Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رقیب پر اشعار

کلاسیکی شاعری میں عشق

کے بیانیے میں جو چند بنیادی کردار ہیں ان میں سے ایک رقیب بھی ہے۔ رقیب معشوق کا ایک دوسرا چاہنے والا ہوتا ہے جو معشوق کے لئے ایک ہوس کارانہ جذبہ بھی رکھتا ہے اورمعشوق بھی اپنے سچے عاشق کو چھوڑ کر رقیب سے راہ ورسم رکھتا ہے ۔ معشوق کی رقیب سے یہ قربت ہی عاشق کیلئے دکھ اور پریشانی کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے ۔

اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ

جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے

ساحر لدھیانوی

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

انور دہلوی

دوزخ و جنت ہیں اب میری نظر کے سامنے

گھر رقیبوں نے بنایا اس کے گھر کے سامنے

پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی

لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب

دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

قتیل شفائی

رفیقوں سے رقیب اچھے جو جل کر نام لیتے ہیں

گلوں سے خار بہتر ہیں جو دامن تھام لیتے ہیں

نامعلوم

جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے

ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں

میر حسن

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی

غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

احمد حسین مائل

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر خط کے اندر آئے ہوئے نئے سلام اور اجنبی نام سے بدگمان ہو جاتا ہے۔ یہ “نیا سلام” محبوب کی بدلتی توجہ اور کسی اور سے نسبت کی علامت بن جاتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ رقیب کی نفی سن کر بھی دلیل مانگتا ہے کہ نام تو کسی کا ہے۔ یوں اس شعر میں محبت کے ساتھ حسد اور شک کی تیز چبھن نمایاں ہے۔

داغؔ دہلوی

ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں

مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے

کیف بھوپالی

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

Interpretation: Rekhta AI

یہاں نقشِ پا محبوب کی علامت ہے اور سجدہ حد سے بڑھی ہوئی عقیدت کا استعارہ۔ شاعر کہتا ہے کہ اسی پرستش نے اسے بار بار ذلیل کیا، یہاں تک کہ غیرت کی حد بھی ٹوٹ گئی۔ رقیب کے کوچے میں سر کے بل جانا اس بات کی انتہا ہے کہ عشق نے انا اور وقار سب چھین لیا۔ جذبے کی تہہ میں بے بسی اور اپنی رسوائی کا تیز شعور ہے۔

مومن خاں مومن

رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے

حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا

آغا اکبرآبادی

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار

اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب عشق میں اٹھائی گئی ذلت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کے گھر کا راستہ معلوم ہونے کا نقصان یہ ہوا کہ انہیں مجبوری میں رقیب کے در پر بار بار جانا پڑا، جو ان کی عزتِ نفس کے لیے انتہائی تکلیف دہ مرحلہ تھا۔

مرزا غالب

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو

اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ میں تو تم سے اپنے دل کا حال اور شکوہ کرنے آیا تھا، لیکن تم نے رقیبوں کو جمع کر کے اسے ایک کھیل بنا دیا۔ محبت کا گلہ تنہائی اور رازداری چاہتا ہے، مجمعے میں تو صرف تماشا ہوتا ہے جس سے عاشق کی رسوائی ہوتی ہے۔

مرزا غالب

بیٹھے ہوئے رقیب ہیں دل بر کے آس پاس

کانٹوں کا ہے ہجوم گل تر کے آس پاس

جگر مراد آبادی

غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے

ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ

امام بخش ناسخ

یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں

روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے

حفیظ جونپوری

اپنی زبان سے مجھے جو چاہے کہہ لیں آپ

بڑھ بڑھ کے بولنا نہیں اچھا رقیب کا

لالہ مادھو رام جوہر

ہمیں نرگس کا دستہ غیر کے ہاتھوں سے کیوں بھیجا

جو آنکھیں ہی دکھانی تھیں دکھاتے اپنی نظروں سے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں 'نرگس' (جو آنکھ سے مشابہ ہے) اور محاورہ 'آنکھیں دکھانا' (غصہ کرنا) کا لطیف استعمال کیا گیا ہے۔ عاشق شکوہ کرتا ہے کہ اگر محبوب کو غصہ ہی کرنا تھا تو پھولوں کی 'آنکھوں' کے ذریعے کیوں کیا، اپنی اصل آنکھوں سے کرتا تو کم از کم دیدار تو نصیب ہوتا اور غیر درمیان میں نہ آتا۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب

حفیظ جونپوری

غصہ آتا ہے پیار آتا ہے

غیر کے گھر سے یار آتا ہے

محمد علی خاں رشکی

کہتے ہو کہ ہم درد کسی کا نہیں سنتے

میں نے تو رقیبوں سے سنا اور ہی کچھ ہے

امیر مینائی

جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا

کون اس کا رقیب ہووے گا

میر سوز

ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں

ہمیں ہمارے رقیبوں نے معتبر جانا

عالم تاب تشنہ

رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتا

کسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتا

کیفی حیدرآبادی

وہ جسے سارے زمانے نے کہا میرا رقیب

میں نے اس کو ہم سفر جانا کہ تو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی تلخ بات کو بھی گوارا کر لیتا ہے، مگر اپنی خودداری کی ایک حد قائم کرتا ہے کہ رقیب کی باتیں اس کے سامنے نہ دہرائی جائیں۔ یہاں “عدو” رقیبِ عشق بھی ہے، اور اس کا “پیام” سننا ذلت اور بے قدری کا احساس بن جاتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ محبوب کی طرف سے دکھ قبول ہے، مگر رقیب کے ذریعے رسوائی نہیں۔

مومن خاں مومن

حال میرا بھی جائے عبرت ہے

اب سفارش رقیب کرتے ہیں

حفیظ جونپوری

سامنے اس کے نہ کہتے مگر اب کہتے ہیں

لذت عشق گئی غیر کے مر جانے سے

نامعلوم

یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو

مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

بیخود دہلوی

صدمے اٹھائیں رشک کے کب تک جو ہو سو ہو

یا تو رقیب ہی نہیں یا آج ہم نہیں

لالہ مادھو رام جوہر

کوئے جاناں میں نہ غیروں کی رسائی ہو جائے

اپنی جاگیر یہ یارب نہ پرائی ہو جائے

لالہ مادھو رام جوہر

مت بخت خفتہ پر مرے ہنس اے رقیب تو

ہوگا ترے نصیب بھی یہ خواب دیکھنا

میر حسن

کروں کس کا گلہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے

رقیب افسوس اپنے ہی پرانے آشنا نکلے

عیش میرٹھی

آغوش سیں سجن کے ہمن کوں کیا کنار

ماروں گا اس رقیب کوں چھڑیوں سے گود گود

آبرو شاہ مبارک

آئے ہیں غیر کو لے کر ہمراہ

ایسے آنے سے نہ آنا اچھا

عاشق حسین بزم آفندی

بس ایک پیار نے سالم رکھا ہمیں یارو

رقیب مر گئے ہم میں شگاف کرتے ہوئے

مکیش عالم

بڑھے گی بات نہ بیٹھیں گے چپکے ہم اے بت

رقیب سے جو کرو گے کلام اٹھ اٹھ کر

منیر شکوہ آبادی
بولیے