خواب پر شاعری

خواب صرف وہی نہیں ہے جس سے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیروں کے پیچھے سر گرداں رہتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب ایسے ہی شعروں پر مشتمل ہے جو خواب اور تعبیر کی کشمکش میں پھنسے انسان کی روداد سناتے ہیں ۔ یہ شاعری پڑھئے ۔ اس میں آپ کو اپنے خوابوں کے نقوش بھی جھلملاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آنکھیں کھولو خواب سمیٹو جاگو بھی


علویؔ پیارے دیکھو سالا دن نکلا

آثار عشق آنکھوں سے ہونے لگے عیاں


بیداری کی ترقی ہوئی خواب کم ہوا

آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں


لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا

عجیب خواب تھا تعبیر کیا ہوئی اس کی


کہ ایک دریا ہواؤں کے رخ پہ بہتا تھا

بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند


وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا

دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے چلے گئے


خوابوں کی شال اوڑھ کے میں اونگھتا رہا

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں


پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہو


جو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا

اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا


اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا


زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے


کھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا

خواب کیا تھا جو مرے سر میں رہا


رات بھر اک شور سا گھر میں رہا

خواب میں بھی تو نظر بھر کے نہ دیکھا ان کو


یہ بھی آداب محبت کو گوارا نہ ہوا

لگتا ہے اتنا وقت مرے ڈوبنے میں کیوں


اندازہ مجھ کو خواب کی گہرائی سے ہوا

رات کو سونا نہ سونا سب برابر ہو گیا


تم نہ آئے خواب میں آنکھوں میں خواب آیا تو کیا

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی


خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

راتوں کو جاگتے ہیں اسی واسطے کہ خواب


دیکھے گا بند آنکھیں تو پھر لوٹ جائے گا

رہا خواب میں ان سے شب بھر وصال


مرے بخت جاگے میں سویا کیا

سرائے دل میں جگہ دے تو کاٹ لوں اک رات


نہیں ہے شرط کہ مجھ کو شریک خواب بنا

سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا


ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا

زندگی خواب ہے اور خواب بھی ایسا کہ میاں


سوچتے رہیے کہ اس خواب کی تعبیر ہے کیا

موضوع