aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chauk"
''خواب لے لو خواب۔۔۔۔''صبح ہوتے چوک میں جا کر لگاتا ہوں صداخواب اصلی ہیں کہ نقلی؟''یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کرخواب داں کوئی نہ ہو!
دل کا پیغام جب ای میل سے مل جاتا ہےمیل ہر چوک پہ فی میل سے مل جاتا ہے
گھوڑا پہنچا چوک میں چوک میں تھا نائیگھوڑے جی کی نائی نے حجامت جو بنائیدوڑا دوڑا دوڑا گھوڑا دم اٹھا کے دوڑا
(۳)نئے زمانے میں اگر اداس خود کو پاؤں گایہ شام یاد کر کے اپنے غم کو بھول جاؤں گاعیادت حبیب سے وہ آج زندگی ملیخوشی بھی چونک چوک اٹھی غم کی آنکھ کھل گئیاگرچہ ڈاکٹر نے مجھ کو موت سے بچا لیاپر اس کے بعد اس نگاہ نے مجھے جلا لیانگاہ یار تجھ سے اپنی منزلیں میں پاؤں گاتجھے جو بھول جاؤں گا تو راہ بھول جاؤں گا(۴)قریب تر میں ہو چلا ہوں دکھ کی کائنات سےمیں اجنبی نہیں رہا حیات سے ممات سےوہ دکھ سہے کہ مجھ پہ کھل گیا ہے درد کائناتہے اپنے آنسوؤں سے مجھ پہ آئینہ غم حیاتیہ بے قصور جان دار درد جھیلتے ہوئےیہ خاک و خوں کے پتلے اپنی جاں پہ کھیلتے ہوئےوہ زیست کی کراہ جس سے بے قرار ہے فضاوہ زندگی کی آہ جس سے کانپ اٹھتی ہے فضاکفن ہے آنسوؤں کا دکھ کی ماری کائنات پرحیات کیا انہیں حقیقتوں سے ہونا بے خبرجو آنکھ جاگتی رہی ہے آدمی کی موت پروہ ابر رنگ رنگ کو بھی دیکھتی ہے سادہ ترسکھا گیا دکھ مرا پرانی پیر جاننانگاہ یار تھی جہاں بھی آج میری رہنمایہی نہیں کہ مجھ کو آج زندگی نئی ملیحقیقت حیات مجھ پہ سو طرح سے کھل گئیگواہ ہے یہ شام اور نگاہ یار ہے گواہخیال موت کو میں اپنے دل میں اب نہ دوں گا راہجیوں گا ہاں جیوں گا اے نگاہ آشنائے یارسدا سہاگ زندگی ہے اور جہاں سدا بہار(۵)ابھی تو کتنے ناشنیدہ نغمۂ حیات ہیںابھی نہاں دلوں سے کتنے راز کائنات ہیںابھی تو زندگی کے نا چشیدہ رس ہیں سیکڑوںابھی تو ہاتھ میں ہم اہل غم کے جس ہیں سیکڑوںابھی وہ لے رہی ہیں میری شاعری میں کروٹیںابھی چمکنے والی ہے چھپی ہوئی حقیقتیںابھی تو بحر و بر پہ سو رہی ہیں میری وہ صدائیںسمیٹ لوں انہیں تو پھر وہ کائنات کو جگائیںابھی تو روح بن کے ذرے ذرے میں سماؤں گاابھی تو صبح بن کے میں افق پہ تھرتھراؤں گاابھی تو میری شاعری حقیقتیں لٹائے گیابھی مری صدائے درد اک جہاں پہ چھائے گیابھی تو آدمی اسیر دام ہے غلام ہےابھی تو زندگی صد انقلاب کا پیام ہےابھی تمام زخم و داغ ہے تمدن جہاںابھی رخ بشر پہ ہیں بہمیت کی جھائیاںابھی مشیتوں پہ فتح پا نہیں سکا بشرابھی مقدروں کو بس میں لا نہیں سکا بشرابھی تو اس دکھی جہاں میں موت ہی کا دور ہےابھی تو جس کو زندگی کہیں وہ چیز اور ہےابھی تو خون تھوکتی ہے زندگی بہار میںابھی تو رونے کی صدا ہے نغمۂ ستار میںابھی تو اڑتی ہیں رخ بہار پر ہوائیاںابھی تو دیدنی ہیں ہر چمن کی بے فضائیاںابھی فضائے دہر لے گی کروٹوں پہ کروٹیںابھی تو سوتی ہیں ہواؤں کی وہ سنسناہٹیںکہ جس کو سنتے ہی حکومتوں کے رنگ رخ اڑیںچپیٹیں جن کی سرکشوں کی گردنیں مروڑ دیںابھی تو سینۂ بشر میں سوتے ہیں وہ زلزلےکہ جن کے جاگتے ہی موت کا بھی دل دہل اٹھےابھی تو بطن غیب میں ہے اس سوال کا جوابخدائے خیر و شر بھی لا نہیں سکا تھا جس کی تابابھی تو گود میں ہیں دیوتاؤں کی وہ ماہ و سالجو دیں گے بڑھ کے برق طور سے حیات کو جلالابھی رگ جہاں میں زندگی مچلنے والی ہےابھی حیات کی نئی شراب ڈھلنے والی ہےابھی چھری ستم کی ڈوب کر اچھلنے والی ہےابھی تو حسرت اک جہان کی نکلنے والی ہےابھی گھن گرج سنائی دے گی انقلاب کیابھی تو گوش بر صدا ہے بزم آفتاب کیابھی تو پونجی واد کو جہان سے مٹانا ہےابھی تو سامراجوں کو سزائے موت پانا ہےابھی تو دانت پیستی ہے موت شہریاروں کیابھی تو خوں اتر رہا ہے آنکھوں میں ستاروں کیابھی تو اشتراکیت کے جھنڈے گڑنے والے ہیںابھی تو جڑ سے کشت و خوں کے نظم اکھڑنے والے ہیںابھی کسان و کامگار راج ہونے والا ہےابھی بہت جہاں میں کام کاج ہونے والا ہےمگر ابھی تو زندگی مصیبتوں کا نام ہےابھی تو نیند موت کی مرے لئے حرام ہےیہ سب پیام اک نگاہ میں وہ آنکھ دے گئیبہ یک نظر کہاں کہاں مجھے وہ آنکھ لے گئی
چار باغ اسٹیشن دیکھوشہر میں ایک نیا پن دیکھوسجی سجائی دلہن دیکھوقدم قدم پر فیشن دیکھوآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںکتنا اچھا چڑیا گھر ہےشیر ہرن بھالو بندر ہےمور کبوتر اور تیتر ہےاندر مردہ عجائب گھر ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںحضرت گنج کی سیر کرائیںقیصر باغ کی لاٹ دکھائیںاور امین آباد گھمائیںشام اودھ رنگین بنائیںآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںیہ پوری یوپی کا دل ہےاس میں ایک چھتر منزل ہےآرٹ اسکول لب ساحل ہےندوہ دیکھنے کے قابل ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںچوک نخاس حسین آبادگولا گنج نظیر آبادپیار محبت میں آزادمرد و زن شیریں فرہادآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںآؤ شہد اسمارک دکھائیںجھنڈے والے پارک میں جائیںبیلی گارد کو سمجھائیںمیڈیکل کالج دکھلائیںآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیںیہ سب شہروں میں نیارا ہےنام اس کا کتنا پیارا ہےسب کی آنکھوں کا تارا ہےامن و سکوں کا گہوارا ہےآؤ تمہیں لکھنؤ دکھائیںاور یہاں کی سیر کرائیں
چوک چوک پر گلی گلی میں سرخ پھریرے لہراتے ہیںمظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت امڈے آتے ہیں
کبھی ہنستی ہوئی آنکھوں میں اس کی جھانک کر دیکھوتو لگتا تھا چھلک اٹھیں گی پر اتنا ہی کہتی تھیکبھی لاہور دیکھا ہےمیاں والی سے گزرے ہونہیں دیکھے اگر یہ شہر تو کیا خاک دیکھا تم نے دنیا میںکبھی لاہور سے گزرو تو تھوڑی دیر کو رک کرمحلہ بوہڑ والا چوک میں میرا کسی سے نام لے دینامیاں والی کو جانا ہوتو واں دیوار پر بیٹھے ہوئے کاگا سےمیری ماں کا اور پیو کا ذرا احوال لے لیناوہ پھر سے ہنسنے لگتی تھی
پھولوں کی خوشبو سے کیا کیا یاد آتا ہےچوک میں جس دن پھول پڑے سڑتے تھےخونی دروازے پر شہزادوں کی پھانسی کا اعلان ہوا تھایہ دنیا لمحہ لمحہ جیتی ہےدلی کی گلیاں ویسی ہی آباد شاد ہیں سبدن تو کالے پر والے بگلے ہیںجو سب لمحوں کواپنے پنکھوں میں موند کے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیںچاروں جانب رنگ رنگ کے جھنڈے اڑتے ہیںسب کی جیبوں میں انسانوں کے دکھ درد کا درماںخوشیوں کا نسخہ بندھا پڑا ہےلیکن ایسا کیوں ہےجب نسخہ کھلتا ہے1857 جاتا ہے1947 آ جاتا ہے
لگا کے چوک سے اور چار سو تلک دیکھاکہ جاگہ ایک بھی تل دھرنے کی نہیں ہے ذراتمام بھیڑ سے ہر طرف بند ہے رستاتس اوپر رنگ کا بادل ہے اس قدر برساکہ ہر گلی میں بہا ڈھولی کھال ہولی میں
گھڑی کی ٹک ٹک بول رہی ہے رات کے شاید ایک بجے ہیںبٹلہ ہاؤس کی ایک گلی میں موٹے کتے بھونک رہے ہیںایک کھنڈر میں تیز روشنی چاروں جانب پھیل رہی ہےبغل میں لیٹا ساتھی میرا اب تک پب جی کھیل رہا ہےمیں بھی اب تک جاگ رہا ہوں آنکھیں موندے سوچ رہا ہوںنیچے جانا کیسا ہوگا باہر کتنی سردی ہوگیقطب ستارہ کدھر کو ہوگا رات کی رانی کیسی ہوگیصبح کا سورج کہاں پہ ہوگا ابھی خدا کیا کرتا ہوگاسڑک کنارے سونے والے جوڑے کیسے سوتے ہوں گےان کو مچھر کاٹتے ہوں گےنوم چومسکی لان میں بیٹھے بچے آخر کیسے ہوں گےان کو کتے چاٹتے ہوں گےکیا ان بھوک زدہ بچوں کے خواب میں پریاں آتی ہوں گیکٹے پھٹے ہاتھوں کے تکیے کے نیچے کچھ رکھتی ہوں گیکیسی باتیں کرتے ہو جی کیا پریوں کا کام یہی ہےمحل سرائے چھوڑ کے اب وہ سڑک کنارے آئیں گی کیارات کے شاید ڈیڑھ بجے ہیں بٹلہ ہاؤس کا چوک کھلا ہےرات کو جاب سے آنے والے رات میں جاب کو جانے والےایک ہاتھ میں لیے چائے کپ ایک ہاتھ میں چھوٹی سگریٹسڑک پار کیوں دیکھ رہے ہیںبریانی کو ڈھونڈھ رہے ہیںان کے پیچھے سڑک کنارے قبرستان کا گیٹ کھلا ہےاندر کتے گھوم رہے ہیں شاید کھانا ڈھونڈھ رہے ہیںباہر سگریٹ اور کافی ہے اندر کافی تاریکی ہےمیں بھی اندر جھانک رہا ہوں ہولے ہولے سوچ رہا ہوںقبرستان کے اندر میں یہ لیٹرین کس نے بنوایاکیوں بنوایاشاید مردے رات میں اٹھ کر اس کے اندر جاتے ہوں گےحاجت پوری کرتے ہوں گےیا پھر سگریٹ پینے والے لڑکے اندر جاتے ہوں گےخاکی وردی گھر والوں سے چھپ کر سگریٹ پیتے ہوں گےایک کنارے ادب کی ملکہ سب کچھ بیٹھی دیکھ رہی ہےآگ کا دریا چاندنی بیگم شیشے کا گھر لکھنے والیعینی آپا سوچ رہی ہےمیرا قاری کیوں آیا ہےشاید اس کو گوتم شنکر طلعت نے الجھایا ہوگایا پھر اس کو خیاباں کی چمپا نے پگلایا ہوگایا پھر اس پاگل لڑکے نے شعور کی رو کو چھیڑا ہوگایا پھر اس نے آگ کا دریا آدھا پڑھ کر چھوڑا ہوگافلسفیانہ باتیں سن کر سارے مردے سوچتے ہوں گےکوئی اپنی خواب گاہ کو چھوڑ کے آخر کیوں آیا ہےمیں بھی بیٹھا سوچ رہا ہوںاتنی رات کو کیوں آیا ہوں
مجھ سے ملو تماجنبی ملکوں کی سیر و سیاحت میںپیار کے رسم و رواج میںحلقۂ یاراں میںطوفان باد و باراں میںسینٹورس کے عقب میںچھپر ہوٹل کے ٹوٹے ہوئے ٹیبل پرچاند پہ بیٹھی ہوئی بڑھیا کے نورانی چرخے میںاسی کی دہائی کی فلموں کے ذکر میںپرانی کتابوں کی دوکان پرنسوانی خوشبوؤں کے چوک پربوسوں کی تکرار میںمجھ سے ملو تم
یوں ٹیڑھی ترچھی آڑیجیسے سڑک ہو ان کیاپنی ہی کھیتی باڑیدو دوست پیچھے بیٹھےدو چڑھ گئے اگاڑییہ پھٹ پھٹی ہے کوئییا بھاگتی پہاڑیپھٹ پھٹ پھٹاک کر کےجب یہ سڑک پہ دھاڑیدائیں کو پہلے گھومیپھر بائیں سمت تاڑیاک بس سے بچ کے نکلیاک سائیکل پچھاڑیاک ٹیکسی کو رگڑانمبر پلیٹ اکھاڑیفٹ پاتھ پر جو اچھلیٹکرایا اک کباڑیپھر روڑ پر اتر کرمچوا دی بھگ بھگاڑیوہ چوک کا سپاہیروکی تھی جس نے گاڑیلو وہ بھی کود بھاگاپھاندی بڑی سی جھاڑییوں ڈگمگا کے لڑکےچاچو کے سارے آڑیدکھلائیں جیسے سرکسکچھ مسخرے اناڑی
ڈگ ڈگ ڈگ ڈگ کرتا آیابندر والا بندر لایاہاتھ میں اک موٹا سا ڈنڈاڈنڈے میں اک لال سا جھنڈاکندھے پر میلا سا جھولاپیچھے بندر بھولا بھولابندر کے ساتھ اک بندریاپہنے ہوئے اک لال گھگریاکوچوں بازاروں سے گزرتاچوک میں آیا ڈگ ڈگ کرتادیکھ کے کچھ لوگوں کا جمگھٹاس نے کھیل جمایا جھٹ پٹجب لوگوں نے گھیرا باندھاچھلنے لگا کاندھے سے کاندھالے کر ڈنڈا رکھ کر جھولابندر والا ہنس کر بولاناچو بیٹا ناچو بیٹابندر نے بھی جسم سمیٹااپنے دونوں ہاتھ اٹھا کرگردن اور کولھے مٹکا کرجھجکا اور نہ کچھ شرمایاتھرک تھرک کر ناچ دکھایادیکھیے اب سسرال میں جانااور بیوی کو ساتھ میں لانابیوی پہلے تو شرمائیپھر وہ چھم چھم کر آئیلڑکوں نے بندر کو ستایابندر کو بھی غصہ آیاجھپٹا ان پر ڈنڈا لے کران کو ڈرایا بھپکی دے کرکر کے تماشے ایسے ایسےسب لوگوں سے مانگے پیسےوقت ابھی تھا ٹھنڈا ٹھنڈاچلتا بنا لے جھولا ڈنڈا
آدھا ہندو ہوں شراب پیتا ہوںآدھا مسلمانکہ سور نہیں کھاتامیاں غالب فرماتے تھےخیالؔ صاحب آپ بھیہوتے ہوتے ہو گئےشایدآدھے فرنگیہریدوار کی چوک پرہری حلوائی کی دوکان میںدیسی گھی کی پوری سبزی کھاتے تھےمگر پینے کے لیےبسلری ہی منگواتے تھے
سانسوں کا بوجھ بھاری ہو جانے کے بعدمیں اسے گھر چھوڑ کر سفر پر نکل پڑا ہوںمگر چوک میں بیٹھی خاموشیمجھے گھور رہی ہےسارا دن تخیل کی دنیا میں گزارنے کے بعدشام کے وقت اداسیوں کا بوجھ اٹھائےمیں لوٹ آتا ہوںکیوںکے روشن دان سے آنے والا اندھیرامیرے بنا گھبرا جاتا ہےمیرے کچھ معذور خواب میرے بستر پرمیرا انتظار کرتے ہیںمگر نیند اب میری دنیا سے ہجرت کر چکی ہےرات بھر آنکھیں آنسوؤں سے مباشرت کرتی ہیںمیرا ذہن فقط حادثوں کے بارے میں سوچتا ہےرات بھر رونے کی آوازیں آتی ہیںمیں اب بین کی لوری کا عادی ہو چکا ہوںرات بھر تیز بارش احتجاج کرتی ہےمیں غموں کو پرانا اخبار سمجھ کرجلا دینا چاہتا ہوںمگر ان اخباروں پر میری چندمسکراتی تصویریں ہیںپیڑ میرے قہقہوں سے خوفزدہ ہو جاتے ہیںصدیوں سے یہی سب دہراتا میں سوچتا ہوںکہ کیا رات انسان کی دشمن ہےیا پھر اندھیرا یا کسی کی یاد کا کینسر
آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کروکتنا اچھا رنگ جمایاایک ذرا سا پیچ گھمایاتم نے چاندنی چوک کو کھو کرکلکتے کے شہر کو پایاسر پہ اٹھا کر کلکتے کا شہر دکھانے آیادو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرانے آیا
دائرے سے ٹوٹ کر گر پڑیں گے ابھیاور ہم اپنے ہونے کی پاداش میںبوڑھی صدیوں کی ٹوٹی ہوئی قوس پرایک تاریک نقطے میں کھو جائیں گےدائروں کے مقابر میں سو جائیں گےدائرے خواہشوں کے مقابر سہیدائرے آرزو کے مینار ہیںدائرے بے ثباتی کے مرقد نہیںدائرے گزرے وقتوں کے آثار ہیںدائروں کی فصیلوں میں لپٹے ہوئےان گنت لوگ جیون سے بیزار ہیںجانے دن کے لہو سے سیہ رات کوہاتھ دھونے میں کیسی مسرت ملیکیسے کیسے جواں مرد تھے جو کبھیچاندنی کے سفر پر روانہ ہوئےموسموں کی تمازت کو اوڑھے ہوئےنارسائی کے آزار میں کھو گئےکتنے تارے خلاؤں کی دہلیز پررات کے دشت ویران میں سو گئےدائروں کی فصیلوں سے گرتا لہوشہر کے بے نواؤں کا تاوان ہےجنگلوں میں بھٹکتی صدا کی طرحشہر کا ہر صدا کار بے جان ہےبے گھروں کی طرح بیسوا کی طرحکوہساروں سے الجھی ہوا کی طرحشہر کے چوک میں نقش پا کی طرحدائروں کی فصیلوں سے ڈرتے رہوزرد پتوں کی صورت ہوا کی طرح
اس نے سوچایاد گاری چوک میں چاروں طرفیہ بولتے بازار ہیںاس لیے افسردگی میں گم کھڑےاس بید مجنوں پرنظر پڑتی نہیںجو اکیلا رہ گیا ہے قصہ خوانوں میں یہاںبے رنگ اکھڑتی چھال پرچاقو سے کندہ نام پھیکا پڑ گیا ہےکندہ کاری جا ملی ہے خاک سےوقت کی غفلت نے کیا ثابت کیازخم کھانے اور لگانے والوں میںکون فتح یاب ہیں
اور طوفان کے بعداکھڑے گرے پیڑوں بھیگے تنوںصبح کی مرگھلی دھوپ میں سوکھتے سبز پتوں کی بو میںمیں تنہا چلا جا رہا ہوںمیرے چاروں طرفٹنکی اونچی چھتیں ہیں پتنگوں کی مانند بکھری ہوئیاور لکڑی کی شہتیریں جیسے پتنگوں کے ٹوٹے ہوئے ہاتھاور بجلی کی تاریں کہ جیسے پتنگوں کی الجھی ہوئی ڈورہوا نم ہےاور شہر کے چوک پر گدھ اتر آئے ہیںاور اکھڑی جڑوں کے کناروں کی گیلی زمیں پرپھٹے بھیگے کپڑوں میں بچےگھروندے بناتے ہیں بلور کی گولیاں کھیلتے ہیں
بیٹھک اور چوپال سبھی چپ چاپ پڑے ہیںاونگھ رہے ہیںگاؤں کے باہر ڈھیلا ڈھالاآدھا سویا آدھا جاگاچوک جو اک سونا رستہ تھااب تو وہاں بازار سجا ہےبھیڑ لگی ہےشور و غل پڑا ہےگاؤں شاید قصبہ بنتے بنتے رک کراک پل کے وقفے میں جیسے ٹھہر گیا ہےاس گاؤں کو اپنا کہنے میں ابمجھ کو کچھ سنکوچ سا ہوتا تو ہے لیکنمیں گر اپنا بستہ کھول کےکھویا بچپن ڈھونڈھ نکالوںلنگڑاتی پگڈنڈی کی انگلی تھامے اسکول کے اک دو چکر کاٹوںتو پھر ممکن ہے میںاس گاؤں کو اپنا کہہ پاؤں گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books