دیوانگی پر شاعری

عشق میں حاصل ہونے والی دیوانگی سب سے پاک دیوانگی ہے آپ اس دیوانگی کی تھوڑی بہت مقدار سے ضرور گزریں ہوں گے، لیکن یہ سب ہمارے اورآپ کےتجربات ہیں اوریادیں ہیں ۔ ان یادوں اور ان تجربات کو لفظوں میں مچلتا اور پھڑکتا ہوا دیکھنے کے لئے ہمارے اس شعری انتخاب کو پڑھئے ۔

سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں

عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں

اسعد بدایونی

چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی

وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

قتیل شفائی

روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے

ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ

اسرار الحق مجاز

نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی

نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

علامہ اقبال

مدتیں ہو گئیں فرازؔ مگر

وہ جو دیوانگی کہ تھی ہے ابھی

احمد فراز

ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں

جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں

احمد فراز

کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیا

طرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیا

حفیظ بنارسی

کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا

محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے

خواجہ میر درد

ایک دیوانے کو جو آئے ہیں سمجھانے کئی

پہلے میں دیوانہ تھا اور اب ہیں دیوانے کئی

نذیر بنارسی

میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں

جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے

محمود غزنی

جنوں اب منزلیں طے کر رہا ہے

خرد رستہ دکھا کر رہ گئی ہے

عبد الحمید عدم

تمہاری ذات سے منسوب ہے دیوانگی میری

تمہیں سے اب مری دیوانگی دیکھی نہیں جاتی

عزیز وارثی

کھلی نہ مجھ پہ بھی دیوانگی مری برسوں

مرے جنون کی شہرت ترے بیاں سے ہوئی

فراغ روہوی

نئی مشکل کوئی درپیش ہر مشکل سے آگے ہے

سفر دیوانگی کا عشق کی منزل سے آگے ہے

خوشبیر سنگھ شادؔ

عین دانائی ہے ناسخؔ عشق میں دیوانگی

آپ سودائی ہیں جو کہتے ہیں سودائی مجھے

امام بخش ناسخ

دل کے معاملے میں مجھے دخل کچھ نہیں

اس کے مزاج میں جدھر آئے ادھر رہے

لالہ مادھو رام جوہر

کر گئی دیوانگی ہم کو بری ہر جرم سے

چاک دامانی سے اپنی پاک دامانی ہوئی

جلیل مانک پوری