ہماری اور آپ کی اپنی کتھا ہے ۔

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے

ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

قتیل شفائی

آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں

جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں

جگر مراد آبادی

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

نامعلوم

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری

تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل

اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں

فراق گورکھپوری

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

بہادر شاہ ظفر

دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا

کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

حفیظ جالندھری

نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا

محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں

محمد رفیع سودا

کچھ محبت کو نہ تھا چین سے رکھنا منظور

اور کچھ ان کی عنایات نے جینے نہ دیا

کیف بھوپالی

بھولے بن کر حال نہ پوچھ بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

آرزو لکھنوی

عشق میں بے تابیاں ہوتی ہیں لیکن اے حسنؔ

جس قدر بے چین تم ہو اس قدر کوئی نہ ہو

حسن بریلوی

روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے

کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے

اختر انصاری

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا

میر محمدی بیدار

کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے

تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں

بھارتیندو ہریش چندر