Khumar Barabankavi's Photo'

خمارؔ بارہ بنکوی

1919 - 1999 | بارہ بنکی, ہندوستان

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

13.07K
Favorite

باعتبار

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا

دوستوں کو آزماتے جائیے

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم

قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے

فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے

دوسروں پر اگر تبصرہ کیجئے

سامنے آئنہ رکھ لیا کیجئے

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

knowledge, friends, is poisonous, if its in excess

those who, say, know everything, no knowledge do possess

knowledge, friends, is poisonous, if its in excess

those who, say, know everything, no knowledge do possess

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو

یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس

سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی

وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

آج ناگاہ ہم کسی سے ملے

بعد مدت کے زندگی سے ملے

today I chanced on someone unexpectedly

it was after ages life was face to face with me

today I chanced on someone unexpectedly

it was after ages life was face to face with me

تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔ

ناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیا

یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد

دوستوں کے کرم یاد آتے رہے

پھول کر لے نباہ کانٹوں سے

آدمی ہی نہ آدمی سے ملے

محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر

کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

if love you need to fathom, friend, in love you need to be

the storm cannot be felt by merely sitting by the sea

if love you need to fathom, friend, in love you need to be

the storm cannot be felt by merely sitting by the sea

الٰہی مرے دوست ہوں خیریت سے

یہ کیوں گھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں

عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ

عقل کی سنیے دل کا کہا کیجئے

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ

کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا

to see you in the mosque KHumaar, is rather strange and odd

what calamity occurred that now you think of God?

to see you in the mosque KHumaar, is rather strange and odd

what calamity occurred that now you think of God?

یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پاؤں نازک

نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے

your feet are tender, delicate, harsh are the paths of constancy

on me your vengeance do not wreak, by thus giving me company

your feet are tender, delicate, harsh are the paths of constancy

on me your vengeance do not wreak, by thus giving me company

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم

کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

رات باقی تھی جب وہ بچھڑے تھے

کٹ گئی عمر رات باقی ہے

او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں

رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا ہے

دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

روشنی کے لیے دل جلانا پڑا

کیسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

مجھے کو محرومئ نظارہ قبول

آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی

واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے

مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہے

جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے

ہاتھ اٹھتا نہیں ہے دل سے خمارؔ

ہم انہیں کس طرح سلام کریں

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی

یہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے

what is this place that I have reached, having left your company

what is this place that I have reached, having left your company

ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں

پھر اندھیرے کہاں قیام کریں

if I light up my house then say

where will this darkness go and stay

if I light up my house then say

where will this darkness go and stay

مرے راہ بر مجھ کو گمراہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں

سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے

اک گزارش ہے حضرت ناصح

آپ اب اور کوئی کام کریں

O preacher just one supplication

please find an alternate vocation

O preacher just one supplication

please find an alternate vocation

کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کے

وہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کے

ہم پہ گزرا ہے وہ بھی وقت خمارؔ

جب شناسا بھی اجنبی سے ملے

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے

تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے