aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shimar"
یہ کوفے کی گلیاں ہیں کہ یہ میری رگیں بھیہر سمت سے چبھتی ہے انی مجھ کو شمر کی
اختر شمار
1960 - 2022
شاعر
حمایت علی شاعر
1926 - 2019
آغا شاعر قزلباش
1871 - 1940
عبدالحلیم شرر
1860 - 1926
مصنف
شاعر جمالی
1943 - 2008
شاعر لکھنوی
1917 - 1989
شفا گوالیاری
1912 - 1968
گنجن ناگر شاعر بکر
born.1984
پریم لال شفا دہلوی
1914 - 1982
شرر دہلوی
born.2002
کلیم حیدر شرر
شرر نقوی
سریندر شجر
سندیپ شجر
born.1977
شرر فتح پوری
1928 - 1992
ہر دور میں ملعون شقاوت ہے شمرؔ کیہر عہد میں مسعود ہے قربانئ شبیر
ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخمرا سرور ہے گل خندۂ شرر کا سا
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیںکہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
شجر حجر نہیں کہ ہمہمیشہ پا بہ گل رہیں
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
استاد شاعروں کی یہ غزلیں ہر اس شخص کو مہ زبانی یاد ہونگی جنہیں کلاسک اردو شاعری کا شوق ہے - آپ بھی اسکا لطف لیں -
اگر آپ کو بس یوں ہی بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔
शुमारشُمار
فارسی
تعداد، عدد
शिकारشِکار
(کنایۃً) جو کسی شخص یا چیز سے مغلوب ہو، مطیع
धीमाईدِھیمائی
سنسکرت
رک : دِھیما ، دِھیم.
शीमाشِیمَہ
عربی
प्रकृति, स्वभाव, आदत ।
پیار کا پہلا شہر
مستنصر حسین تارڑ
رومانی
فردوس بریں
تاریخی
دلی جو ایک شہر تھا
شاہد احمد دہلوی
مضامین
گذشتہ لکھنؤ
شمع شبستان رضا
صوفی اقبال احمد نوری
اسلامیات
شہر علم کے دروازے پر
افتخار عارف
انتخاب
عبدالحلیم شرر: شخصیت اور فن
شریف احمد
تحقیق
علی احمد فاطمی
ناول تنقید
ولی دکنی
اویس احمد ادیب
شاعری تنقید
شلوک شیخ بابا فرید گنج شکر
شیخ فرید
شرح
صحرا میں شجر
قمر جمالی
مجموعہ
بابا فرید گنج شکر
سید افضل حیدر
چشتیہ
آئینہ در آئینہ
مثنوی
شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہواہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافلگرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر
اپنے شہر کے سب لوگوں سےمیری خاطر کیوں الجھے ہو
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہطائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفسمدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books