آواز پر شاعری

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

منیر نیازی

گم رہا ہوں ترے خیالوں میں

تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے

احمد مشتاق

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے

خموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے

عرش ملسیانی

صبر پر دل کو تو آمادہ کیا ہے لیکن

ہوش اڑ جاتے ہیں اب بھی تری آواز کے ساتھ

آسی الدنی

چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر

اب تو بس آواز ہی آواز ہے

اسرار الحق مجاز

خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے

وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

بشیر بدر

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

مومن خاں مومن

بولتے رہنا کیونکہ تمہاری باتوں سے

لفظوں کا یہ بہتا دریا اچھا لگتا ہے

نامعلوم

وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں

طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا

وزیر آغا

لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے

جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں

نامعلوم

موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی

زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو

احمد مشتاق

کوئی آیا تری جھلک دیکھی

کوئی بولا سنی تری آواز

جوشؔ ملیح آبادی

دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے

ٹھہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیریے

پروین شاکر

میری یہ آرزو ہے وقت مرگ

اس کی آواز کان میں آوے

غمگین دہلوی

درد دل پہلے تو وہ سنتے نہ تھے

اب یہ کہتے ہیں ذرا آواز سے

جلیل مانک پوری

تفریق حسن و عشق کے انداز میں نہ ہو

لفظوں میں فرق ہو مگر آواز میں نہ ہو

منظر لکھنوی

پھول کی خوشبو ہوا کی چاپ شیشہ کی کھنک

کون سی شے ہے جو تیری خوش بیانی میں نہیں

نامعلوم

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

میر تقی میر

لے میں ڈوبی ہوئی مستی بھری آواز کے ساتھ

چھیڑ دے کوئی غزل اک نئے انداز کے ساتھ

نامعلوم

تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیں

غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے

غلام محمد قاصر

یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی

اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا

احمد خیال

مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے

میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

اصغر گونڈوی

رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی

گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

منیر نیازی

چراغ جلتے ہیں باد صبا مہکتی ہے

تمہارے حسن تکلم سے کیا نہیں ہوتا

حامد محبوب

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے

وزیر آغا

میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی

کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

منصورہ احمد

ایک آواز نے توڑی ہے خموشی میری

ڈھونڈھتا ہوں تو پس ساحل شب کچھ بھی نہیں

علیم اللہ حالی

Added to your favorites

Removed from your favorites