Asrarul Haq Majaz's Photo'

اسرار الحق مجاز

1911 - 1955 | لکھنؤ, ہندوستان

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور،آل انڈیا ریڈیوکے رسالہ آواز کے پہلے مدیر،معروف شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے ماموں

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی

کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا

ترے ماتھے پہ یہ آنچل تو بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

I had hoped she would unveil at her own behest

and she waits for someone to make a request

I had hoped she would unveil at her own behest

and she waits for someone to make a request

عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے

حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے

love is needlessly defamed that for vision it is keen

beauty is impatient too for its splendour to be seen

love is needlessly defamed that for vision it is keen

beauty is impatient too for its splendour to be seen

دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو

اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ

تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں

روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے

ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ

پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک

پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے

الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم

حسن کو شرمسار کرنا ہی

عشق کا انتقام ہوتا ہے

بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے

میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے

ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا

انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا

آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم

میری مے خواری ابھی تک راز ہے

یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے

یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا

تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا

بچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں

آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی

دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے

اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں

سب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے

ہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھی

ہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں

مری بربادیوں کا ہم نشینو

تمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے

سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے

سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے

ڈبو دی تھی جہاں طوفاں نے کشتی

وہاں سب تھے خدا کیا نا خدا کیا

پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی

شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا

ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے

یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے

چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر

اب تو بس آواز ہی آواز ہے

روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے

اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے

کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی

میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا

یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہو

یا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئی

اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

ہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہم

اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں

اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

اس سعئ کرم کو کیا کہئے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے

وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی

زندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئی

کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں

یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں

ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ

خون دل بھی شراب ہونا تھا

تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا

کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی

کب کیا تھا اس دل پر حسن نے کرم اتنا

مہرباں اور اس درجہ کب تھا آسماں اپنا

آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ

ملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ

خوب پہچان لو اسرار ہوں میں

جنس الفت کا طلب گار ہوں میں