خواب پر اشعار

خواب صرف وہی نہیں ہے

جس سے ہم نیند کی حالت میں گزرتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی ہم زندگی کا بڑا حصہ رنگ برنگے خوابوں میں گزارتے ہیں اور ان خوابوں کی تعبیروں کے پیچھے سر گرداں رہتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب ایسے ہی شعروں پر مشتمل ہے جو خواب اور تعبیر کی کشمکش میں پھنسے انسان کی روداد سناتے ہیں ۔ یہ شاعری پڑھئے ۔ اس میں آپ کو اپنے خوابوں کے نقوش بھی جھلملاتے ہوئے نظر آئیں گے ۔

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو

تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

منور رانا

اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے

کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عرفان صدیقی

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف

اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے

اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

جون ایلیا

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں

کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں

عبید اللہ علیم

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو

باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

احمد فراز

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے

ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

منیر نیازی

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

اظہر عنایتی

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے

سلیم کوثر

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں

انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

ندا فاضلی

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے

مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

جاوید اختر

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں

سزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

گلزار

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

فانی بدایونی

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے

نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

راحت اندوری

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں

اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

افتخار عارف

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

جلیل مانک پوری

آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تمام

اس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں

سراج لکھنوی

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

عمران الحق چوہان

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ

اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

پروین شاکر

دیکھی تھی ایک رات تری زلف خواب میں

پھر جب تلک جیا میں پریشان ہی رہا

رضا عظیم آبادی

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر

آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

اسعد بدایونی

خوابوں پر اختیار نہ یادوں پہ زور ہے

کب زندگی گزاری ہے اپنے حساب میں

فاطمہ حسن

بارہا تیرا انتظار کیا

اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

پروین شاکر

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

احمد فراز

مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیال

حیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

زندگی خواب دیکھتی ہے مگر

زندگی زندگی ہے خواب نہیں

شبنم رومانی

میرے خوابوں میں بھی تو میرے خیالوں میں بھی تو

کون سی چیز تجھے تجھ سے جدا پیش کروں

ساحر لدھیانوی

رات کو سونا نہ سونا سب برابر ہو گیا

تم نہ آئے خواب میں آنکھوں میں خواب آیا تو کیا

جلیل مانک پوری

ہاں کبھی خواب عشق دیکھا تھا

اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے

اختر انصاری

نیند کو لوگ موت کہتے ہیں

خواب کا نام زندگی بھی ہے

احسن یوسف زئی

آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں

لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا

فیصل عجمی

طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں

مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں

عباس رضوی

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے

آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے

ملک زادہ منظور احمد

ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں

ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے

بخش لائلپوری

خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ

اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں

اطہر نفیس

کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں

کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا

شکیل بدایونی

کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں

نیند میری خواب سارے آپ کے

ابن مفتی

دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف

ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

افتخار عارف

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر

آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

مرزا غالب

ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آ گئے

دیکھ تیرا قصر عالی شان خالی کر دیا

اعتبار ساجد

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی

سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

عبید اللہ علیم

ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے

ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے

نصیر احمد ناصر

آنکھوں میں جو بھر لوگے تو کانٹوں سے چبھیں گے

یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

غلام محمد قاصر

زندگی چھین لے بخشی ہوئی دولت اپنی

تو نے خوابوں کے سوا مجھ کو دیا بھی کیا ہے

اختر سعید خان

نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی

صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں

عادل منصوری

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی

خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

احمد فراز

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں

ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

غلام محمد قاصر

ایسا بھی کبھی ہو میں جسے خواب میں دیکھوں

جاگوں تو وہی خواب کی تعبیر بتائے

مصطفی شہاب
بولیے