aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aarzuu-e-saliim"
مجھے اے وطن تو ذرا بتا کدھر اب ہیں وہ تری صنعتیںجو ہر ایک ملک سے لائی تھیں ترے پاس کھینچ کے دولتیںتجھے مفلسی نہ پسند تھی تری راہ سعی نہ بند تھیتری ہمت ایسی بلند تھی کہ نثار اس پہ تھیں ہمتیںتری کوششوں سے لگی تھی لو اسی لو سے پھیل رہی تھی ضوہوئے سست ملک بھی گرم رو تری دیکھ دیکھ کے محنتیںتری صنعتوں میں وہ رنگ تھا کہ فدا ہر اہل فرنگ تھاجنہیں دیکھ باغ بھی دنگ تھا وہ ہوئی تھیں ان پہ ریاضتیںگیا جب بدل وہ ترا چلن نہ رہا وہ علم ترا نہ فنگئیں تجھ سے چھن وہ اب اے وطن جو خدا نے دی تھیں لیاقتیںہوئی منتشر وہ تری سبھا جو ہر اک ہنر سے تھی آشناجو ہر ایک علم پہ تھی فدا ہوئی ختم جس پہ فضیلتیںنہ رہا وہ علم کا اب سماں نہ وہ صنعتوں کا رہا نشاںنہ رہی وہ دولت شائگاں ہوئیں دور اب وہ سعادتیںاگر اب بھی گرم عناں ہو تو رہ سروری پہ رواں ہو توتو پھر افتخار جہاں ہو تو تجھے پھر ملیں وہی عزتیںاگر اب بھی تیرا بڑھے قدم ترے سر پہ علم کا ہو علموہی جاہ پھر ہو وہی حشم وہی دولتیں وہی ثروتیںاگر اب بھی دوڑ کے چار سو کرے تازہ صنعتیں اپنی توتو بڑھے وہ پھر تری آبرو کہ ہوں محو ساری یہ ذلتیںنئی صنعتوں کی بھی لے خبر کہ ترے چمن میں ہوں سب شجرتری انگلیوں میں ہوں سب ہنر تری ارغنوں میں ہوں سب گتیںیہی آرزو ہے اب اے وطن کہ شگفتہ پھر ہو ترا چمنترا بخت پھر ہو ضیا فگن تری دور سب ہوں یہ کلفتیں
سالمؔ جو گھر سے دور ہیں کرتے ہیں آرزوہوتا رہے ترا ہمیں دیدار لکھنؤ
سلیمؔ اک ازل کی چیخرات کی بساط الٹ گئیچلو سمیٹ لیںجھلملاتے عکس پر نشاں شباہتیںبوند اشک کیچشم مہرباں سے بوند ایک اشک کیورنہ روز حشراپنے اپنے مرقدوں سےکس طرح اٹھائے جائیں گےکیسا سانحہ اپنے آپ سےکس قدر الگ ہیں ہمکیسا سانحہ ہے یہکیسا سانحہ ہے یہسرد راتکھڑکیوں میں سرد تیرگیتیرگی کے آئنہ تلےاک فضائے لا مکاںعمیق کس قدر عمیقبسیط کس قدر بسیطمیری دست میں سے دورمیری روح پر محیط
زمیں گھومیہوا بدلیچلو موسم بدلتا ہےسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤوہ دیکھوچیونٹیوں کے پر نکل آئےکیسے اڑتی پھر رہی ہیںآج شان بے نیازی سےکہ جیسے مطمئن ہیںمکڑیوں کی سرفرازی سےسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤتمہاری دور کی آواز کیسے گونج بن کرپلٹ آئی ہےجیسے بستیوں کےسبھی گھر ہوئے ہیںکوئی ہتھیار بھی سالم نہیںنکیلے دانتکانٹےڈنکناخنحفاظت کے سبھی سامان جیسے چھن گئے ہیںتبھی تو ظالموں سےچند روزہ عافیت کی بھیک پا کرخدا کی گود میں بے فکر سوتے ہیںسمجھتے ہیںکہ مظلومی کا یہ بہروپ ہیفقرۂ قناعت کا بدل ہےکوئی پتھر اٹھائے کھینچ مارےدکھاوے کے لیے پتھر اٹھا کر چوم لیں گےیہ کس دنیا میں بستے ہیںیہ کس کا پاس رکھتے ہیںخود اپنی موت کی نظارگی کا زخم دے کردرندوں کی نگاہوں سےالوہی روشنی کی آس رکھتے ہیںسلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ
آتے جاتے موسم کاسلسلہ رہا جاریماہ و سال بھی کتنےساتھ ساتھ گزرے تھےیک بہ یک ہواؤں سےرنگ آسماں بدلاپھر رتوں کے چہرے پررنگ زرد بھی آیاوقت ہی کے ہاتھوں میںہو گئے کھلونا ہمآس کی کرن لے کراپنی اپنی آنکھوں میںدرد کے سفر پر ہمنکلے جانب منزلاور بھی کئی آنکھیںدرمیاں ہمارے تھیںجن میں جھلملاتی سیاک کرن تھی فردا کیدور دیس میں ہم نےشہر خواب جب دیکھاجینے کی للک اپنیہو گئی تھی دوبالاکیف آرزو بن کرزندگی بھی رقصاں تھی
اب یہی کوشش ہے دل سے اے مری ارض وطنتیری پیشانی پہ اب کوئی شکن آنے نہ پائےتو نے پہنی ہے جو آزادی کی مالا شوق سےعمر بھر کوئی کلی بھی اس کی مرجھانے نہ پائے
مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہےدل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہےیہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میںتری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہےتجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوںتری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہےیہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں کرفضائے دہر میں کچھ برہمی محسوس ہوتی ہےاجالا سا اجالا ہے تری شمع ہدایت کاشب تیرہ میں بھی اک روشنی محسوس ہوتی ہےمیں آؤں بھی تو کیا منہ لے کے آؤں سامنے تیرےخود اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہےتخیل میں ترے نزدیک جب میں خود کو پاتا ہوںمجھے اس وقت اک طرفہ خوشی محسوس ہوتی ہےتو ہی جانے کہاں لے آئی مجھ کو آرزو تیرییہ منزل اب سراپا بے خودی محسوس ہوتی ہےکنولؔ جس وقت کھو جاتا ہوں میں اس کے تصور میںمجھے تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
آج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہیےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لیے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتیں ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پہنائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآزمانے نکلیں گےآرزو کی گہرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
محبتاور اب کہ تیری محبت سرمدی کا بادہ گسار ہوں میںہوس پرستی کی لذت بے ثبات سے شرمسار ہوں میںمری بہیمانہ خواہشوں نے فرار کی راہ لی ہے دل سےاور ان کے بدلے اک آرزوئے سلیم سے ہمکنار ہوں میںدلیل راہ وفا بنی ہیں ضیائے الفت کی پاک کرنیںپھر اپنے فردوس گم شدہ کی تلاش میں رہ سپار ہوں میںہوا ہوں بے دار کانپ کر اک مہیب خوابوں کے سلسلے سےاور اب نمود سحر کی خاطر ستم کش انتظار ہوں میںبہار تقدیس جاوداں کی مجھے پھر اک بار آرزو ہےپھر ایک پاکیزہ زندگی کے لیے بہت بے قرار ہوں میںمجھے محبت نے معصیت کے جہنموں سے بچا لیا ہےمجھے جوانی کی تیرہ و تار پستیوں سے اٹھا لیا ہے
اس کی منظوری ترا قلب سلیمیہ پرندہ اور تو پرواز دوست
باعث درد ہوئی قربت یاراں اکثراب مجھے آرزوئے صحبت جاناں بھی نہیں
آج تمہارے شہر سے واپس لوٹ رہی ہوںلیکن کیسےثابت و سالم کون پلٹ کر جاتا ہےکس دل سے آئی تھی میںتم سے ملنا کیسا ہوگا
یہ در جو بند ہو تو کہیں اور اٹھ چلیںظلمت بڑھے تو آتش غم تیز تر کریںپروانہ وار جل کے بنیں خاک رہ نشیںانبوہ گرد باد میں رقص شرر کریںافتادگی میں آرزوئے بال و پر کریں
تیری ہر حرکت میں مخفی آرزوئے اضطرارتیری تدبیر عمل پر انحصار زندگی
آج پھر کرتے ہو کس زعم پہ زخموں کا شمارسر پھرو وادیٔ پر خار میں یہ تو ہوگاکیوں نگاہوں میں ہے افسردہ چراغوں کا دھواںآرزوئے لب و رخسار میں یہ تو ہوگاایک سے ایک کڑی منزل جاں آئے گیرہ گزار طلب یار میں یہ تو ہوگا
صبح دم جب بھی دیکھا ہے میں نے انہیںمیرا جی چاہتا ہے کہ میں دوڑ کرایک ننھے کہ انگلی پکڑ کر کہوںمجھ کو بھی اپنے اسکول لیتے چلوتاکہ یہ تشنۂ آرزوئے زندگیپھر سے آغاز شوق سفر کر سکے
یہ آمیزش حسن و خوف آرزو و فرارترے دل میں غلطاں رہے وہ انوکھی کسک
ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیں(تم آسماں کی طرف نہ دیکھو!)مقام نازک پہ ضرب کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہکہ اپنی محرومیوں سے چھپنے کا ایک حیلہ؟بزرگ و برتر خدا کبھی تو (بہشت برحق)ہمیں خدا سے نجات دے گاکہ ہم ہیں اس سرزمیں پہ جیسے وہ حرف تنہا(مگر وہ ایسا جہاں نہ ہوگا) خموش و گویاجو آرزوئے وصال معنی میں جی رہا ہوجو حرف معنی کی یک دلی کو ترس گیا ہو
با ہمہ غم بہ ہمہ لذت آزار ستمدیکھنا ٹھہرا مجھے آرزوئے وصل کا خوںشخصیت کا تری جادو کہ محبت کا فسوںبارہا چاہوں مگر ترک تمنا نہ کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books