aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "idu"
سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیےکہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہاسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہتاسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاریہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیںتمہیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نےہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
اے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علمیہ محلات یہ اونچے اونچے مکاںان کی بنیاد میں ہے ہمارا لہوکل جو مہمان تھے گھر کے مالک بنےشاہ بھی ہے عدو شیخ بھی ہے عدوکب تلک ہم سہیں غاصبوں کے ستماے جہاں دیکھ لے کب سے بے گھر ہیں ہماب نکل آئے ہیں لے کے اپنا علم
یہ وقت آئے تو بے ارادہکبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوںاتار کر ذات کا لبادہکہیں سیاہی ملامتوں کیکہیں پہ گل بوٹے الفتوں کےکہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کیکہیں پہ خون جگر کے دھبےیہ چاک ہے پنجۂ عدو کایہ مہر ہے یار مہرباں کییہ لعل لب ہائے مہوشاں کےیہ مرحمت شیخ بد زباں کی
گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کرچڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پراٹھا ہے نالۂ پر درد سے نیا محشرجگر پہ مادر بھارت کے چل گئے خنجرشکستہ حال ہوا قوم کے حبیبوں کابدن میں خشک لہو ہو گیا غریبوں کاابھی تو قوم نے نہروؔ کا غم اٹھایا تھاابھی تو داس کی فرقت نے حشر ڈھایا تھاابھی تو ہجر کا بسمل کے زخم کھایا تھاابھی تو کوہ ستم چرخ نے گرایا تھاچلے ہیں ناوک بیداد پھر کلیجوں پرکہ آج اٹھ گئے افسوس نوجواں رہبرعدو وطن کو تشدد سے کیا دبائیں گےوہ اپنے ہاتھ سے فتنے نئے جگائیں گےجو ملک و قوم کی دیوی پہ سر چڑھائیں گےنثار ہو کے شہیدوں میں نام پائیں گےگرے گا قطرۂ خوں بھی جہاں سپوتوں کافدائے ہند وہاں ہوں گے سینکڑوں پیداجہاں سے ملک عدم نونہال جاتے ہیںنمایاں کر کے ستم کش کا حال جاتے ہیںگرا کے ہند میں کوہ ملال جاتے ہیںوطن کو چھوڑ کے بھارت کے لال جاتے ہیںتڑپ رہے ہیں جدائی میں بے قرار وطنچلے ہیں عالم بالا کو جاں نثار وطن
بھول گئی ہے آج تو رہبر حق نگاہ کوبھول گئی ہے آج تو مرد جہاں پناہ کوبھول گئی ہے آج تو ضبط کے بادشاہ کوتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتیرے مہنت تو ابھی مست ہیں ذات پات میںتیرے بڑے بڑے گرو غرق ہیں چھوت چھات میںآہ کہ ڈھونڈھتی ہے تو نور اندھیری رات میںتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومآہ کہ تو نے ضبط کے درس کو بھی بھلا دیاآہ کہ تو نے قلب سے نام صفا مٹا دیاآہ کہ دوستوں کو بھی تو نے عدو بنا دیاتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتیرے مشیر بے عمل تیرے وزیر بے عملتیرے غریب بے عمل تیرے امیر بے عملتیرے سفیر بے عمل تیرے کبیر بے عملتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوماف کہ قدم قدم پہ ہے تیرا شریک اہرمناف کہ تجھے نصیب ہیں فرقہ پرست راہزناف کہ تجھے عزیز ہیں چرب زبان و بد سخنتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوماف کہ جہالتوں پہ بھی عقل کا ہے گماں تجھےاف کہ ابھی پسند ہے جہل کی داستاں تجھےاف کہ ہے فرقہ دوستی دیتی ابھی اماں تجھےتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومظلم کیے ہیں تو نے جو ظلم کے شاہدوں سے پوچھقتل کیے ہیں کس قدر اپنے مجاہدوں سے پوچھپیتے ہیں روز کتنی مے جھوٹ کے زاہدوں سے پوچھتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومدرس مہاتما کا بھی تجھ پر کوئی اثر نہیںقول مہاتما پہ بھی آج تری نظر نہیںکون ہے اس کا جانشیں اس کی تجھے خبر نہیںتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومتجھ کو بتائے کون آج اصل میں راہبر ہے کونتجھ کو بتائے کون آج بندۂ معتبر ہے کونتجھ کو بتائے کون آج پیر جواں نظر ہے کونتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قومدیکھ نہ چشم شوق سے پتھروں کے تو طور توقدر جواہر حسیں دیکھ بہ چشم غور توورنہ ہزار ذلتیں تیرے لیے ہیں اور توتجھ سے کہوں تو کیا کہوں اے مری بامراد قوماے مری زندہ باد قوم اے مری زندہ باد قوم
اس قوم کی فلاح ہے جام و سبو کے بیچتم انتخاب جا کے لڑو ہاؤ ہو کے بیچدشنام اور بلووں کے اور دو بہ دو کے بیچجیسے کہ کوئی بیٹھا ہو بزم عدو کے بیچ''مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ''''جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں''
گرا رہا ہے ترا شوق شمع پر تجھ کومجھے یہ ڈر ہے نہ پہنچے کہیں ضرر تجھ کوفروغ شعلہ کہاں اور فروغ حسن کہاںہزار حیف کہ اتنی نہیں خبر تجھ کوتڑپ تڑپ کے جو بے اختیار کرتا ہےنہیں ہے آگ کے شعلہ سے آہ ڈر تجھ کویہ ننھے ننھے پر و بال یہ ستم کی تپشملا ہے آہ قیامت کا کیا جگر تجھ کوقریب شمع کے آ کر جو تھرتھراتا ہےنہیں ہے جان کے جانے کا غم مگر تجھ کوملے گی خاک بھی ڈھونڈے نہ تیری محفل میںصبا اڑائے پھرے گی دم سحر تجھ کوسمجھ نہ شمع کو دل سوز عافیت دشمنجلا کے آہ رہے گی یہ مشت پر تجھ کونہیں ہے تو ابھی سوز و گداز کے قابلنہیں ہے عشق کی عرض و نیاز کے قابلتپش یہ بزم میں فانوس پر نہیں اچھیکہ آگ لاگ کی او بے خبر نہیں اچھیکڑی ہے آنچ محبت کی شمع محفل سےلگاوٹیں ارے تفتہ جگر نہیں اچھیتڑپ تڑپ کے نہ دیوانہ وار شمع پہ گرتپش یہ شوق کی، او مشت پر نہیں اچھییہ جاں گدازئ سوز وفا سر محفلکہیں نہ ہو ترے جی کا ضرر نہیں اچھیلڑا نہ شمع سے آنکھیں کہ ہے عدو تیریتری نگاہ محبت اثر نہیں اچھییہ ننھے ننھے پروں کی تڑپ یہ بیتابیحریف شوخئ برق نظر نہیں اچھییہ پر سمیٹ کے فانوس پر ترا گرنایہ بے خودی ارے شوریدہ سر نہیں اچھیچمن میں چل کہ دکھاؤں بہار شاہد گلنظر فریب ہیں نقش و نگار شاہد گلمیں بو الہوس نہیں سمجھا ہے تو نے کیا مجھ کوپسند شاہد گل کی نہیں ادا مجھ کوفراق گل میں میں منت کش فغاں ہوں دریغیہ داغ سوز جدائی نہ دے خدا مجھ کودل گداختہ لے کر ازل سے آیا ہوںبنایا بزم میں ہے سوز آشنا مجھ کوجلے وہ بزم میں چپ چاپ اور میں نہ جلوںبعید عشق سے ہے ہو غم فنا مجھ کوتری نگاہ میں جاں سوز ہے جو اے بلبلوہ آہ آگ کا شعلہ ہے جاں فزا مجھ کوکھلا ہے تجھ پہ ابھی آہ راز عشق کہاںتو بو الہوس ہے، تجھے امتیاز عشق کہاں
اے ناظر بے خبراب تم نا ہی آؤ تو اچھا ہےاب یہاں پھر شروع سے شروع کون کرےلمحہ لمحہ شب غم کا یوں عدو کون کرےہونٹ سوکھے ہیں انہیں پھر سے کماں کون کرےدید کو چشمہ و شمشیر زباں کون کرے
فصل بہار آئی مگر ہم ہیں اور غمہر سمت سے ہیں گھیرے ہوئے صدمہ و المآئی نہ اف زباں پہ ستم پر ہوئے ستمکیا امتحاں کے واسطے ٹھہرے ہیں صرف ہمجب اپنی قوتوں پہ بھروسا نہیں رہابہتر ہے پھر جہاں سے اٹھا لے ہمیں خدااس عمر چند روزہ میں کی لاکھ جستجوچھانی ہے ہم نے خاک زمانے میں کو بہ کوشکوہ عدو کا کیا ہے جب احباب ہیں عدوجینے کی اک سیکنڈ نہیں اب تو آرزوہم نے سمجھ لیا کہ جہاں سے گزر گئےجب دل ہی مر گیا تو سب ارمان مر گئےہم پر گرائیں چرخ نے اس حد پہ بجلیاںدم بھر میں جل کے خاک ہوئیں ساری استخواںچلتی رہیں ہوائے مخالف کی آندھیاںآتا نہیں سمجھ میں کہ جا کر چھپیں کہاںزیر زمیں بھی چین کی امید اب نہیںپھر کیا ہے یہ بتا دے کوئی گر غضب نہیںمکر و فریب سے جو کریں زندگی بسرسو جاں ہزار دل سے ہو قربان ہر بشردن رات ہم ہوں اور ہوں احباب خیرہ سرایمان داریوں میں کٹی زندگی اگرہر ایک کی نگاہ میں بس خار ہو گئےبے سونچے سمجھے مستحق دار ہو گئےدعویٰ تو یہ ہے ہم بھی مسلمان ہیں ضرورکلمہ جو پوچھیے تو نہیں یاد ہے حضورکیا غم اگر شکستہ عزیزوں کے ہیں قبورتیرا یہ اس پہ حد سے زیادہ ہے کچھ غرورمیلوں کے واسطے جو طلب ہو تو خوب دیںقومی جو کوئی کام ہو تو نام بھی نہ لیںپوچھا اگر عبادت خالق ہے کوئی چیزفرمایا دل میں یہ تو نہایت ہے بد تمیزعیاشیاں جو کیجیئے تو آپ ہیں عزیزاے قوم کاہلی ہے تری گھر کی اب کنیزاچھی بری کا جب تو نہیں امتیاز ہےبے مائیگی پر اپنی فقط تجھ کو ناز ہےہشیار کوئی لاکھ کرے تو ہے بے خبراس درجہ بے حیا کہ نہیں دل پہ کچھ اثرنازاں ہیں صرف باپ کے دادا کے نام پرقرضے میں ہو رہی ہے مگر زندگی بسردیکھو تو غیر ہنستے ہیں ہشیار ہو ذراللہ اب تو خواب سے بیدار ہو ذراپھولو پھلو الٰہی رہو شاد سر بسرہو نخل اتحاد ہمیشہ یہ باروروہ دن خدا دکھائے کہ لے آئے یہ ثمرآنا ہے تم کو منزل مقصود تک اگرڈالی ہے اتحاد کی تم نے جو داغ بیلہمت نہ ہارو جان کے بچوں کا ایک کھیلدیکھو تو اور قوموں میں کیا اتحاد ہےدولت سے اور علم سے ہر ایک شاد ہےتم میں بھی آج ایسا کوئی خوش نہاد ہےمحمود کا یہ قول ہمیں اب تو یاد ہےدو دن رہے جو آ کے جہاں میں تو کھل گئےآخر کو مثل خار چمن سے نکل گئےاے ساکنان موضع جگور السلامدنیا ہے آج تم کو ہر اک بات کا پیاماب تو نکالو اپنی دلوں سے خیال خاماچھا نہیں جو غیر کے بن جاؤ تم غلاماچھی نصیحتوں پہ عمل پھر ضرور ہےکوئی نہ یہ کہے کہ سراسر قصور ہےاپنے امور میں نہ کرو غیر کو شریکشر کو نہ ڈھونڈھو اور کرو خیر کو شریکاچھے نہیں سفر جو کریں سیر کو شریککعبہ کے ذکر میں نہ کرو دیر کو شریکتم خود رہے ہو صاحب اقبال دہر میںکیوں ڈھونڈتے ہو ذائقہ شہد زہر میںاخلاق کا چراغ بجھانا نہ چاہئےظلمت کدہ میں غیر کے جانا نہ چاہئےسچی نصیحتوں کو بھلانا نہ چاہئےتم کو کسی فریب میں آنا نہ چاہئےاللہ کے بھروسہ پہ ہر کام تم کرودشمن بھی جس کو مان لیں وہ نام تم کرو
شوق آزادی کا مجھ کو کھینچ لایا ہے یہاںآج دشمن ہے زمیں میری عدو ہے آسماں
ہر ایک بچہ ہے ایک بچہ نہ ہے کسی کا کبھی عدو وہیہ بھید بھاؤ یہ فاصلہ سب خود اپنا پیدا کیا ہوا ہےکسی کا مذہب نہیں یہ کہتا کہ تم نہ جینے دو دوسروں کوخدا تو سب کا ہے ایک لیکن مقام سجدہ جدا جدا ہے
جو عدو ہیں وہ ہمارے ہی عدو کب ہیں فقطہم ہدف کب ہیں کہ ان کا ہدف آسانی ہےان کو معلوم نہیں ہم ہیں کوئی شوکت ضوعلم کا قتل فقط مذہبی نادانی ہے
تیری گفتگو میںایک جستجو ہےجو میرے روبرو ہےمیرا ہو بہ ہو ہےمیرا میںاور تیرا میںدراصل یہی تودونوں کا عدو ہےچلو اس میں کافاصلہ مٹا دیںمگرمیں کی اس انا میں قیدہمارے وجود کویہ فیصلہمنظور کب ہے
بے جھجک، بے خطربے دھڑک وار کرمیری گردن اڑااور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھرچھین لے حسن و خوبی، انا، دل کشیمیرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زرمیری پوروں سے بہتی ہوئی روشنیمیرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنرتجھ سے شکوہ نہیںاے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوںتیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیںتجھ سے کیسے کہوں!!!تجھ سے کیسے کہوں! قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی ما مداوا نہیں)ہاں مگر تیری دل جوئی کے واسطےمیری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے(تیری دانست میں)کھیل جاری رہے
مجھے یقیں ہےکہ تم کون مہندی سےجب میرے عدو کا ناماپنی خوب صورت کلائی پر لکھو گیتومیرا خیال آتے ہیآخر ایک دناس منحوس کے نام پرخود ہیبڑا سا کانٹا لگا دو گیاور دوسری کلائی پرمیرا نام لکھ کراسے دیر تک چومتی رہو گیمیں اس لمحے کے انتظار میںمتبادل کلائیوں کی جانب سے موصولہہزاروں دل پذیر آفریںمسلسل مسترد کئے جا رہا ہوںکیونکہدنیا امید پر قائم ہے
عشق وطن میں جب سے دیوانہ ہو گیا ہوںپیدا شجر ہو جس سے وہ دانہ بن گیا ہوںبے شک زمیں میں مجھ کو خوش ہو کے اب ملا تودرد زباں ہوں سب کا افسانہ ہو گیا ہوںقربان ہوں عدو کے زور و ستم کے صدقےسہہ سہہ کے رنج و غم کو مردانہ ہو گیا ہوںدل میں چراغ جب سے روشن ہوا وطن کاپروا نہ جو کہ کچھ بھی پروانہ ہو گیا ہوںساقی شراب تیری اب کیا اثر کرے گیحب وطن کی مے پی مستانہ ہو گیا ہوںتاثیر عشق یارو دیکھی تری نرالیپی پی شراب الفت بیگانہ ہو گیا ہوں
کہا جو مرتے ہیں تم پر تو ہنس کے فرمایامریں تمہارے عدو دور پار ہولی میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books