Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قسمت پر اشعار

قسمت ایک مذہبی تصور

ہے جس کے مطابق انسان اپنے ہرعمل میں پابند ہے ۔ وہ وہی کرتا ہے جو خدا نے اس کی قسمت میں لکھ دیا ہے اور اس کی زندگی کی ساری شکلیں اسی لکھے ہوئے کے مطابق ظہور پزیر ہوتی ہیں ۔ شاعری میں قسمت کے موضوع پر بہت سی باریک اور فلسفیانہ باتیں بھی کی گئی ہیں اور قسمت کا موضوع خالص عشق کے باب میں بھی برتا گیا ہے ۔ اس صورت میں عاشق اپنی قسمت کے برے ہونے پر آنسو بہاتا ہے ۔

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

احمد فراز

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

محبوب سے ملنا اور وصل نصیب ہونا ہماری تقدیر میں لکھا ہی نہیں تھا۔

اگر ہم مزید زندگی پاتے تو بھی نتیجہ یہی نکلتا کہ ہم صرف انتظار ہی کرتے رہتے۔

غالبؔ یہاں مایوسی کے بجائے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدائی اٹل تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہونے کا کوئی غم نہیں، کیونکہ اگر عمر لمبی بھی ہوتی تو وصال تو پھر بھی نہ ہوتا، بس انتظار کی اذیت طویل ہو جاتی۔ گویا موت نے انہیں طویل انتظار کے کرب سے بچا لیا۔

مرزا غالب

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

ظفرؔ کہتا ہے کہ دفن ہونے کے معاملے میں بھی میں بہت بدنصیب ہوں۔

یار کے کوچے میں مجھے دو گز زمین تک نصیب نہ ہوئی۔

یہ شعر آخری ضرورت، یعنی قبر کے لیے جگہ، کو محرومی کی انتہا بنا دیتا ہے۔ “دو گز زمین” کم سے کم حق اور آخری آرام کی علامت ہے، اور “کوئے یار” قربت، گھر اور قبولیت کا استعارہ۔ جذبہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی محبوب کے پاس رہنے کی آرزو ہے، مگر قسمت اسے اس معمولی سی جگہ سے بھی محروم رکھتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر

کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں

مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں

اختر سعید خان

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

تم چاہے جتنا بھی ہوا، کسی صورت میرے نہ بن سکے۔

ورنہ اس دنیا میں کون سی بات ہے جو نہیں ہو جاتی؟

شاعر کو شکوہ ہے کہ بہت کچھ ممکن ہونے کے باوجود محبوب کی وابستگی نصیب نہ ہوئی۔ دوسری مصرعے کا استفہام اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ ہو جاتا ہے، مگر یہی ایک خواہش پوری نہ ہو سکی۔ یہ تقدیر کے سامنے بے بسی اور یکطرفہ محبت کی کسک کو نمایاں کرتا ہے۔

مومن خاں مومن

کبھی میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں الجھا

مجھے معلوم ہے قسمت کا لکھا بھی بدلتا ہے

بشیر بدر

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

بلبل کو نہ باغباں سے شکایت کرنی چاہیے نہ صیاد سے۔

کیونکہ اس کی قسمت میں بہار کے موسم میں بھی قید ہی لکھی تھی۔

یہاں بلبل عاشق/حساس دل کی علامت ہے اور باغباں و صیاد اسبابِ دکھ کے استعارے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ شکوہ کس سے کیا جائے، جب قید تقدیر میں پہلے سے طے تھی۔ بہار جیسے خوشی کے موسم میں قید ہونا دکھ کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ مرکزی جذبہ بے بسی اور تلخ رضا ہے۔

بہادر شاہ ظفر

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

ظفر اقبال

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

شکیب جلالی

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

قائم چاندپوری

ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل

اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا

آزاد انصاری

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

جلیل مانک پوری

کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی

جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے

تمہیں کھو دینے کے بعد ہم ہر جگہ بس یہی سوال کرتے پھرتے ہیں۔

جس کی تقدیر خراب ہو جائے، وہ آخر کرے بھی تو کیا کرے؟

یہ شعر جدائی کے صدمے اور بے قراری کو بیان کرتا ہے کہ محبوب کے کھو جانے سے زندگی کی سمت ہی بگڑ گئی۔ شاعر سوال کرتا پھرتا ہے مگر جواب کہیں نہیں ملتا، کیونکہ اسے یہ سب تقدیر کی مار لگتی ہے۔ “تقدیر بگڑ جانا” زندگی کے نظام کے ٹوٹ جانے کا استعارہ ہے۔ مرکزی جذبہ بے بسی، یاس اور تڑپ ہے۔

فراق گورکھپوری

ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر

وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

سجاد باقر رضوی

نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

محسنؔ بھوپالی

کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے

کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے

قصری کانپوری

تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد

تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

تیرے ساتھ میری قسمت کی مثال قفلِ ابجد (حروف والے تالے) جیسی تھی۔

یہ طے تھا کہ جیسے ہی بات بنے گی (حروف ملیں گے)، ہم جدا ہو جائیں گے۔

شاعر نے اپنی قسمت کو ایک ایسے تالے سے تشبیہ دی ہے جو خاص حروف ملانے سے کھلتا ہے۔ تالے کا کھلنا دراصل اس کے حصوں کا جدا ہونا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ میری بدقسمتی یہ ہے کہ جونہی محبوب سے 'بات بنتی ہے' (تعلق قائم ہوتا ہے یا وصل کا موقع آتا ہے)، اسی کامیابی کے نتیجے میں فوراً جدائی ہو جاتی ہے۔

مرزا غالب

جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے

جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے

امام بخش ناسخ

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا

ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا

اطہر نفیس

خوش نصیبی میں ہے یہی اک عیب

بد نصیبوں کے گھر نہیں آتی

رسا جالندھری

زور قسمت پہ چل نہیں سکتا

خامشی اختیار کرتا ہوں

عزیز حیدرآبادی

سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں

نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے

امیر قزلباش

تدبیر سے قسمت کی برائی نہیں جاتی

بگڑی ہوئی تقدیر بنائی نہیں جاتی

صرف تدبیر کرنے سے قسمت کی خرابی دور نہیں ہوتی۔

جو تقدیر بگڑ چکی ہو، وہ دوبارہ سنور نہیں سکتی۔

داغؔ دہلوی اس شعر میں انسانی کوشش کی حد اور تقدیر کی بالادستی دکھاتے ہیں۔ “قسمت کی برائی” کو ایسی کمزوری کہا گیا ہے جو تدبیر سے نہیں جاتی۔ لہجہ بے بسی اور رضا کا ہے: بعض حالات انسان کے اختیار سے باہر رہتے ہیں اور انہیں چاہ کر بھی بدلا نہیں جا سکتا۔

داغؔ دہلوی

بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا غافلؔ

یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد

منور خان غافل

اپنی قسمت میں سبھی کچھ تھا مگر پھول نہ تھے

تم اگر پھول نہ ہوتے تو ہمارے ہوتے

اشفاق ناصر

خدا توفیق دیتا ہے جنہیں وہ یہ سمجھتے ہیں

کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بنا کرتی ہیں تقدیریں

نامعلوم

پھول کھلے ہیں گلشن گلشن

لیکن اپنا اپنا دامن

جگر مراد آبادی

کب ہنسا تھا جو یہ کہتے ہو کہ رونا ہوگا

ہو رہے گا مری قسمت میں جو ہونا ہوگا

نامعلوم

میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر

مجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے

اکبر الہ آبادی

تمہیں پتا ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں

تمہارے نام کے سارے حروف بنتے ہیں

فریحہ نقوی

دولت نہیں کام آتی جو تقدیر بری ہو

قارون کو بھی اپنا خزانا نہیں ملتا

مرزارضا برق ؔ

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے

سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

جوشؔ ملسیانی

کبھی میری طلب کچے گھڑے پر پار اترتی ہے

کبھی محفوظ کشتی میں سفر کرنے سے ڈرتا ہوں

فرید پربتی

ہاتھ میں چاند جہاں آیا مقدر چمکا

سب بدل جائے گا قسمت کا لکھا جام اٹھا

بشیر بدر

عدمؔ روز اجل جب قسمتیں تقسیم ہوتی تھیں

مقدر کی جگہ میں ساغر و مینا اٹھا لایا

عبد الحمید عدم

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

حسرتؔ موہانی

دیکھیے کیا دکھاتی ہے تقدیر

چپ کھڑا ہوں گناہ گاروں میں

لالہ مادھو رام جوہر

لکھا ہے جو تقدیر میں ہوگا وہی اے دل

شرمندہ نہ کرنا مجھے تو دست دعا کا

آغا حجو شرف

ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا

بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

مضطر خیرآبادی

شاعری ہے سرمایا خوش نصیب لوگوں کا

بانس کی ہر اک ٹہنی بانسری نہیں ہوتی

ہستی مل ہستی

اپنے ماتھے کی شکن تم سے مٹائی نہ گئی

اپنی تقدیر کے بل ہم سے نکالے نہ گئے

جلیل مانک پوری

ہمیشہ تنکے ہی چنتے گزر گئی اپنی

مگر چمن میں کہیں آشیاں بنا نہ سکے

مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی

یار پر الزام کیسا اے دل خانہ خراب

جو کیا تجھ سے تری قسمت نے اس نے کیا کیا

لالہ مادھو رام جوہر

عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں

داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

بقا اللہ بقاؔ

جو چل پڑے تھے عزم سفر لے کے تھک گئے

جو لڑکھڑا رہے تھے وہ منزل پہ آئے ہیں

حیرت سہروردی

اسی کو دشت خزاں نے کیا بہت پامال

جو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا

جنید حزیں لاری

میری قسمت ہے یہ آوارہ خرامی ساجدؔ

دشت کو راہ نکلتی ہے نہ گھر آتا ہے

غلام حسین ساجد

اتنا بھی بار خاطر گلشن نہ ہو کوئی

ٹوٹی وہ شاخ جس پہ مرا آشیانہ تھا

مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی

میں جاں بلب ہوں اے تقدیر تیرے ہاتھوں سے

کہ تیرے آگے مری کچھ نہ چل سکی تدبیر

شیخ ظہور الدین حاتم

میں بھی اک موج ہوں میرا بھی مقدر ہے سفر

کیسے ساحل پہ کھڑے رہ کے سمندر دیکھوں

رعنا ناہید رعنا
بولیے