یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ وہ ستم کو “آزمائش” کا نام دے کر اسے جائز ٹھہرا رہا ہے۔ جب محبوب عدو کا ساتھ اختیار کر چکا، تو عاشق سے وفا کے ثبوت مانگنا اور بھی بےانصافی بن جاتا ہے۔ اس میں زخمی خودداری، طنز اور دل آزاری کی شدت نمایاں ہے۔
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا اندازِ بیان طنزیہ اور فخریہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ معمولی اور بھر جانے والے زخم رقیب کو ملیں کیونکہ وہ کم ظرف ہے، جبکہ شاعر خود ان لا علاج زخموں کا خواہاں ہے جو سچے عشق کی پہچان ہیں۔
عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا
میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو
گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے
مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی تلخ بات کو بھی گوارا کر لیتا ہے، مگر اپنی خودداری کی ایک حد قائم کرتا ہے کہ رقیب کی باتیں اس کے سامنے نہ دہرائی جائیں۔ یہاں “عدو” رقیبِ عشق بھی ہے، اور اس کا “پیام” سننا ذلت اور بے قدری کا احساس بن جاتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ محبوب کی طرف سے دکھ قبول ہے، مگر رقیب کے ذریعے رسوائی نہیں۔
-
موضوع : رقیب
یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میں
وہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کو شکوہ ہے کہ محبوب دشمن کے لحاظ میں اس حد تک بندھا ہوا ہے کہ محفل میں بھی قربت سے گریز کرتا ہے۔ بزم میں بیٹھنے کی صورت محض نشست نہیں رہتی بلکہ دوری کا اعلان بن جاتی ہے۔ اس میں رقابت، سماجی مصلحت اور محبت کی بےقدری کا کرب جھلکتا ہے۔ دکھ یہ ہے کہ محبوب کی ترجیح عاشق نہیں، عدو کا پاس ہے۔
سہل ہو گرچہ عدو کو مگر اس کا ملنا
اتنا میں خوب سمجھتا ہوں کہ آساں تو نہیں
میرے دشمن تو پوچھ سکتے ہیں
دوستو تم مزاج مت پوچھو
-
موضوعات : اجازتاور 1 مزید
اول اہل قبیلہ نے پرچم بنایا اسے اور پھر
پیش دشمن بھی تاوان میں صرف میری ردا لے گئے
-
موضوعات : علماور 1 مزید
مجھ پر بطور خاص تھی اس کی نگاہ لطف
کہتا میں کس طرح مرے دشمن میں کچھ نہ تھا
-
موضوع : نگاہ
تم تو سن پائے نہ آواز شکست دل بھی
کچھ ہمیں تھے کہ حریف غم دنیا بھی ہوئے
-
موضوعات : آوازاور 3 مزید