aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "biil"
جب نیا مہینہ آتا ہے توبجلی کا بل آ جاتا ہےحالانکہ بادل بیچارہیہ بجلی مفت بناتا ہےپھر ہم نے اپنے گھر بجلیبادل سے کیوں لگوائی نہیں
او دیس سے آنے والے بتاکیا شہر کے گرد اب بھی ہے رواںدریائے حسیں لہرائے ہوئےجوں گود میں اپنے من کو لیےناگن ہو کوئی تھرائے ہوئےیا نور کی ہنسلی حور کی گردنمیں ہو عیاں بل کھائے ہوئےاو دیس سے آنے والے بتا
ریاست میںمہارانیوں کے قصے گھڑنے پرعلم کی بڑی ملتی ہےبل کے سادہ کاغذ پرعلم لکھ دیا جاتا ہےتازہ دریافت پرہر فرد کی مٹھی گرم ہوتی ہے
ہماری چاہتوں کی بزدلی تھیورنہ کیا ہوتااگر یہ شوق کے مضموںوفا کے عہد نامےاور دلوں کے مرثیےاک دوسرے کے نام کر دیتےزیادہ سے زیادہچاہتیں بد نام ہو جاتیںہماری دوستی کی داستانیں عام ہو جاتیںتو کیا ہوتایہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیںیہ ہم جن کا اثاثہ تشنگی، تنہائیاں سوچیںیہ تحریریںہماری آرزو مندی کی تحریریںبہم پیوستگی اور خواب پیوندی کی تحریریںفراق و وصل و محرومی و خورسندی کی تحریریںہم ان پر منفعل کیوں ہوںیہ تحریریںاگر اک دوسرے کے نام ہو جائیںتو کیا اس سے ہمارے فن کے رسیاشعر کے مداحہم پر تہمتیں دھرتےہماری ہمدمی پر طنز کرتےاور یہ باتیںاور یہ افواہیںکسی پیلی نگارش میںہمیشہ کے لئے مرقوم ہو جاتیںہماری ہستیاں مذموم ہو جاتیںنہیں ایسا نہ ہوتااور اگر بالفرض ہوتا بھیتو پھر ہم کیاسبک ساران شہر حرف کی چالوں سے ڈرتے ہیںسگان کوچۂ شہرت کے غوغاکالے بازاروں کے دلالوں سے ڈرتے ہیںہمارے حرف جذبوں کی طرحسچے ہیں، پاکیزہ ہیں، زندہ ہیںبلا سے ہم اگر مصلوب ہو جاتےیہ سودا کیا برا تھاگر ہماری قبر کے کتبےتمہارے اور ہمارے نام سے منسوب ہو جاتے!
ہم جیتیں گےحقا ہم اک دن جیتیں گےبالآخر اک دن جیتیں گےکیا خوف ز یلغار اعداہے سینہ سپر ہر غازی کاکیا خوف ز یورش جیش قضاصف بستہ ہیں ارواح الشہداڈر کاہے کا
صبح اترا تھا میں جنگل میںتو سوچا تھا کہ اس شوخ ہرن کونیزے کی نوک پہ پرچم کی طرح تان کے میں شہر میں داخل ہوں گادن مگر ڈھلنے لگا ہےدل میں اک خوف سا اب بیٹھ رہا ہےکہ بالآخر یہ ہرن ہیمجھے سینگوں پر اٹھائے ہوئے اک غار میں داخل ہوگا
اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہنعقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمنحشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنتیرے پیمانوں میں لرزاں ہے شراب علم و فنروح سر سیدؔ سے روشن تیرا مے خانہ رہےرہتی دنیا تک ترا گردش میں پیمانہ رہےایک دن ہم بھی تری آنکھوں کے بیماروں میں تھےتیری زلف خم نجم کے نو گرفتاروں میں تھےتیری جنس علم پرور کے خریداروں میں تھےجان و دل سے تیرے جلووں کے پرستاروں میں تھےموج کوثر تھا ترا سیل ادا اپنے لئےآب حیواں تھی تیری آب و ہوا اپنے لئےعلم کا پہلا سبق تو نے پڑھایا تھا ہمیںکس طرح جیتے ہیں تو نے ہی بتایا تھا ہمیںخواب سے طفلی کے تو نے ہی جگایا تھا ہمیںناز سے پروان تو نے ہی چڑھایا تھا ہمیںموسم گل کی خبر تیری زبانی آئی تھیتیرے باغوں میں ہوا کھا کر جوانی آئی تھیلیکن اے علم و جسارت کے درخشاں آفتابکچھ بہ الفاظ دگر بھی تجھ سے کرنا ہے خطابگو یہ دھڑکا ہے کہ ہوں گا مورد قہر و عتابکہہ بھی دوں جو کچھ ہے دل میں تا کجا یہ پیچ و تاببن پڑے جو سعی اپنے سے وہ کرنا چاہئےمرد کو کہنے کے موقع پہ نہ ڈرنا چاہئےاے علی گڑھ اے ہلاک تابش وضع فرنگٹیمز ہے آغوش میں تیرے بجائے موج گنگوادیٔ مغرب میں گم ہے تیرے دل کی ہر امنگولولوں میں تیرے شاید عرصۂ مشرق ہے تنگکب ہے مغرب کعبۂ حاجت روا تیرے لئےآ کہ ہے بے چین روح ایشیا تیرے لئےکشتۂ مغرب نگار شرق کے ابرو بھی دیکھساز بے رنگی کے جویا سوز رنگ و بو بھی دیکھنرگس ارزق کے شیدا دیدۂ آہو بھی دیکھاے سنہری زلف کے قیدی سیہ گیسو بھی دیکھکر چکا سیر اصل مرکز پر تو آنا چاہئےاپنے گھر کی سمت بھی آنکھیں اٹھانا چاہئےپختہ کاری سیکھ یہ آئین خامی تا کجاجادۂ افرنگ پر یوں تیز گامی تا کجاسوچ تو جی میں یہ جھوٹی نیک نامی تا کجامغربی تہذیب کا طوق غلامی تا کجامرد اگر ہے غیر کی تقلید کرنا چھوڑ دےچھوڑ دے للہ بالاقساط مرنا چھوڑ دے
بو الہوس کا سر جھکا دے گی تری ادنیٰ جھلکہوگی لہجے میں ترے نبض طہارت کی دھمک
دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیںچاہے ان کا برج کوئی ہوعقرب ہی لگتے ہیںتیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہاپنی یرقانی سوچوں سےاور بھی زردی ملتے رہتے ہیںمالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹلکہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتےاوپر سے اس عمل کوفقرے بازی کہتے ہیںجس کا پہلا نشانہ عمومابل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے!
وہ رحم و کرم ہے بالآخر مجھ کو تو سہیلؔ اس پر ہے یقیںبس اس کی عنایت کا یاروں اظہار یہ پہلی بارش ہے
سمجھتے کیا ہو تم دل کوبالآخر کیا سمجھتے ہوکبھی کہتے ہو پتھر ہےتراشو خوب نکھرے گاکبھی شیشہ سمجھتے ہوجو آندھی نے بکھیرا ہوسیہ وہ راز صدیوں کےاسی دل میں چھپاتے ہوکبھی مردہ سی یادوں کوبھی سینے میں دباتے ہومیں اکثر فرض کرتی ہوںمیں جو تم سے اگر کہہ دوںکہ دل میں کوئی بستا ہےنگاہوں میں اترتا ہےبہاروں میں سنورتا ہےوہ دل کو گھر بتاتا ہےوہ گھر میں بت بناتا ہےوہ خود کا عکس چنتا ہےوہ دل کو چاک کرتا ہےمیں اس کی کارسازی میںخموشی سے تڑپتی ہوںاسے اپنا بتانے کےعمل کو پھر جھپٹتی ہوںدعا کرتی ہوں قدرت سےکہ جس نے گھر بنایا تھاجسے گھر کا مکیں جانااسے مہمان کر دے توتو قدرت پھر مرے ہاتھوںکو کچھ اوزار دیتی ہےمیں اپنے آپ ہی اس دلکے گھر کو نوچ دیتی ہوںتمہیں معلوم ہے کتنیمیں اب تکلیف سہتی ہوںکہ جب دیوار کو گھر کیمیں خود ہی صاف کرتی ہوںمیں اکثر فرض کرتی ہوںمیں جو تم سے اگر کہہ دوںکہ دل میں اب نہیں کوئییہ دل بنجر زمیں کوئیتو کیا تم پھر بھی آؤ گےتو کیا دل کو سنوارو گے
چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سےسنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی
پائے گا جلد منزل مقصود بالیقیںجاری جو کاروان ہے اردو زبان کا
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
چشم حق بیں کے لئے عبرت کے نظارہ ملےہستیٔ انسان پہ جو زندگانی دیکھ کر
شرابیں ختم کر کے ہو گئے خاموش ہنگامےبالآخر نیند آئی سو گئے پرجوش ہنگامے
بڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورجہمالہ کے اونچے کلس جگمگائےپہاڑوں کے چشموں کو سونا بنایانئے بل نئے زور ان کو سکھائےلباس زری آبشاروں نے پایانشیبی زمینوں پہ چھینٹے اڑائےگھنے اونچے اونچے درختوں کا منظریہ ہیں آج سب آب زر میں نہائے
یا خدا ہند پر کرم فرمااس کی تکلیف کالعدم فرماہیں پریشاں بہت حواس اس کےنہیں ہمدرد کوئی پاس اس کےفقر و فاقہ سے پائمال ہے ابقرض میں اس کا بال بال ہے ابنہ ہی صنعت نہ اب تجارت ہےساری آسودگی وہ غارت ہےعلم و فن سے ہے اس کا گھر خالیعقل و ادراک سے ہے سر خالیاچھے اطوار مٹ گئے اس کےنیک کردار مٹ گئے اس کےخلق ہے اب نہ مہر و الفت ہےآتشی ہے نہ اب اخوت ہےرنگ بالکل ہے ملک کا بدلاسارا پانی ہے چاہ کا گدلاہر طرف جہل ہے لڑائی ہےدشمن آپس میں بھائی بھائی ہےنہ محبت ہے اب نہ ہمدردینہ دلیری نہ اب جواں مردینہ روا داری و شرافت ہےنہ اب امن و امان و راحت ہےہر طرف ہے فساد ہنگامہکوئی رستم ہے اور کوئی گامااب کہاں صلح و خیر کی باتیںجب ہیں کانوں میں غیر کی باتیںجان بل کی ہیں سازشیں جاریملک پر ہیں نوازشیں جاریایک سے ہے کبھی شناسائیدوسرے کے لیے کبھی سائیکبھی ان کو لڑا دیا سب سےکبھی ان کو بھڑا دیا سب سےکبھی ان کو پولس و تھانہ ہےاور کبھی ان کو جیل خانہ ہےیہی منظر یہاں ہے شام و سحربس یہی ہو رہا ہے آٹھ پہرجانتا ہے ہر اک یہ سب باتیںپھر بھی خالی نہیں حوالاتیںوہی جنگ و جدل وہی جھگڑےوہی بغض و عناو کے رگڑےیا خدا دے ہمیں وہ عقل سلیمکہ سمجھ ہم سکیں ہر اک سکیمپڑ سکے پھر نہ کوئی زد ہم پرکھل سکیں سارے نیک و بد ہم پرختم کر دیں یہ تفرقہ سازیآگ میں جھونک دیں تبر یازیسب کریں مل کے ملک کی خدمتدور ہو اس کی عسرت و نکبتحکمت و فن وطن میں پھیلائیںشاہراہیں مسل کی کھل جائیںعلم و سائنس ملک میں بھر دیںاس زمیں کو ہم آسماں کر دیںہم پہ کھل جائیں سب وہ عقل کے رازہو اس کا یورپ کے طرۂ اعزازصنعتوں کی ہو گرم بازاریگاؤں گاؤں میں ہوں ملیں جاریریل، موٹر، جہاز ،طیارےخود یہ تیار ہم کریں سارےکبھی صحرا ہو مستقر اپناہو کبھی ٹاپوؤں میں گھر اپنامانچسٹر پہ خاک ڈالیں گےگھر سے جاپان کو نکالیں ہمنہ رہیں ہم کسی کے بھی محتاجملک اپنا ہو اور اپنا راجہم میں گر اتحاد ہو جائےملک آباد شاد ہو جائے
ریشمیں ساڑی کو سر سے خود ہی ڈھلکاتی بھی ہےبالارادہ بے حیائی کر کے شرماتی بھی ہے
برسوں بعد جب اس کو دیکھا پھول سا چہرہ بدل چکا تھاپیشانی پر فکر کی آیت آنکھیں اب سنجیدہ تھیںہونٹ کنول اب بھی ویسے پر شادابی کچھ کم کم تھیپکے پھلوں کا بوجھ اٹھائے جسم تنا بل کھاتا تھارنگیں پیراہن میں اب بھیخواب کی صورت لگتی تھیجانے کیسی کیسی حکایت دیکھ اسے یاد آتی تھیپہلی دفعہ جب ساتھ تھے بیٹھے کلاس کے اندر ہم دونوںاس کے جسم کے لمس نے مجھ کوپہلے تو بلایا تھا پھر پکا دوست بنایا تھاشام تلک میلے میں کیسے پھرتے رہے تھے ادھر ادھررات گئے ممی نے اس کو کھوٹی کھری سنائی تھیریل کے اندر بیٹھ کے کیسے شرمائے گھبرائے تھےبغیر ٹکٹ کے پہنچ کے گھر پر کتنی موج منائی تھیدوپہر کو ڈھابے میںچائے اور سگریٹ کے ساتھتھوڑے سے رومانی ہو کرکیا کیا باتیں کرتے تھےگھر کے باہر لان بھی ہوگا گیندا اور گل مہر کے پھولکھری کھاٹ نہیں رکھیں گے بیڈ بڑے مہنگے ہوں گےسوٹ مرا ایسا ہوگا تیری ساری ریشم کیبیٹے کا جو نام رکھیں گے ہندو نہ مسلم ہوگابل چکاتے وقت میں اکثر پیسے کم پڑ جاتے تھےدیکھ کے ددو ہنستا تھا پھرجانے کیوں خوش ہوتا تھاکوئی بات نہیں ہے بیٹےکل جب آؤ دے جاناجاتے ہوئے جب سیٹھ نے اس کی کمر میں بازو پہنایادیکھ کے اس کی آنکھیں مجھ کو چھلک پڑی تھیں چپ کے سےسوچ رہا تھا پلٹ کے اب وہپوچھے گی تم کیسے ہویہ ہے آپ کی کافی صاحب اور بھی کچھ چہیے ہوگا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books