Muneer Niyazi's Photo'

منیر نیازی

1923 - 2006 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

15.08K
Favorite

باعتبار

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے

ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ

اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی

بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس

رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی

گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن

وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ

غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت

شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ

مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں

میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری

یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا

یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ

آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی

رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو

حسن والوں کی سادگی نہ گئی

کسی اکیلی شام کی چپ میں

گیت پرانے گا کے دیکھو

تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو

میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں

میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو

ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں

اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے

تخت خالی رہا نہیں کرتا

میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں

مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا

کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں

ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا

عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں

چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر

ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر

ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا

بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

ہے منیرؔ تیری نگاہ میں

کوئی بات گہرے ملال کی

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف

یاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرف

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا

کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ

اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ

جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ

پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے

زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی

یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ

یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

اس کو بھی تو جا کر دیکھو اس کا حال بھی مجھ سا ہے

چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے