خودداری پر شاعری

خوداری بہترین انسانی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے وجود کی اہمیت کو پہچانتا ہے اوراپنےآس پاس پھیلی ہوئی دنیا سے اپنے رشتوں کو ازسرنوترتیب دیتا ہے ۔ ایک تخلیق کارسے زیادہ جس کا سارا کا سارا سروکار اپنے وجودی معاملات سے ہوتا ہے خودرای اوراس کی مختلف صورتوں سے کون واقف ہوگا۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ خودداری کی پیدا کردہ داخلی قوت کے کئی رنگوں سے گزریں گے۔

کسی کو کیسے بتائیں ضرورتیں اپنی

مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے

نامعلوم

مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے

کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

جاوید اختر

کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے

خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

امیر مینائی

میں ترے در کا بھکاری تو مرے در کا فقیر

آدمی اس دور میں خوددار ہو سکتا نہیں

اقبال ساجد

وقت کے ساتھ بدلنا تو بہت آساں تھا

مجھ سے ہر وقت مخاطب رہی غیرت میری

امیر قزلباش

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

فانی بدایونی

جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے

اس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے

کیف بھوپالی

ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آ گئے

دیکھ تیرا قصر عالی شان خالی کر دیا

اعتبار ساجد

گرد شہرت کو بھی دامن سے لپٹنے نہ دیا

کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں

حسن نعیم

اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

ہٹ کر چلے ہیں رہ گزر کارواں سے ہم

اسرار الحق مجاز

کیا معلوم کسی کی مشکل

خود داری ہے یا خود بینی

حیرت شملوی

متعلقہ موضوعات