Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عدو پر اشعار

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں

عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

اگر تم اسے آزمانا کہتے ہو، تو پھر ستانا کسے کہیں گے؟

جب تم دشمن کے ساتھ ہو چکے ہو تو پھر میرا امتحان کیوں لے رہے ہو؟

شاعر محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ وہ ستم کو “آزمائش” کا نام دے کر اسے جائز ٹھہرا رہا ہے۔ جب محبوب عدو کا ساتھ اختیار کر چکا، تو عاشق سے وفا کے ثبوت مانگنا اور بھی بےانصافی بن جاتا ہے۔ اس میں زخمی خودداری، طنز اور دل آزاری کی شدت نمایاں ہے۔

مرزا غالب

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی

جس زخم کا علاج یا رفو ہونا ممکن ہو،

اے خدا! تو اس کو میرے دشمن کی قسمت میں لکھ دے۔

شاعر کا اندازِ بیان طنزیہ اور فخریہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ معمولی اور بھر جانے والے زخم رقیب کو ملیں کیونکہ وہ کم ظرف ہے، جبکہ شاعر خود ان لا علاج زخموں کا خواہاں ہے جو سچے عشق کی پہچان ہیں۔

مرزا غالب

عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے

تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

مضطر خیرآبادی

میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں

عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

افتخار عارف

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

مانا کہ آپ نے جواب خاصا سخت دیا، مگر میں اسے برداشت کر لوں گا۔

لیکن مجھ سے دشمن/رقیب کا پیغام بیان نہ کیجیے۔

شاعر محبوب کی تلخ بات کو بھی گوارا کر لیتا ہے، مگر اپنی خودداری کی ایک حد قائم کرتا ہے کہ رقیب کی باتیں اس کے سامنے نہ دہرائی جائیں۔ یہاں “عدو” رقیبِ عشق بھی ہے، اور اس کا “پیام” سننا ذلت اور بے قدری کا احساس بن جاتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ محبوب کی طرف سے دکھ قبول ہے، مگر رقیب کے ذریعے رسوائی نہیں۔

مومن خاں مومن

یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں

وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور

ان کو دشمن کا اتنا لحاظ ہے کہ محفل میں بھی اسی کا پاس رکھتے ہیں۔

وہ اگر بیٹھتے بھی ہیں تو میرے ساتھ بیٹھنے والے کی جگہ سے دور بیٹھتے ہیں۔

شاعر کو شکوہ ہے کہ محبوب دشمن کے لحاظ میں اس حد تک بندھا ہوا ہے کہ محفل میں بھی قربت سے گریز کرتا ہے۔ بزم میں بیٹھنے کی صورت محض نشست نہیں رہتی بلکہ دوری کا اعلان بن جاتی ہے۔ اس میں رقابت، سماجی مصلحت اور محبت کی بےقدری کا کرب جھلکتا ہے۔ دکھ یہ ہے کہ محبوب کی ترجیح عاشق نہیں، عدو کا پاس ہے۔

بہادر شاہ ظفر

سہل ہو گرچہ عدو کو مگر اس کا ملنا

اتنا میں خوب سمجھتا ہوں کہ آساں تو نہیں

میر مہدی مجروح

میرے دشمن تو پوچھ سکتے ہیں

دوستو تم مزاج مت پوچھو

ماہر چاند پوری

اول اہل قبیلہ نے پرچم بنایا اسے اور پھر

پیش دشمن بھی تاوان میں صرف میری ردا لے گئے

عشرت آفریں

مجھ پر بطور خاص تھی اس کی نگاہ لطف

کہتا میں کس طرح مرے دشمن میں کچھ نہ تھا

فاضل انصاری

میں آپ اپنی مخالف تھی اپنی دشمن تھی

مجھے ہی مجھ سے یہ اچھا کیا جدا کر کے

صغری صدف

تم تو سن پائے نہ آواز شکست دل بھی

کچھ ہمیں تھے کہ حریف غم دنیا بھی ہوئے

سجاد باقر رضوی
بولیے