aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",naG"
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی رخ گلرنگ پہ وہجنت کے نظارے روشن ہیںکیا اب بھی رسیلی آنکھوں میںساون کے ستارے روشن ہیںاو دیس سے آنے والے بتااو دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی شہابی عارض پرگیسوئے سیہ بل کھاتے ہیںیا بحر شفق کی موجوں پردو ناگ پڑے لہراتے ہیںاور جن کی جھلک سے ساون کیراتوں کے سپنے آتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
زیادہ پاس مت آنامیں وہ تہہ خانہ ہوں جس میںشکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیںجو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیںمری تاریکیوں میںگمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کےکئی عفریت بستے ہیںمری خوشیوں پہ روتے ہیں مرے اشکوں پہ ہنستے ہیںمرے ویران دل میں رینگتی ہیں مکڑیاں غم کیتمناؤں کے کالے ناگ شب بھر سرسراتے ہیںگناہوں کے جنے بچھودموں پر اپنے اپنے ڈنک لادےاپنے اپنے زہر کے شعلوں میں جلتے ہیںیہ بچھو دکھ نگلتے اور پچھتاوے اگلتے ہیں
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
تم سمجھتی ہو یہ گلدان میں ہنستے ہوئے پھولمیری افسردگئ دل کو مٹا ہی دیں گےیہ حسیں پھول کہ ہیں جان گلستان بہارمیرے سوئے ہوئے نغموں کو جگا ہی دیں گےتم نے دیکھی ہیں دمکتی ہوئی شمعیں لیکنتم نے دیکھے نہیں بجھتے ہوئے دیپک ہمدموہی دیپک جو نگاہوں کا سہارا پا کرایک لمحے کے لئے جلتے ہیں بجھ جاتے ہیںکبھی اک اشک سے دھل جاتے ہیں صدیوں کے غبارکائنات اور نکھر اور سنور جاتی ہےکبھی ناکام تمنا کی صدائے مبہمقہقہہ بن کے فضاؤں میں بکھر جاتی ہےٹوٹتے تاروں کے سنگیت سنے ہیں تم نےوہ بھی نغمے ہیں جو ہونٹوں سے گریزاں ہی رہےپھڑپھڑاتے ہوئے دیکھے ہیں فضاؤں میں کبھیوہ فسانے جو نگاہوں سے بیاں ہو نہ سکےکبھی کانٹوں سے بہل جاتی ہے روح غمگیںاور معصوم شگوفوں کی رسیلی خوشبونیشتر بن کے رگ جاں میں اتر جاتی ہےہاں یہی پھول یہی جان گلستان بہارناگ بن کر کبھی احساس کو ڈس لیتے ہیں
محبت آہ تیری یہ محبت رات بھر کی ہےتری رنگین خلوت کی لطافت رات بھر کی ہےترے شاداب ہونٹوں کی عنایت رات بھر کی ہےترے مستانہ بوسوں کی حلاوت رات بھر کی ہےمہ روشن ہے تو اور تیری طلعت رات بھر کی ہےگل شبو ہے تو اور تیری نکہت رات بھر کی ہےتو کیا جانے کہ سودائے محبت کس کو کہتے ہیںمحبت اور محبت کی لطافت کس کو کہتے ہیںغم ہجراں ہے کیا اور سوز الفت کس کو کہتے ہیںجنوں ہوتا ہے کیسا اور وحشت کس کو کہتے ہیںتو کیا جانے غم شب ہائے فرقت کس کو کہتے ہیںترے اظہار الفت کی فصاحت رات بھر کی ہےنگاہ مست سے دل کو مرے تڑپا رہی ہے توادائے شوق سے جذبات کو بھڑکا رہی ہے تومجھے بچے کی صورت ناز سے پھسلا رہی ہے توکھلونے دے کے بوسوں کے مجھے بہلا رہی ہے تومگر نادان ہے تو آہ دھوکا کھا رہی ہے توترا روئے درخشاں ہے بظاہر ماہتاب آساترے ہونٹوں کی شادابی ہے رنگت میں شراب آساترے رخسار کی مہتابیاں ہیں آفتاب آسامگر ان کی حقیقت ہے حباب آسا سراب آساکہ غازے کی صباحت اس پہ چھائی ہے نقاب آسااور اس غازے کی بھی جھوٹی صباحت رات بھر کی ہےیہ مانا تیری خلوت کی فضا روح گلستاں ہےتری خلوت کا ہر فانوس اک مہتاب لرزاں ہےترا ابریشمی بستر نہیں اک خواب خنداں ہےترا جسم آفت دل تیرا سینہ آفت جاں ہےتو اک زندہ ستارہ ہے جو تنہائی میں تاباں ہےمگر کہتے ہیں تاروں کی حکومت رات بھر کی ہےلطافت سے ہیں خالی تیرے کمھلائے ہوئے بوسےطراوت سے ہیں خالی تیرے مرجھائے ہوئے بوسےنزاکت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسےحقیقت سے ہیں خالی تیرے شرمائے ہوئے بوسےمحبت سے ہیں خالی تیرے گھبرائے ہوئے بوسےاور ان بوسوں کی یہ جھوٹی حلاوت رات بھر کی ہےترے زہریلے بوسے مجھ کو جس دم یاد آئیں گےمرے ہونٹوں پہ کالے ناگ بن کر تھرتھرائیں گےپشیمانی کے جذبے مجھ کو دیوانہ بنائیں گےمرے انکار کو نفرت کے خنجر گدگدائیں گےمرے دل کی رگوں میں غم کے شعلے تیر جائیں گےمیں سمجھا! آہ سمجھا! یہ مسرت رات بھر کی ہےمجھے دیوانہ کرنے کی مسرت بے خبر کب تکرہے گی میرے دل میں تیری الفت کارگر کب تکمجھے مسحور رکھے گا یہ عشق بے ثمر کب تکحقیقت کی سحر آخر نہ ہوگی پردہ در کب تکمجھے مغلوب کر کے خوش ہے تو ظالم مگر کب تکتری یہ فتح میری یہ ہزیمت رات بھر کی ہے
میں ہوں ایک عجیب سپیراناگ پالنا کام ہے میراپیلے پیلے کالے کالےرنگ برنگے دھبوں والےشعلوں سی فنکاروں والےزہریلی مہکاروں والےان کی آنکھیں تیز نشیلیگہری جھیلوں ایسی نیلینئے لہو سے لال زبانیںجیسے موت کی رنگیں تانیںمخمل کے رومالوں جیسےسرخ گلابی گالوں جیسےمجھ کو تکتے رہتے ہیں یہمجھ کو ڈستے رہتے ہیں یہمجھ پہ ہنستے رہتے ہیں یہ
مکدر ہے فضائے عالم امکاں سیاست سےبہت بے آبرو ہے آج کل انساں سیاست سےضمیر و ظرف کی اس کے یہاں قیمت نہیں کوئیجہاں میں در بدر ہیں صاحب ایماں سیاست سےیہ احساسات تہذیب و تمدن کو مٹاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےنہیں شیوہ سیاست کا محبت اور رواداریسکھاتی ہے پرستاروں کو اپنے یہ ریا کارینہ اس کا کوئی مسلک ہے نہ اس کا کوئی مذہب ہےدل حرس و ہوس میں بن کے رہتی ہے یہ چنگاریکسی کا گھر گراتی ہے کسی کا گھر سجاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےلڑاتی ہے یہی اک دوسرے کو ذات و مذہب پراسی کی شہہ پہ قتل عام ہوتا ہے یہاں اکثررعونت یہ سکھاتی ہے منافق حکمرانوں کواسی کے بطن سے ہوتے ہیں پیدا جبر و ظلم و شریہ اپنے محسنوں کا خون پی کر مسکراتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےسدا یہ اتحاد باہمی پر وار کرتی ہےتعصب کو ہوا دیتی ہے دل بیزار کرتی ہےکہیں تعمیر کرتی ہے عبادت گاہ فتنوں سےکہیں خود ہی عبادت گاہ کو مسمار کرتی ہےفریب و مکر سے اپنے یہ ہر سو قہر ڈھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاسی کے دم سے فصلیں لہلہاتی ہیں فسادوں کییہی تکمیل کرتی ہے حکومت کے ارادوں کیاسی کی مصلحت سے بغض کے پودے پنپتے ہیںگرا دیتی ہے یہ دیوار باہم اعتمادوں کیہوا دے کر یہ بد عنوانیوں کی لو بڑھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاشارے پر اسی کے شہر قصبے گاؤں جلتے ہیںاسی کی آستیں میں سازشوں کے ناگ پلتے ہیںستم گاروں پہ کرتی ہے یہ سایہ اپنے آنچل کااسی کی آڑ میں اشرار و قاتل بچ نکلتے ہیںیہ قانون و عدالت کو بھی اب آنکھیں دکھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےجسارت کو یہی دہشت گری کا نام دیتی ہےیہ ہم سایے کو خود ہی جنگ کا پیغام دیتی ہےبدلتی ہے یہی تقدیر ارباب قیادت کییہ اپنے وارثوں کو سر خوشی کا جام دیتی ہےیہ وعدوں کے گھروندے ریگزاروں میں بناتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے
وقت ہے ناگ ترے جسم کو ڈستا ہوگایخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گیسب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گےتجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گیکتنی یادیں ترے اشکوں سے ابھرتی ہوں گی
چونک کر انگڑائیاں لیتے ہیں ناگجاگ انطونیؔ محبت سو رہی ہے جاگ جاگ
ہند کا اجڑا چمن آباد کرنے کے لئےدرد کے مارے ہوؤں کو شاد کرنے کے لئےاک نیا عہد جہاں آباد کرنے کے لئےقصر استبداد کو برباد کرنے کے لئےجھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئےصفحۂ ہستی سے باطل کو مٹانے کے لئےخرمن اعدا پہ اب بجلی گرانے کے لئےاہل زر کی بے کسی پر مسکرانے کے لئےیعنی ارواح سلف کو شاد کرنے کے لئےجھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئےپھر سے بھڑکاؤ دلوں میں غیرتوں کی آگ کورزم کی جانب بڑھاؤ جرأتوں کی باگ کوپاؤں کے نیچے کچل دو سیم و زر کے ناگ کوزندگانی کو سراپا شاد کرنے کے لئےجھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئےمستئ صہبائے آزادی سے لہراتے چلوابر کی صورت بلند و پست پر چھاتے چلوقہقہوں سے لیلیٔ مغرب کو شرماتے چلوپھر دیار ہند کو آباد کرنے کے لئےجھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئے
تو نے میرے دکھ کی خاطرکتنے رنج سہےاپنی گود میں تو نے مجھ کواپنے لہو کی چاندنی بخشیمیں اک چاند بناجس نے دھرتی سے یہ گھور بھیانک اندھیاروں کا خوف مٹایاجب تو زینت ھجلہ بنیتو نے اپنے خون کی آتش مجھ کو بخشیمیں اک سورج بن کر چمکاجس کی دھوپ میں میری روح کا قیدی شاہیںناگ کے پھندے سے چھوٹا
سنو ہمدم میں رستہ بھول بیٹھی ہوںاداسی کا گھنا جنگلمرے احساس پہ تاریکیوں کے ان گنت سائے بچھاتا ہےمجھے آسیب کی صورت ڈراتا ہےہوا کی چیخ میری نیند کو ایسے نگلتی ہےکہ جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو راکھ کرتی ہےجہاں میں پاؤں رکھتی ہوںوہاں پر وسوسوں کے ناگ پھن پھیلائے بیٹھے ہیںمیں جتنے زور سے آواز دیتی ہوںمری خاموشیاں اپنے تسلسل میں مجھے آنے نہیں دیتیںمری آواز گھٹ جاتی ہے اندر ہی کہیں پر ڈوب جاتی ہےسنو ہمدممیں تنہا ہوںکبھی آؤ پکڑ کر ہاتھ لے جاؤمجھے تاریکیوں کی رات سے روشن دنوں تک ساتھ لے جاؤ
آہ! گنگا یہ حسیں پیکر بلور تراتیری ہر موج رواں جلوۂ مغرور تراجور مغرب سے مگر دل ہے بہت چور تراجھانکتا ہے ترے گرداب سے ناسور تراظلم ڈھائے ہیں سفینوں نے ستم گاروں کےزخم اب تک ترے سینے پہ ہیں پتواروں کےمحو رہتے تھے ستارے تری مے پینے میںچاند منہ دیکھتا تھا تیرے ہی آئینے میںخلوت مہر درخشاں تھی ترے سینے میںتیری تابانیاں آتی نہ تھیں تخمینے میںآج روتی ہے مگر تیری جوانی تجھ کوکھا گیا آ کے یہاں 'ٹیمز' کا پانی تجھ کوآہ اے کوہ ہمالہ کے غرور سیالتیرے دامن پہ کبھی بیٹھی نہ تھی گرد ملالمنہ ترا پونچھتا تھا چاند کا سیمیں رومالزخم سینے پہ لیے آج ہیں دھارے تیرےاف کہاں ڈوب گئے چاند ستارے تیرےریگ دوزخ کو چھپائے ہے قبا کے اندرہولناک آج ہے کتنا یہ دہکتا منظرشام ہی شام نظر آتی ہے کیوں ساحل پر؟کیوں تری موجوں سے چھنتے نہیں انوار سحر؟روشنی کیوں ہوئی جاتی ہے گریزاں تجھ سےکیوں اندھیروں کے ہیں لپٹے ہوئے طوفاں تجھ سےآج ساحل پہ نظر آتی ہے جلتی ہوئی آگآدمیت کا سلگتا ہے ہواؤں میں سہاگآج ہے ساز سیاست کا بھیانک سا راگپھن اٹھائے ہوئے بل کھاتے ہیں شعلوں کے ناگآج انسان کو ڈستی ہیں ہوائیں تیریزہر سے کتنی ہیں لبریز فضائیں تیریآئی ہے ٹیمس سے اک موج رواں گاتی ہوئیتجھ کو آزادی کے پیغام سے بہلاتی ہوئیروح مے خانہ لیے شوق کو بہکاتی ہوئیناز کرتی ہوئی ہنستی ہوئی اٹھلاتی ہوئیلاکھ الجھا کریں زلفوں میں الجھنے والےاس کے عشوؤں کو سمجھتے ہیں سمجھنے والےلیکن اے بنت ہمالہ تری عظمت کی قسمسیل کے سانچے میں ڈھالی ہوئی رفعت کی قسمتیرے جلووں کی قسم، تیری لطافت کی قسمتیری موجوں سے ابھرتی ہوئی ہمت کی قسماب تری آنکھوں کو نمناک نہ ہونے دیں گےدامن ناز ترا چاک نہ ہونے دیں گے
پھر بدلنے ہیں مجھے بیکس و مجبور کے بھاگآج بھی ڈستے ہیں نادار کو زردار کے ناگ
ہر طرف شعلہ زباں ناگ ہیں پھن جھومتے ہیںسر اٹھاتے ہیں نئے راگ نئی راگنیاں
حیران ہوںیہ کون سا شہر ہےمیرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھیہر گلی ہر نکڑ پر سانپ کنڈلی مارے بیٹھے ہیں یہاںپیدا ہوتے ہی کوئی بھی سنپولہڈسنے کے لیے پر تولنے لگتا ہےجدھر دیکھیےہر جگہ سانپ ہی سانپ ہیںکہیں خونی دروازے کے عقب سےتو کہیں دھولہ کنواں کے فلائی اوور پرہر جگہ کنڈلی مارے ہوئے یہاںہزارہا سانپ ایسے ہیںجو ہر دم تیار بیٹھے ہیںموقع ملتے ہیوہ کسی بھی نرم و گداز بدن کونشانہ اپنا بنا لیتے ہیںاپنے زہریلے دانت گاڑ نے کے لیےجب وہ پھنپھنا کر باہر آتے ہیںکسی بھی راہگیر کا رستہ روکےایک دمتن کے کھڑے ہو جاتے ہیںحتٰی کہبوڑھا ناگ بھی اب یہاںاپنے کھنڈر میں تن کے کھڑا ہےاسے بھی انتظار ہےبرسات کی اس کالی اندھیری رات کا ہےجب وہ بو الہوساپنے کہنہ مشق دانتوں کوکسی نرم و نازک غزالہ پرتیز کر سکے حملۂ خوں ریز کر سکےاپنی عمر کے اس آخری پڑاؤ میں وہ بو الہوسکوئی واردات جنوں انگیز قیامت خیز کر سکےیا خدایہ کون سا مقام ہےکیا یہ تیرا قہر نہیں ہےکیا یہ وہی پرانا شہر نہیں ہےسوچتا ہوںمیرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھی
دھنک ٹوٹ کر سیج بنیجھومر چمکاسناٹے چونکےآدھی رات کی آنکھ کھلیبرہ کی آنچ کی نیلی لونے بنتی ہےلے بنتی ہےشہنائی جلتی روتی تھیاب سر نیوڑھائےلال پپوٹے بند کئے بیٹھی ہےنرم گرم ہاتھوں کی مہندیایک نیا سنگیت سناتیدل کے کواڑ پہ رک کر کوئی راتوں میں دستک دیتا تھادل کے کواڑ پہ رک کر وہ دستک دیتا ہےپٹ کھلتے ہیںآنکھ سے آنکھ دلوں سےدل ملتے ہیںگھونگھٹ میں جھومر چھپتا ہےگھونگھٹ میں مکھڑے چھپتے ہیںدولت خاں کی دیوڑھی کے کھنڈروں میںبڈھا ناگ کھڑا روتا ہےگونگے سناٹے بول اٹھےگھونگھٹ مکھڑے جھومر پائلچمک دمک جھنکار امر ہےپیار امر ہےپیار امر ہےپیار کی رات کی آنکھ امڈ آتی ہےاور دو پھولتنور بدنشبنم پی کر سو جاتے ہیں
ریل گزریدندناتیچیخ برماتیاک ہمکتا مسکراتا پھول تھامےہاتھ کی ہلکی سی جنبش(سلام آخری)چاقوؤں کی دھار پیشانی میں دھنس کر رہ گئیروز و شب معمول کے سب سائبانوں میں دراڑیں پڑ گئیںپھن اٹھائے پٹریوں کے ناگ بل کھانے لگے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books