راہی معصوم رضا کے اشعار
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں
ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
یہ چراغ جیسے لمحے کہیں رائیگاں نہ جائیں
کوئی خواب دیکھ ڈالو کوئی انقلاب لاؤ
دل کی کھیتی سوکھ رہی ہے کیسی یہ برسات ہوئی
خوابوں کے بادل آتے ہیں لیکن آگ برستی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
زندگی ڈھونڈھ لے تو بھی کسی دیوانے کو
اس کے گیسو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم نے اپنے جینے کی یہ راہ نکالی یارو
ہر دریا پر تھوڑی تھوڑی پیاس بجھا لی یارو
بجلیاں ڈھونڈھ رہی ہیں کوئی گرنے کی جگہ
اتنے محفوظ نہیں آج نشیمن والے
-
موضوع : بجلی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میرے ساتھ مرا سورج ہے میرے ساتھ مرا سایہ
تنہائی تو ان کی دیکھوں جن کے ساتھ زمانہ ہے
کیسے کوئی تصویر بناؤں رنگ اڑے جاتے ہیں
گھولے کتنے رنگ مگر ہے چاند کا پیالہ خالی
غیر اندھیرے کی آنکھوں میں گھول کے آنسو اپنے
جب رات آئی شوق سحر کی شمع جلالی یارو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کبھی مقتل رہا ہوگا یقیناً
جہاں زنجیر کی جھنکار ٹھہری
-
موضوع : کربلا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سر بکف گھر سے نکلنا تو ہے شرط اول
اتنا آسان نہیں چاک گریباں ہونا
مزا آتا نصیحت میں بھی شاید
اگر ناصح ذرا دیوانہ ہوتا
دشت جنوں کی ضد ہے کہ لکھ خیریت کا خط
میں پوچھتا ہوں کس کو لکھوں اور کہاں لکھوں
-
موضوع : خط
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دھوپ کڑی ہے سایہ مت دے سائے کا امکان تو ہے
اے صحرا تجھ سے تو ہماری اتنی پرانی یاری ہے
مہک پہچانتی ہے خون دل کی
زمین کوچۂ دل دار ٹھہری
-
موضوع : دلداری
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
لگتا ہے شہروں میں جنوں کے موسم اب نہیں آتے
ہم تو صحرا میں بیٹھے ہیں دھوپ کا فرش بچھائے
ململ کی ساری ہے تن پر ہاتھوں میں پچکاری ہے
ہم نے سنا ہے اس کی گلی میں ہولی کی تیاری ہے
سناٹا پیڑوں پر بیٹھا سناٹا ہر چھت پر
سناٹے سے سب ڈرتے ہیں کون آواز لگائے
-
موضوع : خاموشی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر
گنگا جی کے تٹ پر یارو جس جوگی کا ٹھکانہ ہے
اس کے گلابی رخساروں پر پھیلی بوند پسینے کی
یا کچنار کے دامن پر یہ اوس کی ہلکی دھاری ہے
-
موضوع : حسن
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا
کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے
نہ جب اہل خرد نے بات مانی
تو پھر شرط صلیب و دار ٹھہری
میں اک گھائل بوڑھا برگد میری بات سنو
لگتا ہے کل ہر وادی سے صحرا نکلے گا
-
موضوع : ثقافتی اور جذباتی خسارہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کل کی جانب دیکھیں کیسے ایک بڑی دشواری ہے
آنکھ اٹھانا سہل نہیں ہے سپنا اتنا بھاری ہے
-
موضوع : خواب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جس کو مل جانا ہو مل جاؤ مگر مشکل سے
دیکھو اس شہر میں آنا تو نہ آساں ہونا
-
موضوع : نصیحت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جس کے آگے آگے بادل جس کے پیچھے خوشبو
ہم صحرا والوں تک کوئی وہ موسم لے آئے
-
موضوع : موسم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ